Breaking News

پندرہ گناہ جن کے ارتکاب سے الله شکلیں بگاڑ دیتے ہیں

استغفراللہ ۔۔۔ محترم ناظرین و سامعین آج ہم جس نازک دور سے گزر رہے ہیں اس میں ہر شخص نفسہ نفسی کا شکار نظر آتا ہے اور جتنی فکر ہمیں دنیا سمیٹنے کی ہے اتنا ہی دور ہم دینی تعلیمات سے ہوتے جارہے ہیں۔ یوں تو ہم اپنے علماء اور مساجد کے اماموں سے قیامت کی کچھ بڑی نشانیوں کے بارے میں سنتے رہتے ہیں۔

لیکن آج ہم آپ کو 15 حیران کردینے والی نشانیاں بتانے جارہے ہیں جنکو سننے کے بعد آپ کو حضورؐ کے بے انتہا علم کہ نہ صرف اندازہ ہوگا بلکہ اُ ن نشانیوں کے متعلق ارشاد فرمایا کہ میری امت 15قسم کی برائیوں کا ارتکاب کرے گی، جو آج کے دور میں ہمارے معاشرے میں ہی نہیں بلکہ ہمارے گھروں میں ہورہی ہیں، انکو سُن کرآپ خود کہیں گے کہ یہ سب حرف بحرف ہمارے گھروں میں آج ہورہا ہے۔ اور اِن براؤں کے متعلق یہاں تک ارشاد فرمایا کہ اگر یہ برائیاں ہونے لگ جائیں تو اللہ تعالی ہواؤں کو پاگل، زمینوں کو بے وفا اورزمینوں کو سرکش بنادیتے ہیں۔ تو سوچا کیوں نہ آپ سب ناظرین کے سامنے بھی یہ باتیں رکھ دی جائیں تاکہ جانے انجانے میں جن چیزوں کا ہم شکار ہورہے ہیں، ان نشانیوں کو جان کر ہم ان سے خود بھی بچ سکیں اور اپنے گھر والوں کو بھی بچا سکیں۔ تو محترم ناظرین و سامعین آپ حضرات کے علم میں اضافے کیلئے ایک بات بتاتے چلیں کہ اب تک جتنی نشانیوں کے متعلق حضور نے پیشنگوئی پرفرمائی وہ آج حرف بحرف پوری ہورہی ہیں۔ان واقعات اور نشانیوں سے صرف مسلمانوں کا ایمان مظبوط ہورہا ہے بلکہ ہمارے غیر مسلم بھائیوں کو بھی ان واقعات سے نفع پہنچے گا۔

اور وہ بھی یہ سن کر یقین کرلیں گے کہ داعی اسلام علیہ الصلاۃ والسلام اُن سب انسانوں کے سردار تھے جنہیں اُ س مالک حقیقی سے خصوصی تعلق تھا۔ تو پیارے دوستوں یہ نشانیاں جن کے متعلق آپ کو بتانے جارہے ہیں، یہ حضورؐ کے بے انتہا ء سمدر علم کا ایک قطرہ “علمک مالم رکن تعلم ” یعنی خدائی علم کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہیں۔ چناچہ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت پندرہ قسم کی برائیوں کا ارتکاب کرے گی تو امت پر بلائیں اور مصیبتیں آن پڑیں گی۔ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کیا کیا برائیاں ہیں؟ تو اسکے جواب میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ نمبر ایک۔ جب مال غنیمت کو شخصی دولت بنا لیا جائے گا۔ مال غنیمت کو دولت قراردئیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اگرسلطنت کے اہل طاقت وثروت اور اونچے عہدے دار مال غنیمت کو شرعی حکم کے مطابق تمام حقداروں کو تقسیم کرنے کی بجائے خود اپنے درمیان تقسیم کر کے بیٹھ جائیں اور محتاج و ضرورت مند اور چھوٹے لوگوں کو اس مال سے محروم رکھ کر اس کو صرف اپنے مصرف میں خرچ کرنے لگیں تواس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ اس مال غنیمت کے تمام حقداروں کا مشترکہ حق نہیں سمجھتے بلکہ اپنی ذاتی دولت سمجھتے ہیں۔ نمبر دو۔

جب امانت کو غنیمت سمجھ لیا جائے گا۔مانت کو مال غنیمت شمار کرنے سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس امانتیں محفوظ کرائی جائیں وہ ان امانتوں میں خیانت کرنے لگیں اور امانت کے مال غنیمت کی طرح اپنا ذاتی حق سمجھنے لگیں جو دشمنوں سے حاصل ہوتا ہے۔ نمبرتین۔ جب زکاۃ کو تاوان سمجھا جائے گا۔ زکوٰۃ کو تاوان سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ کا ادا کرنا لوگوں پر اس طرح شاق اور بھاری گزرنے لگے کہ گویا ان سے ان کا مال زبردستی چھینا جا رہا ہے اور جیسے کوئی شخص تاوان اور جرمانہ کرتے وقت سخت تنگی اوربوجھ محسوس کرتا ہے۔ نمبرچار۔علم دین کو دنیا طلبی کیلئے سیکھا جائے گا۔ عمل اور اخلاق و کردار کی اصلاح و تہذیب انسانیت اور سماجی کی فلاح و بہود اور خدا و رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قرب وخوشنودی حاصل کرنا نہ ہو بلکہ اس کے ذریعہ دنیا کی عزت ،مال ودولت، جاہ ومنصب اورایوان اقتدار میں تقرب حاصل کرنا مقصود ہو۔ نمبر پانچ۔ جب مرد اپنی بیوی کی اطاعت کرنے لگے گا۔ مرد کا بیوی کی اطاعت کرنا یہ ہے کہ خاوند رن مرید ہو جائے اور اس طرح بیوی کا حکم مانے اور اس کی ہر ضرورت پوری کرنے لگے کہ اس کی وجہ سے خدا کے حکم و ہدایت کی صریح خلاف ورزی ہو۔ نمبرچھ۔ جب مرد اپنی ماں کی نافرمانی کرنے لگے گا۔

ماں کی نافرمانی کرنے سے مراد یہ ہے کہ ماں کی اطاعت و فرمانبرداری کا جو حق ہے۔اس سے لاپرواہ ہو جائے اور کسی شرعی وجہ کے بغیر اس کی نافرمانی کر کے اس کا دل دکھائے، واضح رہے کہ یہاں صرف ماں کی تخصیص اس اعتبار سے ہے کہ اولاد کے لئے چونکہ باپ کی بہ نسبت ماں زیادہ مشقت اور تکلیف برداشت کرتی ہے اس لئے وہ اولاد پر باپ سے زیادہ حق رکھتی ہے۔نمبر سات۔ آدمی اپنے دوست کیساتھ نیک سلوک کرے گا اور اپنے باپ کیساتھ سختی اور بداخلاقی سے پیش آئے گا۔ دوستوں کے قریب اور باپ کودور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنا وقت باپ کی خدمت میں حاضر رہنے، اس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور اس کی دیکھ بھال میں صرف کرنے کے بجائے دوستوں کے ساتھ مجلس بازی کرنے، ان کے ساتھ گپ شپ اور سیر و تفریح کرنے میں صرف کرے اور اپنے معمولات وحرکات سے ایسا ظاہر کرے کہ اس کو باپ سے زیادہ دوستوں کے ساتھ تعلق وموانست ہے۔ نمبر آٹھ۔ مسجد میں شور غُل ہونے لگے گا۔ مسجد میں شوروغل کرنے سے مراد یہ ہے کہ مسجدوں میں زور زور سے باتیں کی جائیں، چیخ و پکار کے ذریعے مسجد کے سکون میں خلل ڈالا جائے اور اس کے ادب واحترام سے لاپرواہی برتی جائے۔

نمبر نو۔ جب قبیلہ کا سردار اُنکا بدترین شخص بن جائے گا۔ کسی قوم و جماعت کا سردار اس قوم کے فاسق کے ہونے سے مراد یہ ہے کہ قیادت وسیادت اگر ایسے لوگوں کے سپرد ہونے لگے جو بدکردار، بدقماش اور بے ایمان ہوں تو یہ بات پوری جماعت اور پوری قوم کے تباہی کی علامت ہو گی۔ نمبر دس۔ جب قوم کا سربراہ ذلیل ترین شخص ہوگا۔ یعنی اگر کسی قوم وجماعت کے زعما ان لوگوں کو قرار دیا جانے لگے جو اپنی قوم و جماعت کے کمینہ صفت، بد کردار اور رذیل ترین ہوں تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس قوم وجماعت کی تباہی کے دن آ گئے ہیں۔ نمبر گیارہ۔ جب آدمی کا اعزاز وکرام اسکے شر سے بچنے کیلئے کیا جائے گا۔ آدمی کی تعظیم، اس کے فتنہ و شر کے ڈر سے کی جانے کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کی تعظیم واحترام کا معیا ر اسکی ذاتی فضیلت وعظمت نہ ہو بلکہ اس کی برائی اور اس کے شر کا خوف ہو۔ یعنی کسی شخص کی اس لئے تعظیم کی جائے کہ وہ دوسروں کو نقصان پہنچانے یا ستانے کی طاقت رکھتا ہے، جیسے کسی فاسق و بدقماش کو اقتدار وغلبہ حاصل ہو جائے اور لوگ اس کی عزت اور اس کی تعظیم کرنے پر مجبور ہوں۔ نمبر بارہ۔ لوگ کثرت سے  پینے لگیں گے۔ شرابوں، جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ یہاں نوشی کی تمام انواع واقسام اور دیگر دوسری ایسی اشیاء بھی مراد ہیں۔

نمبر تیرہ۔ مرد بھی ریشم کے کپڑے پہننے لگیں گے۔ اب آج کے حالات آپکے سامنے ہی ہیں۔ ریشم تو دور کی بات اب مرد عورتوں کے فیشن اور عورتیں مردوں کے فیشن اپنا رہے ہیں۔ نمبر چودہ۔ ناچنے گانے والی عورتوں اور گانے بجانے کی چیزوں کو اپنا لیا جائے گا۔ گانے والیوں سے مراد گلوکارائیں، رقاصائیں، ڈومنیاں اور نائنیں وغیرہ ہیں۔ اسی طرح باجوں سے مراد ہر قسم کے ساز و باجے اور گانے بجانے کے آلات ہیں جن کوشرعی اصطلاح میں مزامیر کہا جاتا ہے جیسے ڈھولک، ہارمونیم، طبلہ، سارنگی اور شہنائی وغیرہ۔ نمبر پندرہ۔ اس امت کے پچھلے لوگ اگلوں پر لعنت بھیجیں گے۔ تو پھر سرخ آندھیوں اور زلزلوں ، زمین میں دھنس جانے ، شکل بگڑ جانے اور پتھروں کے برسنے کا انتظار کرو۔ اور ان نشانیوں کا انتظار کرو جو یکے بعد دیگرے اس طرح آئیں گی جیسے کسی ہار کی لڑی ٹوٹ جانے سے اسکے دانے یکے بعد دیگرے بکھرتے چلے جاتے ہیں۔ قارئین کرام! آج ہمارے اعمال اور ہماری حکومتوں کا طرز عمل آپ سب کے سامنے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے زلزلوں کی کثرت ہے، گزشتہ روز بھی پاکستان کے بیش تر شہر زلزلے سے لرز اٹھے جہاں زلزلوں نے زمین کو چیر کر رکھ دیا، ان زلزلوں کے بارے میں سائنسی ماہرین کا نقطہ نظر اپنی جگہ، مگر دین اسلام کی روشنی میں زلزلوں کی کثرت احکام الٰہی سے رد گردانی و نافرمانی کے سبب ہے۔ قرآن کریم کی سورۃ الحج میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرجائو، بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔‘‘ بلاشبہ کوئی چیز اذن الٰہی کے سوا حرکت نہیں کرسکتی خواہ درخت کا پتہ ہو یا زمین کا زلزلہ اور سائنسدانوں کے مختلف مفروضات محض وہم و گمان ہیں۔ قدرتی آفات سے نجات کا واحد ذریعہ اطاعت خداوندی اور کثرت استغفار ہے۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنی اطاعت اور بندگی اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق زندگی گزارنے والا بنائے اور ہر قسم کی آفات سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔

About Admin

Check Also

صرف تین دن سورہ کوثر کا وظیفہ اس طرح کرلیں تمام جائز خواہشات ایک دم پوری ہو جائیں گی زندگی بھر دعا دیں گے

اللہ اکبر ۔۔۔ صرف3 دن سورۃ کوثرکا یہ وظیفہ کرلیں ںسورة کوثر کا بہت ہی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *