جوانی کی موت ! مگر جنازے میں صرف ایک انسان کی شرکت ،وہ کون تھا؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) دنیا میں آئے ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے جس کا ذکر آخری آسمانی کتاب قرآن مجید میں بھی موجود ہے اگر کوئی جاننا چاہے کہ اس کا کون سا دوست یا فیملی ممبر اس سے کتنا مخلص ہے تو شائد اس کیلئے اسے مرنا ہوگا کہ کسی کی موت پر ہی اس کے پیاروں کی آزمائش ممکن ہوتی ہے ۔

لیکن اس کیلئے سچ مچ مرنے کی ضرورت نہیں ، جی ہاں مسلمان ملک بوسنیا کے اس شخص عامر ویہابوک نے جھوٹ موٹ کا مرکر اپنے پیاروں کو آزمانے کا فیصلہ کیا ۔ تقریباً45 سالہ نوجوان عامر جاننا چاہتا تھا کہ اس کے دوست اور رشتہ دار اس سے کتنی محبت کرتے ہیں ۔ اس کیلئے اس نے اپنی موت کا ڈرامہ رچایا اور سب سے پہلے اس نے ایک جعلی ڈیتھہ سرٹیفکیٹ بنوایا اور پھر تجہیز و تکفین کرنے والے ایک شخص کو رشوت دے کر اپنے منصوبے میں ساتھ ملا لیا، جس نے ایک تابوت کا انتظام کردیا۔ پھر عامر نے خود ہی اپنا ایک فرضی دوست بن کر اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے نام ایک پیغام بھیجا کہ میرے دو ستو ہمارا پیارا دوست عامر بہت جلد ی ہمیں چھوڑ کر دنیا سے چلا گیا ہے دو روز بعد اس کی تدفین ہوگی ، ہم سب کو اسے الوداع کہنے کیلئے وہاں اکٹھے ہونا چاہیے ۔آپ سوچے کہ عامر کے اس پیغام کے بعد دو روز بعد اس کی جعلی تدفین میں کتنے لوگ شریک ہوئے ہوں گے ؟آپ حیران ہوں گے کہ صرف ایک خاتون تدفین کیلئے بتائی گئی جگہ پر آئی اور وہ عامر کی ماں تھی ۔

About Admin

Check Also

نظام عدل۔۔۔ایک شاندار تحریر

اسلام آباد(نیوز ڈدیسک) اﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ حلا ل ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *