مولانا فضل الرحمن اپنی کُرسی سے اُٹھ کر کھڑے ہوگئے اور آرمی چیف سے کیا کہا ؟ رؤف کلاسرا کا تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد)نیوز ڈیسک) جمیعت علمائے اسلام پاکستان کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں آزادی مارچ اسلام آباد میں پہنچ چکا ہے اور مولانا فضل الرحمن کی جانب سے حکومت کو دو دن کا الٹی میٹم مل چکا ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اُن کی متعدد لوگوں سے بات ہوئی ہے ۔

مولانا فضل الرحمن کسی بھی صورت میں وزیر اعظم عمران خاں سے استعفی نہیں لے پائیں گے پوری فوج عمران خاں کے ساتھ ہےمولانا فضل الرحمن اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ۔ معروف تجزیہ کار رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ عمران خاں نے جب ن لیگ کی حکومت کے خلاف دھرنا دیا تھا تو اُس وقت فوج اور حکومت کے آپس میں سخت اختلافات پائے جاتے تھے جس کے باوجود اُس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے استعفی نہیں دیا تھا اور عمران خاں نے 126 دن کا دھرنا دیا تھا اور خود ہی دھرنا ختم کر دیا تھا اب تو پوری فوج عمران خاں کے ساتھ ہے وہ کس طرح استعفی دیں گے مولانا فضل الرحمن کو یہ بھی پیغام پہنچایا گیا ہے کہ وہ جتنی اداروں کے خلاف بات کریں گے حالات اُتنا ہی مذاکرات کی جانب جائیں گے مولانا فضل الرحمن کی آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے آرمی چیف نے مولانا فضل الرحمن سے کہا کہ آپ جلسہ نہ کریں ملکی معاشی حالات ٹھیک نہیں ہیں اس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچ سکتا ہے تاہم مولانا فضل الرحمن اُٹھ کر کھڑے ہو گئے اور آرمی چیف کی بات سے انحراف کیا ۔ مولانا فضل الرحمن جب رخصت ہونے لگے تو آرمی چیف کی جانب سے ان کو پرفیوم کی ایک بوتل بھی دی گئی تاکہ معاملہ ٹھنڈدا ہو سکے اگر مولانا کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش اتنی اعلی سطح پر ہو گی تو پھر مولانا دھمکیاں تو ضرور دیں گے

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *