Breaking News

اپوزیشن کے بعد حکومت کی باری ۔۔۔!!! اتحریک انصاف کے کونسے رکن اسمبلی نے بے نامی جائیدادیں بنائیں؟ نیب نے شکنجہ تیار کر لیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کی حکومت آتے ہی احتساب کا عمل شرع ہو گیا تھا احتساب کے عمل سے سابق وزیر اعظم نواز شریف، میاں شہاز شریف ،  حمزہ شہباز،شاہد خاقان عباسی، مریم نواز، احسن اقبال ،خواجہ سعد رفیق ، آصف زراری اور علیم خاں وغیرہ مستید ہو چکے ہیں۔اب تحریک انصاف کے بڑے رکن اسمبلی کی باری بھی آ گئی ہے۔

نیب لاہور نے دعویٰ کیا ہے کہ بھکر سے پی ٹی آئی کے ایم پی اے غضنفر عباس چھینہ نے بے نامی جائیدادیں بنائیں۔ مجاز اتھارٹی نے ایم پی اے کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری کی منظوری دی. اس بارے میں 4 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے۔غضنفر عباس چھینہ نے اپنے اور اہل خانہ کے علاوہ بے نامی داروں کے نام پر زمینیں خریدیں۔ نیب رپورٹ کے مطابق حکومتی ایم پی اے نے سرکاری زمین میں ردو بدل بھی کیا۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق عمران خان کو کوئی بلیک میل نہیں کر سکتا، وزیر اعظم نے پوری دنیا میں مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کر دیا، مراد سعید بھی بول پڑے.وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے پوری دنیا میں مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کیا، عمران خان نہ صرف عالم اسلام کے ترجمان بلکہ عالمی رہنما کے طور پر سامنے آئے،عمران خان کو کوئی بلیک میل نہیں کر سکتا۔وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ ہمیں ایماندار رہنما ملا ہے جو دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسلام کا مقدمہ لڑ رہا ہے، وزیر اعظم عمران خان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس سے خطاب سے قبل ہی بھارتی نمائندوں نے راہ فرار اختیار کر کے شکست تسلیم کی۔انھوں نے کہا کہ پہلے قیادت پاناما، اقامہ اور جعلی اکاؤنٹس والوں کے پاس تھی، پہلے ہاتھ میں پرچی، جھکے سر اور ڈو مور پر جی حضور کہنے والے تھے، پہلے مودی کو گھر بلاتے تھے، جندال کی دعوتیں ہوتی تھیں، کھٹمنڈو میں خفیہ ملاقاتیں تھیں جو کلبھوشن کا نام لینے کے قابل نہیں تھے ۔

About Admin

Check Also

میرے ایک سوال کا جواب دے دیں میں چپ چاپ تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کردونگا ۔۔۔چودھری نثار نے بڑا اعلان کر دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اسے حسن اتفاق کہیے یا کچھ اور مسلم لیگ (ن) کے قائد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *