Breaking News

اس لڑکی نےاپنےگدے پربیکنگ سوڈا چھڑکا، 30 منٹ بعد کیا نتیجہ نکلا؟ جان کر آپ بھی اسے اپنی عادت بنالیں گے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ہمارا میٹریس بظاہر صاف نظر آتا ہے لیکن اس کے نیچے ایسے خطرناک جراثیم موجود ہیں کہ اگرآپ کو علم ہوجائے تو ابھی میٹریس تبدیل کرنے یا صاف کرنے بھاگ پڑیں گے۔ اس لڑکی کا بھی یہی خیال تھا لیکن جب اس نے بیکنگ سوڈا ڈالا تو اسے یقین نہ آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم بے شک بیڈ شیٹوں کو جتنا مرضی دھولیں ہمارا میٹریس گندا ہی رہتا ہے۔جسم سے نکلنے والا پسینہ،مواد اور گندگی میٹریس کو خراب کرتی ہے۔ سب سے پہلے اپنے میٹریس اور بیڈ کو ویکیوم کلینر سے صاف کریں اور اس کے بعد اس میں بیکنگ سوڈا ڈالیں،پھر کسی سپرے سے پانی اور منٹ آئل مکس کرکے چھڑکیں۔30منٹ انتظار کے بعد دوبارہ ویکیوم کرلیں،اس طریقے سے آپ کا بیڈ مکمل طور پر جراثیم اور بیکٹیریا سے پاک ہوجائے گا۔ دوسری جانب ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھی خاتون کو اچانک جسم کے نچلے حصے میں درد نیچے کموڈ میں دیکھا تو کیا چیز تھی ؟ تھائی لینڈ میں ایک خاتون اپنے گھر میں ٹوائلٹ کے کموڈ پر بیٹھی تو جسم کے نچلے حصے میں اچانک شدید تکلیف اٹھی، جیسے کسی چیز نے کاٹ لیا ہو. وہ فوراً اٹھی اور جب اس نے کموڈ میں دیکھا تو اس میں ایسی چیز نظر آ گئی کہ اس کے اوسان خطا ہو گئے۔ ویب سائٹ  کی رپورٹ کے مطابق 42سالہ فینارت شیبون نامی بنکاک کی رہائشی اس خاتون نے جب کموڈ میں دیکھا تو اس میں ایک خوفناک سانپ موجود تھا جس نے اسے کاٹ لیا تھا اور اس کے جسم سے درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں. رپورٹ کے مطابق فینارت کو فوری طور پر ہسپتال لیجایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی جان بچائی.واقعے کے فوری بعد عمارت کے سکیورٹی گارڈ کو گھر میں بلایا گیا جس نے کموڈ میں سے سانپ کو باہر نکالا. اس خوفناک واقعے کے کچھ روز بعد فینارت کی 15سالہ بیٹی نے بھی کموڈ میں سانپ دیکھ لیا. دوسری بار کموڈ میں سانپ دیکھنے پر اب دونوں ماں بیٹی انتہائی خوفزدہ ہیں اور انہوں نے گھر کا ٹوائلٹ ہی استعمال کرنا ترک کر دیا ہے۔ اب فینارت اس گھر کو فروخت کرکے نیا گھر خریدنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

About Admin

Check Also

سرسوں کے تیل میں یہ کیپسول ملا کرسفید بالوں پر لگائیں، پھر اس کا کمال دیکھیں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)آپ سرسوں کے تیل میں یہ والے کیپسول ملا کر لگالیں آپ کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *