Breaking News

شیخ رشید کے کہنے پر شوکت عزیز نے 2 ارب ڈالرز مگراب عمران خان نے کتنے ارب ڈالر بانٹ دیئے؟ تہلکہ خیز انکشاف، نیا پنڈورا باکس کھل گیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا تھا اور عمران خان صاحب 2014 ء کے دھرنے میں کہتے تھے کہ نواز حکومت کسان دشمن ہے اور وہ اقتدار میں آکر گندم کی قیمت بڑھائیں گے۔ جب وہ وزیراعظم بن گئے تو گندم کی قیمت معمولی سی بڑھائی گئی اور اسے1365 کیا گیا ۔

اپنے تازہ ترین کالم میں رؤف کلاسرا تحریر کرتے ہیں کہ “اس دوران سندھ حکومت نے اکتوبر‘ نومبر 2019 ء میں قیمت چودہ سو روپے کر دی تو وفاقی حکومت نے بھی دبائو میں آکر مارچ میں چودہ سو روپے کر دی‘ لیکن اس وقت تک دیر ہوچکی تھی کیونکہ اب گندم کی کٹائی ہورہی تھی کاشت نہیں ۔کسانوں نے کم ریٹ کی وجہ سے زیادہ گندم کاشت نہیں کی اور اتنی گندم کاشت کی جتنی اپنی ضرورت کے لیے تھی یا پھر کچھ بیچ کر خرچے پورے کرنے کا پروگرام تھا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ابھی فصل گوداموں تک بھی پوری نہیں پہنچی تھی کہ گندم کی شارٹیج ہوگئی ۔ یہی کچھ گنے کے ساتھ ہوا۔ شوگر ملوں نے برسوں تک کسانوں کا استحصال کیا اور گنے کی قیمتیں روک کر کسانوں کو تباہ کیا۔کسانوں کا دبائو استعمال کرتے ہوئے حکومت سے تیس ارب روپے کی سبسڈی بھی لے لی۔ گنے کی سپورٹ پرائس سے بہت کم قیمت پر گنا خریدا گیا اور چھ چھ ماہ تک ادائیگیاں نہ کی گئیں۔اب پاکستان میں تاجروں نے حکومتیں سنبھال لی ہیں۔ پہلے نواز شریف کے ساتھ سب صنعت کار اور تاجر اسمبلیوں میں پہنچے اور انہوں نے حکومت کو نفع نقصان پر چلانا شروع کیا ۔ ان کی کتاب میں کسان نہیں تھا‘ کیونکہ نواز لیگ کو ووٹ شہروں سے پڑتا تھا۔ ان کی بلا سے کسان مرے یا جیے۔ پیپلز پارٹی کسانوں‘ مزدورں کی پارٹی سمجھی جاتی تھی‘ لیکن پھر اس پارٹی نے بھی نواز شریف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بزنس مین بننے کا فیصلہ کیا اور ملوں کے مالک بن بیٹھے۔

بلکہ سندھ میں پولیس کے ذریعے کسانوں سے زبردستی گنا لیا گیا ۔ عمران خان کو نواز شریف کی کسان دشمن پالیسیوں کی وجہ سے کچھ سپورٹ سرائیکی علاقوں سے ملنا شروع ہوئی‘ جب انہوں نے دھواں دھار بیانات جاری کیے کہ وہ اقتدار میں آگئے تو کسانوں کو زیادہ قیمت دیں گے‘ مگر جب عمران خان صاحب کو حکومت ملی تو پتہ چلا کہ ان کی پارٹی میں بھی وہی کاروباری بیٹھ گئے ہیں اور وہی حشر کررہے ہیں جو نواز لیگ اورپیپلز پارٹی دور میں ہوتارہا تھا ۔ اب حالت یہ ہے کہ ڈیڑھ ارب ڈالرز سے زیادہ کی گندم اور چینی باہر کے کسانوں سے منگوائی جارہی ہے۔ چینی جو دو سال پہلے پچپن روپے فی کلو تھی پی ٹی آئی کے نیک لوگوں کے دور میں ایک سو روپے عبور کر گئی ہے جبکہ گندم دو ہزار روپے فی من کے ریٹ پر باہر سے منگوائی گئی ہے۔ اندازہ کریں جب آپ کو ایک ایک ڈالر کے لیے بھیک مانگنی پڑرہی ہے اس وقت آپ نے غیرملکی کسانوں سے دو ہزار روپے فی من‘ قیمت ڈالروں میں دے کر‘ گندم خریدی لی لیکن اپنے کسان کے لیے پندرہ سو روپے بھی نہیں تھے‘ جن کے لیے آپ دھرنے کے دنوں میں بڑھکیں مارتے تھے۔ یہ ہیں اس ملک کی پالیسیاں اور اس ملک کے سرکاری بابوز اور حکمران۔ صرف شیخ صاحب کے کہنے پر ‘اُ نہیں خوش کرنے کے لئے پہلے شوکت عزیز نے دو ارب ڈالرز تو اب عمران خان نے تقریباً ایک ارب ڈالرز غیرملکی کسانوں کو دے دیے ۔ شیخ صاحب نے اپنے ووٹ بچا لیے‘ چاہے کسان متاثر ہوئے اور ملک کا ادھار میں مانگا ہوا ایک ارب ڈالر خرچ ہوگیا ۔ شیخ صاحب ہن خوش او؟”

About Admin

Check Also

بوٹ پالش بھی مہنگی ہو گئی اس لیے اب پالش سے پہلے ۔۔۔ مہنگائی کے طوفان پر حامد میر بھی بول پڑے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)یاد رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے یوٹیلیٹی سٹورز پر مختلف برانڈز کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *