Breaking News

’’نواز شریف چار ہفتے میں واپس نہ آئے تو میں۔۔۔۔۔‘‘ سینئر صحافی حامد میر کا تہلکہ خیز اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ذرائع نے بتایا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کے لئے لندن گئے تا ہم ابھی تک واپس نہ آئے اور لندن میں علاج بھی نہیں کروا رہے انکی کافی پینے اور واک کرنے کی تصاویر سامنے آ رہی ہیں لیکن کسی ہسپتال میں چیک اپ کی کوئی تصویر سامنے نہیں آئی۔ نواز شریف کی واپسی کے لئے پاکستان کی حکومت نے برطانوی حکومت کو خط لکھ دیا ہے،۔

نواز شریف کی ضمانت انکے بھائی شہباز شریف نے عدالت میں دی تھی ، شہباز شریف تو پاکستان میں ہیں لیکن نواز شریف کو واپس لانے بارے کوئی بات نہیں کی جا رہی۔ نواز شریف کو جب عدالت نے باہر جانے کا کہا تھا اور اجازت دی تھی، اسوقت اینکر پرسن و صحافی حامد میر کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نواز شریف عدالت کی منظوری سے گئے چار ہفتے کے لئے، اگر چار ہفتے پورے نہ ہونے پر واپس نہیں آتے تو سب سے زیادہ شور میں مچاؤں گا، جس پر سینئر صحافی و اینکر پرسن نے کہا کہ اس نے آنا ہی نہین، حامد میر نے حیران ہو کر کہا کہ نہیں آنا۔ نواز شریف کو جب عدالت نے باہر جانے کا کہا تھا اور اجازت دی تھی، اسوقت اینکر پرسن و صحافی حامد میر کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نواز شریف عدالت کی منظوری سے گئے چار ہفتے کے لئے، اگر چار ہفتے پورے نہ ہونے پر واپس نہیں آتے تو سب سے زیادہ شور میں مچاؤں گا، جس پر سینئر صحافی و اینکر پرسن نے کہا کہ اس نے آنا ہی نہین، حامد میر نے حیران ہو کر کہا کہ نہیں آنا۔ اب چار ہفتے تو کیا چار مہینے سے بھی زیادہ عرصہ ہو چکا ، نواز شریف لندن میں ہیں، انکی سامنے آنے والی تصویروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نواز شریف صحتمند ہو چکے ہیں اور انکے پلیٹ لیٹس کا کوئی مسئلہ نہیں رہا، نواز شریف لندن میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں، واپس آنے کا نام نہیں لے رہے،لیکن دوسری جانب حامد میراپنے دعوے کے برعکس خاموش ہیں اور انہوں نے نواز شریف کی واپسی پر کوئی شور نہیں مچایا۔

About Admin

Check Also

بوٹ پالش بھی مہنگی ہو گئی اس لیے اب پالش سے پہلے ۔۔۔ مہنگائی کے طوفان پر حامد میر بھی بول پڑے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)یاد رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے یوٹیلیٹی سٹورز پر مختلف برانڈز کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *