زیادہ طلب ہوں۔۔۔

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) میں ہیوی طاقت كا مالك ہوں اور روزانہ بيوى سے ملاپ كرنے كى رغبت ركھتا ہوں، جب بيوى سے ملاپ كا كہتا ہوں تو وہ نامعقول سے دلائل دے كر اور مختلف قسم كے بہانے بنا كر ايسا كرنے سے انكار كر ديتى ہے، مثلا اس كا كہنا ہے كہ وہ تھكى ہوئى ہے، يا پھر وہ غسل كرنے ميں سستى سے كام ليتى ہے، يا دوسرے دن كرنے كا كہہ كر ٹال ديتى ہے۔

اس ليے ہفتہ ميں صرف دو بار ہى ہم تعلقات قائم کر سکتے ہیں، ميں صبر نہيں كر سكتا جس كى بنا پر مجھے کسی اور غلط کام كا سہارا لينا پڑتا ہے كہ كہيں بڑے غلط کام ميں نہ پڑجاؤں، حالانكہ مجھے علم ہے كہ بُرائی حرام ہے، ليكن اس كے باوجود ميں ہفتہ ميں تين بارغلط کام كا مرتكب ہوتا ہوں، اور ميرى بيوى ميرے پہلو ميں ہوتى ہے، اور اسے اس كا علم ہوتا ہے. يہ علم ميں رہے كہ ميرى بيوى بناؤ سنگھار كا خوب خيال ركھتى ہے، اور خوشبو بھى لگاتى ہے، ليكن اس ميں صرف عيب يہ ہے كہ زیادہ ملاپ سے بھاگتى ہے، ميرا سوال يہ ہے كہ آيا ميں کوئی اور غلط کام كرنے سے گنہگار تو نہيں ہو رہا، اور اگر گناہ ہوتا ہے تو كيا ميرے اس غلط کام كرنے كا گناہ ميرى بيوى كو بھى ہوتا ہے يا نہيں ؟ الحمد للہ:اول:خاوند پر بيوى كے ساتھ حسن معاشرت اختيار كرنا واجب ہے۔ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:{ اور ان عورتوں كے ساتھ حسن معاشرت اختيار كرو }النساء ( 19 ).اور حسن معاشرت ميں جماع بھى شامل ہے، اور يہ بقدر كفائت خاوند پر واجب ہے، جب تک خاوند كا جسم كمزور نہ پڑ جائے يا پھر اسے معاش سے دور اور مشغول نہ كردے.اور بيوى پر واجب ہے كہ جب خاوند اسے ملاپ كى دعوت دے تو وہ اسے قبول كرے، اور اگر وہ انكار كرتى ہے تو نافرمان شمار ہوگى؛ كيونكہ بخارى اور مسلم نے درج ذيل حديث روايت كي ہے۔

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:” جب آدمى اپنى بيوى كو اپنے بستر پرملاپ كے ليے بلائے اور وہ انكار كر دے اور خاوند رات ناراض ہو كر بسر كرے تو صبح ہونے تک اس پر فرشتے لعنت كرتے ہيں “صحيح بخارى حديث نمبر ( 3237 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1436 ).شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:” بيوى پر واجب ہے كہ جب خاوند اسے ملاپ كے ليے بلائے تو وہ اس كى اطاعت كرے، يہ اس كے ليے فرض و واجب ہے…. اس ليے جب بيوى اس كى بات ماننے سے انكار كر دے تو وہ نافرمان اور بددماغ شمار ہوگى…جيسا كہ اللہ عزوجل كا فرمان ہے:{ اور جن عورتوں كى تمہيں بددماغى اور نافرمانى كا ڈر ہے تو انہيں تم نصيحت كرو، اور انہيں بستر ميں چھوڑ دو اور انہيں مار كى سزا دو، اور اگر وہ تمہارى اطاعت كر ليں تو پھر ان پر كوئى راہ تلاش مت كرو ۔ ليكن خاوند كے ليے جائز نہيں كہ وہ بيوى پر ملاپ كا اتنا بوجھ ڈالے جسے وہ برداشت ہى نہ كر سكے، اور اگر بيوى بيمارى يا پھر برداشت نہ كرنے كى بنا پر ملاپ سے انكار كرتى ہے تو وہ گنہگار نہي ہوگى. ابن حزم رحمہ اللہ كہتے ہيں:لونڈى اور بيوى پر فرض ہے كہ جب اس كا مالك اور خاوند اسے ہم بسترى كى دعوت دے تو وہ دیر نہ کرے۔

About Admin

Check Also

صرف تین دن سورہ کوثر کا وظیفہ اس طرح کرلیں تمام جائز خواہشات ایک دم پوری ہو جائیں گی زندگی بھر دعا دیں گے

اللہ اکبر ۔۔۔ صرف3 دن سورۃ کوثرکا یہ وظیفہ کرلیں ںسورة کوثر کا بہت ہی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *