Breaking News

صدر نے اپنی گاڑی رکوا کر جنازے کو کندھا دیا

اسلام آباد(نیوز  ڈیسک) پہلے بات سابق صدر پاکستان جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی، دنیا میں بہت بہت باہمت اور حوصلہ مند خواتین نے اپنی محنت کے بل بوتے پر اپنا نام کمایا ہے سوشل میڈیا پر پاکستان کی پہلی باہمت اور باحجاب پاکستان خاتون پائلٹ کا واقعہ گردش کر رہا ہے جس پڑھ کر آپ بھی انہیں داد دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔

ڈاکٹر شہناز لغاری کہتی ہیں کہ میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی،وہاں حجاب لباس کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ سو شروع ہی سے حجاب لیا. ہاں شعوری طور پر حجاب کی سمجھ آج سے پندرہ سال پہلے آئی جب خود قرآن کو اپنی آنکھوں سے پڑھنا اورسمجھنا شروع کیا، ہم جس ماحول میں پروان چڑھے وہاں حیا اور حجاب ہماری گھٹیوں میں ڈالا گیا تھا۔ سو الحمدللہ کبھی حجاب بوجھ نہیں لگا،حجاب کی وجہ سے کبھی کوئی پریشانی یا رکاوٹ نہیں آئی بلکہ میرا تجربہ قران کی اس آیت کے مترادف رہا ’’تم پہچان لی جاو اور ستائی نہ جاو‘‘ الحمدللہ! حجاب نے میری راہ میں کبھی کوئی مشکل نہیں کھڑی کی بلکہ میں نے اس کی بدولت ہرجگہ عزت اور احترام پایا، اک واقعہ سنانا چاہوں گی، پرویز مشرف دور میں پاک فوج کی ’ایکسپو ایکسپو2001‘ منعقد ہوئی تھی، یہ ایک بڑی گیدرنگ تھی۔ اس کی تقریب میں واحد باحجاب میں ہی تھی، کچھ خواتین ( آفیسرز کی بیگمات ) نے اشاروں کنایوں میں احساس دلایا کہ ایسی جگہوں پر حجاب کی کیا ضرورت!! میں مسکرادی، کچھ دیر میں جنرل مشرف خواتین سے سلام کرنے لگے۔ خواتین جاتیں، ان سے ہاتھ ملاتیں، ان کے ساتھ لگ لگ کر تصاویر بناتیں، میں کچھ اندر سےگھبرائی ہوئی تھی، اسی اثنامیں جنرل مشرف میری جانب مڑے، مجھے حجاب میں دیکھا۔

تو اپنے دونوں ہاتھ کمر پر باندھ لیے اور جاپانیوں کے طریقہ سلام کی طرح تین بار سر جھکا کر سلام کیا۔ خواتین کا مجمع میری جانب حیرت سے تک رہا تھا، میری آنکھوں میں نمی اور فضاوں میں میرے رب کی گونج سنائی دے رہی تھی “تاکہ تم پہچان لی جاؤ اور ستائی نہ جاو”۔ ماشاء اللہ۔۔۔ جبکہ اب ایک اور واقعہ جو سابق صرر پاکستان جنرل ضیاء الحق کا ہے یہ واقع 16 نومبر 1983 کا ہے جب صدرِپاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے سیکورٹی کے تمام نظام کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک مسلمان کے جنازے کو کندھا دیا اور اپنے حسن اخلاق کی  وجہ سے جنازے میں شریک ہزاروں افراد کے دل جیت لئے، جنرل ضیاء الحق اسلام آباد جا رہے تھے کہ راستے میں ایک جنازہ آ رہا تھا یہ جنازہ حاجی ولایت خان کا تھا جنازے میں ہزاروں افراد شریک تھے جنازہ جب قریب آیا تو صدر کے سیکورٹی کے عملے نے ہوٹر بجا کر راستہ صاف کرنے کی کوشش کی تو صدر پاکستان ضیاء الحق نے انہیں منع کر دیا اور خود اپنی کار سے اُتر کر جنازے کو کندھا دیا اور جنازہ گاہ تک گے؛ اور وہاں سے فارغ ہونے کے بعد اسلام آباد روانہ ہو گئے۔

About Admin

Check Also

’’ اس بار معاملہ سیریس ہے‘‘ عمران خان گھمبیر صورتحال چھوڑ کر سعودی عرب کیوں روانہ ہوئے؟ تہلکہ خیز انکشاف کر دیا گیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) واضح رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان سعودی ولی عہد شہزادہ محمد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *