Breaking News

پولیس کے اعلیٰ افسران نے وقار الحسن کی تصویر متاثرہ خاتون کو دکھائی تو تصویر دیکھ کر خاتون نے کیا کہا؟بڑا دعویٰ سامنے آگیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) لاہور میں گجرپورہ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ میں ملزمان کی اطلاع دینے والے کے لیے پنجاب پولیس نے فون نمبرز جاری کر دئیے تھے۔ پنجاب پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر موٹروےحادثہ کیس میں ملوث ملزمان عابد علی اور وقار الحسن کی تصاویر اور ان کے شناختی کارڈ کا عکس جاری کیا گیا تھا۔

پولیس کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں ملزمان لاہور سیالکوٹ موٹروے پر پیش آنے والے کیس میں مطلوب ہیں، اگر کسی کے پاس دونوں سے متعلق معلومات ہیں تو پولیس نمبر 15 پر اطلاع دیں۔ پنجاب پولیس کی جانب سے ملزمان کی اطلاع دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھنے کی یقین دہانی کے ساتھ 25 لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ملزمان کی اطلاع دینے کے لیے سی سی پی او لاہور آفس، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور اور ایس ایس پی لاہور کے دفاتر کے نمبر بھی فراہم کیے گئے تھے۔ تاہم آج موٹر وے پر خاتون سے پیش آنے والے واقعہ کے کیس میں اہم پیشرفت۔ مرکزی ملزم عابد علی کے ساتھی وقار الحسن کو اس کے والد نے پیش کیا۔ ملزم عابد کا ساتھی وقار الحسن خود ماڈل ٹاؤن سی آئی اے میں پیش ہو گیا۔ وقار الحسن نے بیان میں کہا کہ میرا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں۔ ملزم نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔ سیالکوٹ واقعہ کا مرکزی ملزم عابد علی تاحال پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا۔پولیس ذرائع کے مطابق وقار الحسن کارشتہ دار عباس مشتبہ طور پر کیس میں ملوث ہے.خاندانی ذرائع کے مطابق عباس کوبھی پولیس کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے

جبکہ تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری اطلاعات ہیں کہ وقار الحسن نے خود پیش ہوکر کہا کہ اس کا ڈی این اے ٹیسٹ لے لیا جائے کیونکہ میں موقع پر گیا ہی نہیں ۔ وقار الحسن کا خود پیش ہوجانا ایک بہت اہم پیش رفت ہے، پولیس کے پاس وقارالحسن کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ، نہ تو اس کا ڈی این اے ٹیسٹ ہوا تھا جبکہ پولیس کے اعلیٰ ٰافسران نے وقارالحسن کی تصویر متاثرہ خاتون کو شناخت کیلئے بھیجی تو اس خاتون نے بھی اسے پہچاننے سے انکار کردیا تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ، میں نے فرانزک لیب میں چند لوگوں سے بات کی اور ان سے پوچھا کہ عابد کا ڈی این اے میچ ہوا اس کا طریقہ کار کیا ہے تاہم وہ اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ اگر وقار بے گناہ نکلتا ہے تو آئی جی پنجاب اور جنہوں نے پریس کانفرنس کی انہیں ان عہدوں پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔یاد رہے کہ موٹر وے کیس میں پنجاب پولیس نے جن دوملزموں کی تصاویر جاری کی تھیں ان میں ایک ملزم وقار الحسن نے پولیس کو آج صبح گرفتاری دیدی ہے ۔

About Admin

Check Also

ٹھیک ایک سال بعد کیا ہونیوالا ہے ؟ نصرت جاوید نے موجودہ مہنگائی کی لہر کے پیچھے چھپی کہانی بے نقاب کردی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔بارہا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *