آج کی بڑی خبر: ددھرنا ضرور ہو گا اور اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ ۔۔۔نامور تجزیہ کار ہارون الرشید نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے آزادی مارچ اور اسلام آباد کے ڈی چوک میں ممکنہ دھرنے کے خلاف حکومت بھی میدان میں آ چکی ہے اور حکومت نے اس کے لئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے جو وزیر دفاع پرویز خٹک کی قیادت میں اپوزیشن سے مزاکرات کرے گی

تاہم نامور تجزیہ کار ہارون رشید نے کہا ہے کہ جمیعت علمائے اسلام والے اب مذاکرات سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ یہ دھرنا اب ہر صورت ہو کر ہی رہے گا کیونکہ مذاکرات میں نہ توحکومت سنجیدہ ہے اور نہ ہی اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کا کوئی حامی ہے اس ملک میں کون سے ایسا سیاستدان ہے جو بغیر اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے اقتدار میں آیا ہو اگر یہ حکومت چلی گئی تو جو نیا آئے گا وہ بھی کچھ نہیں کر سکے گا اپوزیشن کو بتا دیں کہ وہ پُرامن احتجاج کریں لیکن اگر وہ پُرتشدد احتجاج کریں تو پر ریاست کو اپنا فرض نبھانا چاہئے لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کو بھی سمجھ نہیں آرہی کہ آخر کیا کیا جائے اگر مولانا فضل الرحمن کو وزیر اعظم بنا دیا جائے تو کون یہاں ٹھہرے گا بلکہ میں تو اپنی جگہ وغیرہ بیچ کر بیرون ملک چلا جاؤں گا اس پر بات کرتے ہوئے اینکر پرسن ارشد وحید کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن حکومت سے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے حامی ہیں دوسری جانب سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے پلیٹ لیٹس دوبارہ کم ہونا شروع ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے مسوڑوں سے خون آنا شروع ہو گیا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق یہ خطرے کی علامت ہے اب حکومت نے اسلام آباد سے ماہر ڈاکٹرز کا پینل لاہور بجھوانے کا فیصلہ کر لیا ہے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت یابی کے لئے دعا کی ہے

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *