Breaking News

پہلی نوکری کا پہلا دن، پہلی بار کراچی آنے والے فیضان کو موت نے اُچک لیا،ایسی خبر کہ پڑھ کرہرآنکھ نم ہو جائے

کراچی (نیوز ڈیسک) خیال رہے کہ آج صبح کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 7 میں کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن میں کرنٹ لگنے سے فیضان جاں بحق ہوگیا تھا۔ متوفی نوعمر لڑکے کے چچا محمد فیاض کے مطابق مانسہرہ کے علاقے ماڑی مکرب شاہ کے رہائشی ان کے بھائی فدا محمد ٹرانسپورٹر تھے جن کا کچھ عرصہ قبل انتقال ہوگیا۔

مرحوم کے بیٹے 19 سالہ محمد فیضان کو انہوں نے مانسہرہ سے کراچی کے درمیان چلنے والی بس سروس پر کنڈیکٹر رکھوایا تھا۔محمد فیاض کے مطابق ان کا بھتیجا فیضان بس کے پہلے ہی چکر  پر پہلی بار 10 اگست کی رات کراچی پہنچا تھا اور اس نے بس کے ساتھ 11 اگست کی سہہ پہر 4 بجے واپس مانسہرہ روانہ ہو جانا تھا۔ فیاض کے مطابق قیوم آباد سی ایریا میں ان کے گھر کے ساتھ ہی بس کے آخری اسٹاپ پر گاڑی کھڑی کروا کر رات کو فیضان ان کے گھر پر آ کر ٹھہرا تھا اور  صبح ناشتہ کرکے چھوٹے بچوں کے ساتھ گلی محلے میں گھومنے کے لیے نکلا تھا۔چچا کے مطابق نوعمر فیضان قیوم آباد سے ملحق ڈیفنس فیز 7 میں زبیر مسجد کے قریب کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن کے ساتھ کھڑا ہو کر موبائل فون سے سیلفی بنا رہا تھا کہ دیوار میں کرنٹ پھیلنے کی وجہ سے چپک کر ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن کا مرکزی دروازہ موجود نہیں تھا جس بناء پر بچے کھیلتے ہوئے سب اسٹیشن کے اندر چلے گئے تھے جہاں اندر کی دیوار کے ساتھ فیضان کو کرنٹ لگا۔ 22 اگست کو متوفی کی اکلوتی بہن کی شادی بھی طے کی جاچکی ہے۔  پولیس کے مطابق ضابطے کی کارروائی کے بعد میت لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے۔سیلفی بنانے کے دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والا 19 سالہ فیضان بس پر کنڈکٹر کی پہلی نوکری کے پہلے دن پہلی بار کراچی آیا تھا اور اس  نے پیر کی شام قیوم آباد سے اسی بس پر گاؤں واپس لوٹ جانا تھا مگر اب اسی بس پر اس کی میت مانسہرہ روانہ کر دی گئی ہے۔

About Admin

Check Also

عدالت کا منفرد فیصلہ، ملزمان کو پنج وقتہ نماز پڑھنے، درخت لگانے اور مساجد کی صفائی کا حکم

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بجلی کی تاروں میں الجھ کر تین بھینسوں کے مرنے کے کیس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *