Breaking News

بلوچوں کا حق پنجابی یا سندھی نہیں بلکہ کون کھاتا ہے ؟ ایک بلوچ سردار کی فیصل آبادی بیگم سے منسوب یہ سچا واقعہ پاکستانیوں کے چودہ طبق روشن کردے گا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جنوری2017ء میں ایل پی جی کا ایسا ہی ایک جہاز پلاٹ نمبر ساٹھ پر لایا گیا اسے اسکریپ کرنے کے لئے مزدوروں کے حوالے کر دیا گیا ،جہاز کے ٹکڑے کرنے سے پہلے اس سے سارا تیل نکال لیا جاتا ہے تاکہ ویلڈنگ برنر سے آگ نہ بھڑک اٹھے ۔ بدقسمتی سے اس جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔

پچپن مزودر اندر کام کر رہے تھے بہت سوں نے سمندر میں چھلانگ لگا کر جان بچائی اور جو اندر رہ گئے انکا کچھ پتہ نہیں چلا ایک رپورٹر کی حیثیت سے مجھے فوراوہاں پہنچنے کے لئے کہا گیا میں وہاں گیا اورپھر ایک اور ہی دنیا دیکھی مزدوروں کی یہ دنیا سو فیصد رسک پر تھی،ان کے لئے برائے نام احتیاطی اقدامات تھے گڈانی کراچی سے قریب ہی ہے جب وہاں میڈیا کی گاڑیاں قطار سے لگیں تو کمشنر صاحب کو بھی آنا پڑا جنہیں صحافیوں نے آڑے ہاتھوں لیا میں نے کمشنر صاحب بہادر سے عرض کیا جناب ! اتنی شدید آگ تھی اور آپ لوگ کراچی سے آنے والی اسنارکل کا انتظار کر رہے تھے ،کیوں؟‘‘۔ جواب ملا اس لئے کہ ہمارے پاس اسنارکل ہے ہی نہیں ،میں نے حیرت سے کہا گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں اسنارکل نہیں ! انہوں نے میرے ہی لہجے میں جواب دیا صرف گڈانی میں نہیں پورے بلوچستان میں ایک بھی آگ بجھانے والی اسنارکل نہیں ہے۔ آج کا بلوچستان بالکل ویسا کا ویسا ہی ہے،لٹا پٹا،لق و دق صحرا جیسا جہاں کچہری میں دھماکہ ہو جائے توکوئٹہ کے جنرل اسپتال میں بستر کم پڑ جاتے ہیں ،پورے بلوچستان میں امراض قلب کا اک اسپتال نہیں،آج بھی بلوچستان کے پاس آگ بجھانے والی ایک بھی جدید گاڑی نہیں ،پورے بلوچستان کے لئے صرف کوئٹہ میں پوسٹ مارٹم کی سہولت موجود ہے ،چندیونیورسٹیاں ہیں۔

لیکن تعلیمی معیار شرمناک حد تک مایوس کن اور اسکا ذمہ دار بلوچستان کا کرپٹ سرداری نظام اور ہماری حکومتیں ہیں جو سرداروں کو قابو کرکے بلوچستان کو قابو کرنا چاہتی ہیں اور یہ سردار ان بلوچوں سے کتنے مخلص ہیں اسکا اندازہ ان کے رہن سہن سے ہی ہوجاتا ہے جنکا ہر ویک اینڈ کراچی کے ڈیفنس اور کلفٹن میں گزرتی ہے،این جی او سے وابستہ ایک دوست نے بتایا کہ اک بار نواب اکبر بگٹی صاحب کے اک صاحبزادے کا فون آیا وہ کہنے لگے اک علاقے میں ہیپاٹائٹس کی ویکسینیشن کرانی ہے ،میں نے کہا نواب صاحب ! حکم کریں کب ڈیرہ بگٹی پہنچوں ؟ کہنے لگے وہاں نہیں فیصل آباد جانا ہے دراصل ،فیصل آباد میں نواب صاحب کی چوتھی بیگم کا میکہ تھا بیگم کا اپنے علاقے والوں کے لئے دل دکھا ہوگا تو انہوں نے نواب صاحب سے ذکر کردیا اب بیگم کی بات کیسے ٹالی جاتی نواب صاحب نے ویکسینیشن کا انتظام کرادیا لیکن انہیں پھر بھی ڈیرہ بگٹی کے غریب بگٹیوں کا خیال نہیں آیا جہاں پینے کامٹیالا پانی گردے گھول کر پی جاتا ہے بلوچستان ناراض ہے،شدید ناراض ہے،اس ناراضگی نے نئی دہلی کو سازشیں کرنے کا موقع دے دیا ہے،بلوچوں کے ہاتھوں میں کلاشنکوف اور راکٹ لانچر دے دیئے ہیں اسے منا لیں یقین کریں بلوچ پہاڑوں سے پاکستان کا پرچم اٹھائے اتریں گے انہیں سینے سے لگانا ہوگا اپنا بنانا ہوگا عزت دینی ہوگی امن و امان کا اسی فیصد مسئلہ اسی معانقے سے اسی مصافحے سے خل ہوجائے گا بشرط کہ ہم خلوص دل سے آگے بڑھیں۔ بشکریہ نامور کالم نگار احسان الرحمٰن۔

About Admin

Check Also

ایک امیر کبیر شخص کے بیڈروم کی صفائی ایک جوان العمر لڑکی کرتی تھی ۔ ،ایک دن وہ اتفاق سے وقت سے پہلے گھر آگیا جب یہ اپنے کمرے میں آیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک شخص تھا جو بڑا امیر و کبیر تھا ، بہت بڑا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *