Breaking News

جہانگیر ترین کا اپنی جماعت بنانے کا فیصلہ، عمران خان نے اپنے جگری یارکو فون گھما دیا ، آگے سے کیا جواب ملا ؟ آج کی بڑی خبر

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کامران خان کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور جہانگیرترین کے انٹرویو کے بعد یہ خبریں عام ہیں کہ دونوں کے تعلقات بحال ہونے والے ہیں، جس کے شک و شبہات سینئر صحافی رؤف کلاسرا اور عامر متین نے دور کردیئے،رؤف کلاسرا نے کہا کہ مجھے لگتا ہے۔

دو بھائی قُم کے میلے میں کھوگئے ہیں، انٹرویو دیکھ کر لگا جیسے عمران خان اور جہانگیر ترین رو جائیں گے،عامر متین کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین اور عمران خان دونوں سیاست کررہے ہیں۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اسی طرح کرتی ہیں ، بندہ لانا ملاوانا۔۔ یہ تمام پارٹی کے راز ہوتے ہیں۔جہانگیر ترین کے پاس عمران خان کے جتنے راز ہونگے میرا نہیں خیال کسی اور کے پاس ہونگے تو ان کوایک حد سے زیادہ دیوار کے ساتھ نہیں لگایا جاسکتا، عمران خان بھی یہ برداشت نہیں کرسکتے، عمران خان اور جہانگیر ترین نے اپنے انٹرویو سے سب کو بتادیا کہ ہم میں اب بھی محبتیں ہیں اور دراڑیں ختم ہوسکتی ہیں۔رؤف کلاسرا نے کہا کہ جہانگیر ترین کی پارٹی میں ایک کنگ میکر یا پولٹیکل گارڈ فادر کی حیثیت تھی، اسی طرح جس طرح مشرف کے دور میں چوہدری شجاعت کی تھی،کہ کوئی بیوروکریٹ کہیں نہیں لگ سکتا یا کسی کو نوکری نہیں دی جاسکتی، وہ ہی سب کچھ ہینڈل کرتے تھے ساری شکایات ان کے دربار میں آتی تھی ایسا ہی نواز شریف کے دورمیں اسحاق ڈار صاحب کرتے تھے،عامر متین نے کہا کہ جہانگیرترین اس بات کو سب کے سامنے کہتے تھے۔ کہ اگر کسی کوئی کام ہے تو مجھ سے رابطہ کریں۔رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ جہاں تک دونوں کی ناراضگی کی بات تھی وہ یہ تھی کہ قیاس آرائیاں ہونے لگیں ۔

 اورجہانگیر ترین ایسے لوگوں سے مل رہے تھے جنہیں عمران خان پسند نہیں کرتے تھے وہ اپنی پارٹی بنانے کی کوشش کررہے تھے یہ چیزیں عمران خان تک پہنچیں جس کی وجہ سے دونوں میں دراڑیں آئیں۔رؤف کلاسرا نے کہا کہ اب عمران خان صاحب کو ضرورت پڑی ہے کہ جہانگیرترین جن ساتھیوں کو لائے پی ٹی آئی میں وہ آوازیں اٹھانے لگے ہیں، ترین صاحب پارٹی کا سرمایہ ہیں، کیونکہ عمران خان تو سب کو جانتے نہیں تھے، جہانگیر ترین کے اثر ورسوخ سے ہی سب تھا تو اب اسی وجہ سے عمران خان واٹس ایپ اور میسجز کے ذریعے تعلقات بحال کررہے ہیں،عمران خان اس وقت اسمارٹ کارڈ کھیل رہے ہیں۔ وہ ترین صاحب کو کہہ رہے ہیں کہ ضرورت پڑ گئی ہے، دوبارہ کام کریں،سیاست میں کوئی کسی کا نہیں ہوتا۔ دوسری جانب سینئر تجزیہ کار و صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ فردوس عاشق اعوان اور جہانگیر ترین میں عمران خان پر تنقید کی جرآت نہیں اس لئے انہوں نے اعظم خان کو قربانی کا بکرا بنایا ہوا ہے۔سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے مزید کہا کہ پی آئی ڈی میں فردوس عاشق اعوان کے حلقہ انتخاب سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد لوگوں کو بھرتی کیا گیا، فردوس عاشق اعوان اعظم خان پر اٹیک کر کے یا بلیک میل کر کے کوئی عہدہ حاصل نہیں کرسکتی ہیں۔

About Admin

Check Also

’’ وزیر اعظم بن جائیں یا پھر وزیر اعلیٰ ‘‘ پیپلز پارٹی کی مونس الٰہی کو پیشکش، چوہدری پرویز الٰہی نے بھی اہم فیصلہ کر لیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستانی سیاست دان اقتدار کے حصول کے لئے کچھ بھی کر سکتے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *