Breaking News

ستاون مسافروں سے بھرا طیارہ اڑا لیکن 37 سال بعد ایئر پورٹ پر کیوں اترا؟ طیارے کی حیران کن کہانی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جہاز کا سفر عموماً زندگی بھر یاد رہتا ہے کیونکہ بادلوں کے درمیاں خود کو محسوس کرنے کا الگ ہی مزہ ہے۔ طیارہ اڑان بھرنے سے لے کر لینڈ کرنے تک ہر منظر دل و دماغ میں محفوظ ہوجاتے ہیں۔ مگر جب آپ کی فلائٹ وقت پر لینڈ نہ ہو اور جائے وقوعہ پر پہنچنے کی بجائے کہیں اور لینڈ ہوجائیں۔

تو ڈر بھی لگے گا خوف بھی آئے گا لیکن انتظامیہ کہ جانب سے متعدد فلائٹس کی روانگی میں ایک قیام کے بعد دوسری جگہ پہنچ جائیں گے یہ تو آپ کو اطمینان ہوگا۔مگر کچھ سالوں پہلے ایسا حیران کر دینے والا واقعہ پیش آیا کہ دنیا بھر کے تمام ایئر کرافٹس ماہرین ، سی اےحکام اور لوگوں کو پریشان کرکے رکھ دیا۔ آخر کیا ہوگا ایسا کہ 37 سال کے بعد طیارہ پراسرار طور پر لینڈ ہوا مگر دوبارہ کہیں فضاء میں غائب ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ویب سائٹ ڈرائیووپیڈیا کے مطابق 1992 میں جنوبی امریکہ (وینزویلا) کے ائیر پورٹ کی حدود میں اچانک ایک طیارہ نمودار ہوا جس کی کسی بهی ریڈار پر نقل و حرکت نظر نہیں آ رہی تھی مگر ایئر پورٹ کے کنٹرول روم نے طیارے کے پائلٹ سے رابطہ کیا تو طیارے کے پائلٹ نے سوال کیا۔۔۔۔ہم کہاں ہیں ؟؟ کنٹرول روم کے منتظمین نے جواب دیا کہ آپ اس وقت وینزویلا کے ائیر پورٹ کی حدود میں ہیں ۔جس پر پائلٹ کی طرف سے گہری خاموشی چھا گئی۔ کنٹرول روم نے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کی اور پوچھا کہ آپ نے کہاں سے اڑان بھری تھی تو پائلٹ نے بتایا کہ : میں نے فلائٹ نیویارک ائیر پورٹ سے میامی کے لیے اڑان بھری تھی اور میرے ساتھ عملے کے چار افراد سمیت 57 مسافر سوار ہیں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ طیارے کی سمت کب، کہاں، کیسے، اورکس وقت تبدیل ہوگئی۔ جس پر کنٹرول روم نے پوچھا گیا کہ کس تاریخ کو لینڈ ہونا تھا۔

تاکہ ہم آپ کی مدد کرسکیں آپ کا رابطہ متعلقہ جگہ کرواسکیں۔ اس کے بعد پائلٹ کی جانب سے دیئے جانے والے جواب نے دنیا کو حیران کردیا ۔پائلٹ نے بتایا کہ: ہمیں 2 جولائی کو 9 بج کر 50 منٹ پر میامی ائیر پورٹ پر لینڈ کرنا تھا۔ جس پر کنٹرول روم میں لمبی خاموشی طاری ہوگئی۔ اور رکارڈ معلوم کرنے کے بعد انتظامیہ نے پوچھا کہ آپ کی فلائٹ کی معلومات تو میامی کے شیڈول میں موجود نہیں ہے۔ آپ تاریخ دوبار ہ بتائیں جس پر طیارے کے پائلٹ کے ساتھ ایک دوسرا پائلٹ جیمی تھا اس نے بتایا کہ ہم نے 1 جولائی 1955 کو سفر شروع کیا تھا اور ہمیں 2 جولائی 1955کو 9 بج کر 50 منٹ پر پہنچنا تھا لیکن ہمیں خود نہیں معلوم کہ ہمارا رابطہ کب کنٹرول روم سے ختم ہوا اور ہم یوں بھٹک گئے۔ چونکہ طیارہ وینزویلا کے قریب تھا ایئر پورٹ کے لینڈنگ ہونے والی تھی تو کنٹرول روم میں موجود ایک ملازم نے کہا کہ آپ بخیریت لینڈنگ کرلیں ہم آپ کی بھرپور مدد کرکے آپ کو جائے وقوعہ پر پہنچا دیں گے مگر شاید آپ کو تاریخ اور وقت کو لے کر غلط فہمی ہورہی ہے کیونکہ یہ اکتوبر 1992 چل رہا ہے اور آپ وینزویلا کی حدود میں لینڈنگ کر رہے ہیں۔ جس کے جواب میں پائلٹ کی خوفزدہ آواز سنائی دی ’’اوہ میرے خدا ‘‘کنٹرول روم کے مطابق پائلٹ نے واضح طور پر ٹھنڈی آہیں بھریں تاہم اور کوئی بات نہیں کی ،طیارے کو نہایت مہارت سے رن وے پر اتار دیا گیا ۔اس دوران پائلٹ اپنے ساتھی کو پائلٹ سے کہتا ہے اوہ جمیب یہ سب کیا ہو رہا ہے۔

یقیناً کچھ بہت غلط ہوا ہے ۔ اسی دوران پائلٹ کو کہا جاتا هے کہ آپ اطمینان رکھیں آپ کی مدد کی جائےگی، جس کے جواب میں پائلٹ نے کہا مجھے کسی مدد کی ضرورت نہیں ،اور طیارہ لینڈ کریو کی گاڑیاں جہاز کی طرف بڑھنے لگیں لیکن پائلٹ نے چیخ کر کہا ہمارے قریب مت آنا ہم جا رہے ہیں ۔ لینڈ کریو کے مطابق طیارے کے پائلٹ نے کاک پٹ کی کھڑکی کھول کر انہیں ہاتھ کے اشارے سے دور رہنے کا اشارہ کیا،کریو کے بیانات کے مطابق پائلٹ کے ہاتھ میں کوئی فائل پکڑی ہوئی تھی اورطیارے کے مسافروں کے خوفزدہ چہرے کھڑکیوں سے چپکے ہوئے تھے ، اور طیارے نے تیزی سے اڑان بھری اور بادلوں میں غائب ہو گیا۔ اس تمام کارروائی کا ریڈارز پر کوئی ریکارڈ موجود نہیں لیکن کنٹرول روم اور لینڈ کریو کے عملے سے روابط ہی طیارے کی گمشدگی ، دوبارہ ملنے اور ایک بار پھر غائب ہونا اس کے علاوہ 1955 کا کیلنڈر تھا جو کہ کاک پٹ کی کھڑکی سے پائلٹ کے ہاتھ سے گر گیا تھا ،یہ دو واحد ثبوت ہیں جو اس واقعے کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔ اس طیارے کا آج تک دوبارہ کوئی پتا نہیں چل سکا ،جولائی 1955 کو فلائٹ نمبر 914 نے نیویارک ایئرپورٹ سے میامی کے لیے پرواز کی تاہم پرواز سے کچھ دیر بعد طیارہ ریڈار سے غائب ہو گیاتھا اور تمام رابطے ختم ہو گئے تھے ۔ تمام تر تحقیقات کے بعد اس طیارے کو لاپتہ قرار دیتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ یقینی طقر پر طیارہ کہیں گر کر تباہ ہوگیا ہے جس کا کوئی سراغ نہ مل سکا ہوسکتا ہے کہ تمام عملہ اور مسافر جاں بحق ہوگئے اور فضائی تاریخ میں ایک جہاز ہمیشہ کے لیے لاپتہ قرار دے دیا گیا لیکن اچانک اسی فلائٹ نمبر 914 نے 37 سال بعد اپنے عملے اور 57 مسافروں سمیت وینزویلا ایئرپورٹ پر اپنے ہونے کا ناقابل تردید ثبوت چھوڑا جوکہ فضائی تاریخ میں ناقابلِ یقین اور حیرت انگیز واقعہ ہے جس کو آج تک سلجھایا نہ جاسکا ۔

About Admin

Check Also

یہ بچہ کتوں کی طرح کیوں بھونکتا ہے ۔۔ جانیے اس بچے کا تعلق کس ملک سے ہے اور اسے یہ خطرناک بیماری کیسے لگی؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کتے کے کا ٹنے کو چھوٹی بات نہ سمجھیں اور تمام احتیاطی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *