Breaking News

نیب تو نہیں پکڑ رہا مگر اللہ ضرور آپ کو پکڑے گا ۔۔۔ مایوس ہو کر حامد میر نے یہ بات کسے کہہ ڈالی ؟ جانیے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نیب پر پہلے بھی بڑی تنقید ہوتی رہی ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ احتساب نہیں کر رہا جس کی وجہ سے مقامی سطح پر احتساب کو وہ پذیرائی نہ مل سکی جو ملنی چاہیئے تھی نیب نے زیادہ تر کاروائیاں اپوزیشن کے خلاف ہی کی ہیں۔ اب سینئر صحافی حامد میر بھی برس پڑے اور کہا ۔

کہ ” تحریک انصاف کی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دیکر شوگر ملز والوں کو 70 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا اس گروہ نے ملک کے اندر چینی مہنگی کر کے عوام کی چیخیں نکلوا دیں شوگرملز والوں سے لفافہ لینے والے سب بد دیانت لوگ حکومت کے اندر موجود ہیں انہیں نیب تو نہیں پکڑے گا اللہ ضرور پکڑے گا ،سینئیر صحافی حامد میر دراصل اس خبر پر تبصرہ کررہے تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ مسابقتی کمیشن نے اپنی انکوائری رپورٹ میں چینی بحران اور قیمتوں میں اضافہ کا ذمہ دار شوگر ملز کے گٹھ جوڑ کو قرار دیا ہے اورکہا کہ شوگرملز نے 70ارب کا ناجائز منافع کمایا، انکوائری رپورٹ کے مطابق بڑی ملیں گنے کی کرشنگ کے فیصلے ملی بھگت سے کرتی رہیں ، سٹاک اورڈیٹا کوسپلائی اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کےلیے استعمال کیا گیا۔نجی اخبار کے مطابق چینی کی برآمد کی اجازت سے گزشتہ ڈیڑھ برس میں قیمت 18روپے فی کلوگرام بڑھی جس سے شوگر ملز کے ریونیو میں 40ارب روپے اضافہ ہوا جبکہ مجموعی طور پر قیمتوں میں 38روپے فی کلوگرام اضافہ ہوا، پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن چینی کی درآمد اور برآمد کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتی رہی۔شوگر ملز غیر مسابقتی سرگرمیوں میں شامل ہیں، بڑی ملیں گنے کی کرشنگ کے فیصلے ملی بھگت سے کرتی رہیں۔

پاکستان شوگرملز ایسوسی ایشن 2012سے 2020کے دوران شوگر ملز کے درمیان چینی کے سٹاک کی صورتحال اورڈیٹا کو اکٹھا کرنے میں شامل رہی ، اس سے مارکیٹ میں چینی کی سپلائی اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کےلیے استعمال کیا گیا۔شوگر ملز نے پاکستان شوگرملز ایسوسی ایشن کے ساتھ ملی بھگت اور گٹھ جوڑ سے چینی کی قیمتوں پر کنٹرول برقراررکھتے ہوئے اضافہ کیا جبکہ چینی کی برآمد کی اجازت دینے سے چینی کی قیمت میں 48فیصد اضافہ ہوا، شوگر ملز پر کنٹر ول جے ڈی ڈبلیو گروپ کا ہے۔جے ڈی ڈبلیو گروپ کے ڈائر یکٹر فنانس محمد رفیق تمام شوگر ملز کے چینی کی پیداوار ، ذخیرہ کی صورتحال ، چینی کی فروخت اور کرشنگ کی مانیٹرنگ کرتے رہے تاکہ مارکیٹ میں چینی کی قیمت کم نہ ہواور یہ معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے رہے ، یہ شرط بھی رکھی گئی کہ جو مل معلومات فراہم نہیں کرے گی اس کی ایسوسی ایشن سے رکنیت کالعدم کر دی جائے گی۔فروری 2019میں چینی کی ریٹیل پرائس 60روپے کلو تھی جو ستمبر2020 میں بڑھ کر98روپے کلو ہوگئی ، ڈیڑھ سال میں قیمت میں 63فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، پنجاب کی 15شوگر ملز نے جان بوجھ کر کرشنگ کو بند کیا ، نومبر سے فروری کے دوران پیداوار کے بعد چینی کے 8 ماہ کےلیے موجود سٹاک کو برآمد کر دیا جس سے قلت پیدا ہوئی ۔

About Admin

Check Also

’’ وزیر اعظم بن جائیں یا پھر وزیر اعلیٰ ‘‘ پیپلز پارٹی کی مونس الٰہی کو پیشکش، چوہدری پرویز الٰہی نے بھی اہم فیصلہ کر لیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستانی سیاست دان اقتدار کے حصول کے لئے کچھ بھی کر سکتے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *