Breaking News

بریکنگ نیوز:نواز شریف سمیت لیگی رہنماﺅں کیخلاف غداری کا مقدمہ، تفتیش کیلئے حکومت نے بڑا قدم اٹھا لیا ، (ن)لیگ کے پسینے چھڑا دینے والی خبر

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق چیف جنرل ظہیر السلام کو نواز شریف کی کرپشن کا پتہ تھا اس لیے استعفیٰ مانگا۔آل پاکستان انصاف لائرزفورم زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جن اداروں کا کام چیک اینڈ بیلنس ہوتا ہے ، نواز شریف وہ سارے ادارے اپنے کنٹرول میں کر لیتے ہیں۔

آئی ایس آئی کو ان کی ساری چوری کا پتہ ہے ،جب اس ادارے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو پھر لڑائی ہوتی ہے ۔ا ن کا کہنا تھا کہ اس لیے نواز شریف کی آج تک کسی آرمی چیف سے نہیں بنی کیونکہ وہ انہیں پنجاب پولیس بنانا چاہتے ہیں ،فوج کو ان کی کرپشن کا پتہ ہوتا ہے اور وہ چپ کر کے انہیں  بتا تے ہیں کہ ادھر اتنی کمیشن بنا لی گئی ہے ،ادھر اتنا پیسہ بنا لیا گیا ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کے بقول سابق آئی ایس آئی چیف نے استعفیٰ دینے کا پیغام بھجوایا ،اس نے ایسا کیوں کیا اور نواز شریف نے کیوں چپ ہو کر سن لیا ؟،کیونکہ جنرل ظہیر السلام کو پتہ تھا کہ نواز شریف نے کتنا پیسہ چوری کیا ہوا ہے ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ منسوخ کرنے کی سفارش کر دی ہے ۔ڈی جی نیب راولپنڈی کی جانب سے وزارت داخلہ کو بھیجے گئے خط میں توشہ خانہ ریفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری عدالت سے جاری ہو چکے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے اشتہاری قرار دینے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے، لہذا نواز شریف کی سفری دستاویزات کو منسوخ کیا جائے۔

نیب کی جانب سے وزارت داخلہ کو نواز شریف کا پاسپورٹ کو منسوخ کرنے اور شناختی کارڈ کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے وزارت داخلہ انٹرپول سے بھی رابطہ کرے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف سمیت لیگی رہنماﺅں کیخلاف غداری مقدمے کی تفتیش کیلئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دیدی گئی جس نے کام کا آغاز کر دیا ہے، ملزمان کی گرفتاری کیلئے سی سی پی او لاہور لائحہ عمل طے کریں گے۔مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف سمیت دیگر پارٹی رہنماﺅں کے خلاف غداری اور بغاوت کا معاملہ، آئی جی پنجاب انعام غنی کے حکم پر ایس پی سی آئی اے لاہور کی سربراہی میں 4 افسران پر مشتمل جوائنٹ انوسیٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی۔ٹیم کے سربراہ ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار کمبوہ کے علاوہ ڈی ایس پی شفیق آباد محمد غیاث ، انچارج سی آئی اے اقبال ٹاﺅن انسپکٹر طارق الیاس کیانی اور انچارج انویسٹی گیشن شاہدرہ سب انسپکٹر شبیر اعوان شامل ہیں۔جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے مقدمہ کی تفتیش کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے تاہم غداری اور بغاوت کے مقدمہ میں تاحال نہ کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے نہ پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

About Admin

Check Also

طریقہ کار تبدیل ، اب شناختی کارڈ کیسے بنوایا جائیگا، فیس کتنی ہوگی اور کتنے دن میں جاری ہو گا؟ پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر آگئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) طریقہ کار تبدیل ، اب شناختی کارڈ کیسے بنوایا جائے گا، شناختی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *