Breaking News

استعفوں کا سلسلہ شروع! نامور (ن) لیگی رہنماء مستعفی ہوگئے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پہلے یہ خبر کہ حکومت نے ملک بھر میں کرونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کرونا وائرس کے بڑھتے اثرات کے پیش نظر ملک بھر میں عوامی اجتماعات پر پابندی لگانے کی تجویز دی ہے۔

این سی او سی کے مطابق پوری دنیا میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد ہے کیونکہ ایسے اجتماعات کرونا پھیلنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن نے ایم پی اے فیصل نیازی سے استعفیٰ لے لیا ہے، استعفیٰ وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات پر لیا گیا، پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ فیصل نیازی نے ن لیگ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے، استعفیٰ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں آنے کے بعد لیا گیا۔ت فصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں ن لیگ کی پارٹی پالیسی اور قیادت کے بیانیئے کی نفی کرنے والے ارکان بھی شامل ہونے کے لیے پہنچ گئے لیکن وہاں پر لیگی ارکان نے قیادت کے خلاف بیانات دینے پر ان کو شدید طنز وتنقید کا نشانہ بنایا اور پارٹی اجلاس سے نکال دیا۔اس موقع پر ایم پی اے فیصل نیازی سے بھی استعفیٰ لیا گیا۔پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ فیصل نیازی نے ن لیگ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ استعفیٰپارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں آنے کے بعد لیا گیا۔ اسی طرح پارلیمانی اجلا س میں لیگی رکن جلیل شرقپوری اور غیاث الدین بھی گئے۔ پارٹی ارکان نے ایم پی اے جلیل شرقپوری کے سرپر لوٹابھی رکھا گیا۔جلیل شرقپوری نے کہا۔

کہ ہمارے علاقے کے شخص نے ہی مجھ سے بدتمیزی کی۔ اس شخص نے کئی بار ن لیگ کا ٹکٹ مانگا لیکن نہیں ملا۔ پارٹی کو ایسے لیگی رہنماؤں کیخلاف کاروائی کرنی چاہیے۔ اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات پر ایم پی اے غیاث الدین کے ساتھ بھی نارواسلوک کیا گیا۔ مولانا غیاث الدین نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرنا میرا آئینی حق ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرنا کوئی گناہ نہیں ہے۔ جو وفادار ہے اسے نوٹس بھیجا جا رہا ہے۔ پارٹی پر کچھ لوگ غاصب ہونا چاہتے ہیں۔ ن لیگ کی جانب سے نوٹس کو ہم تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ میں ایک منتخب نمائندہ ہوں اور کوئی شخص مجھے ایوان سے نہیں نکال سکتا۔ اپنے اوپر ہونے والے ظلم بتانے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس گیا تھا، پارٹی سے غداری نہٰیں کی۔ انہوں نے پارٹی سربراہ میاں نواز شریف سے درخواست کی ہے کہ وہ پارٹی معاملات خود دیکھیں اور پارٹی کارکنان کو لاوارث مت چھوڑیں۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لوگ بھارت کا ایجنڈا لے کر چلنے والے لوگ ہیں، آئی ایس آئی کو پنجاب پولیس بنانا چاہتے تھے،اس لئے ہر آرمی چیف سے لڑائی ہوئی،پاکستانی فوج حکومت کے ایجنڈے پر ہر جگہ کھڑی ہے، کون سا ایسا منشور ہے جس میں ہماری فوج نے مدد نہیں کی،بے روزگار سیاست دان خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں،جتنے مرضی جلسے کرنا ہے کریں، قانون توڑا آپ سیدھے جیل میں جائیں گے،اب وی آئی پی جیل نہیں ہوگی۔

About Admin

Check Also

عدالت کا منفرد فیصلہ، ملزمان کو پنج وقتہ نماز پڑھنے، درخت لگانے اور مساجد کی صفائی کا حکم

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بجلی کی تاروں میں الجھ کر تین بھینسوں کے مرنے کے کیس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *