Breaking News

نواز شریف نے اپنے نواسے جنید صفدر کا رشتہ کس کی بیٹی کے ساتھ طے کردیا؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اندازہ ہے کہ مریم نواز کا والد سے روزانہ کی بنیاد پر رابطہ ہو رہا ہو گا اور شہباز شریف بھی سیاسی اور ملکی امور پر رہنمائی کے لیے نواز شریف سے رابطہ رکھتے ہوں گے۔بی بی سی میں اپنے تازہ ترین کالم میں سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ ’’ جمہوری طرزِ حکومت میں حکومت اور اپوزیشن ایک ہی گاڑی کے دو پہیے تصور کیے جاتے ہیں۔

حکومت کا کام گورننس ہے تو اپوزیشن کا کام حکومت کی نگرانی ہے۔ حکومت ملک چلاتی ہے تو اپوزیشن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ اس نے مستقبل میں حکومت کو چلانا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت سے لوگوں کو شکایت ہے کہ گورننس اچھی نہیں ہے اور فیصلے درست نہیں کیے جا رہے، دوسری طرف اپوزیشن بھی اپنا کردار صحیح طریقے سے ادا نہیں کر رہی۔اپوزیشن کا اسمبلی کے اندر جس طرح جاندار کردار ہونا چاہیے وہ نہیں ہے، پارلیمانی مباحث کی کوالٹی وہ نہیں جو پہلے ادوار میں ہوتی تھی، اپوزیشن ابھی تک اپنی صفوں کو درست نہیں کر سکی، نون لیگ کے پیپلزپارٹی کے حوالے سے تحفظات ہیں تو پیپلز پارٹی کو نون لیگ کی پالیسیوں پر شدید اعتراضات ہیں، مولانا فضل الرحمن دونوں بڑی جماعتوں کے رویے سے شاکی ہیں غرضیکہ اپوزیشن فی الحال بھان متی کا ایک کنبہ ہے جس سے کسی عوامی تحریک کی توقع عبث ہے۔اپوزیشن کے اس ڈھیلے ڈھالے انداز کو سمجھنا ہو تو اس کی لیڈرشپ کی سرگرمیوں پر غور کرنا ہو گا۔میاں نواز شریف لندن میں موجود ہیں، کبھی کبھار اپنے سٹاف یا بیٹوں کے ہمراہ واک کرتے یا اہلخانہ کے ہمراہ کافی پیتے اُن کی تصاویرسامنے آتی رہتی ہیں ۔ وہ سیاسی حوالے سے لب سیے ہوئے ہیں البتہ کوئی ن لیگی رہنما قید سے رہا ہو تو اُس کو فون کر کے اس کی خیریت ضرور دریافت کرتے ہیں۔

اندازہ یہی ہے کہ میاں نواز شریف زیادہ وقت پارک لین کے فلیٹ میں ہی گزارتے ہوں گے، اپنے پسندیدہ ایک دو کالم پڑھتے ہوں گے اور کبھی دن میں ایک دو بار پاکستانی نیوز چینل بھی دیکھ لیتے ہوں گے۔ان کے دونوں صاحبزادے حسین نواز اور حسن نواز اپنے اہل و عیال کے ساتھ لندن ہی میں موجود ہیں۔ نواز شریف حسین نواز کے بیٹے ذکریا کے ساتھ گپ شپ لگاتے ہوں گے، سیاست سے ہٹ کر انھیں وقت ملا ہے تو انھوں نے خاندانی امور کی طرف بھی توجہ دی ہے اور اپنے نواسے جنید صفدر اعوان کی شادی قطر میں آباد سیف الرحمن (احتساب بیورو والے) کے خاندان میں طے کر دی ہے۔ سلیمان شہباز اور ان کے بہنوئی علی عمران کے خاندان ویسے ہی لندن میں ہیں، بیگم شہباز شریف بھی دورہ لندن میں نواز شریف کو ملنے گئی ہوں گی، میاں نواز شریف کی چھوٹی بیٹی اسما اسحاق ڈار کی بہو ہیں اس لیے اس خاندان سے بھی میل جول ہوتا ہو گا۔دوسری طرف لاہور میں موجود شہباز شریف کورونا وائرس کی وجہ سے زیادہ وقت گھر پر ہی گزارتے ہیں۔ سیاسی گپ شپ اور سماجی ملاپ کی خاطر اپنی دوسری بیگم تہمینہ درانی کے ہاں ان کا اکثر چکر لگتا رہتا ہے۔شہباز شریف کے انداز و اطوار سے لگتا ہے کہ فی الحال وہ کسی احتجاجی مہم یا جلسے کرنے کا ماحول ساز گار نہیں پاتے، ویسے بھی نون لیگ کا ووٹر احتجاجی مہم یا دھرنوں کا قائل نہیں کیونکہ اس کی نون لیگ سے محبت ووٹ کی حد تک ہے۔

About Admin

Check Also

کیاواقعی ٹیلی نارپاکستان میں اپنےآپریشنز بند کررہاہے؟پی ٹی اے کا ردعمل آ گیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے مشہور ٹیلی کام کمپنی”ٹیلی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *