Breaking News

بریکنگ نیوز: گیم اُلٹ گئی۔!! وزیراعظم عمران خان اور ان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو جیل میں ڈالنے کا اعلان کردیا گیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے میں دھماکہ خیز باتیں کی گئی ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کا جواب کیسے دیتی ہے۔ رؤف کلاسرا نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ نوازشریف نے گوجرانوالہ سے بھی سخت تقریر کی ہے۔

جس میں انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو بھی جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل یہ خبریں آ رہی تھیں کہ مسلم لیگ ن کے کئی رہنما نوازشریف کی گوجرانوالہ میں کی گئی تقریر سے خوش نہیں تھے اور انہوں نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ اس طرح کا بیانیہ اختیار نہ کریں۔ رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی آج کی تقریر سے واضح ہو گیا کہ وہ کسی رہنما کی بات نہیں سن رہے اور ایک قدم مزید آگے بڑھ گئے ہیں۔  انہوں نے ڈی جی آئی ایس آئی کو خصوصی نشانہ بنایا ہے۔ رؤف کلاسرا کے مطابق نوازشریف کی کوشش لگتی ہے کہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کو متنازعہ بنا دیا جائے کیونکہ ان کے متعلق سنا جا رہا ہے کہ وہ اگلے آرمی چیف ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے جلسے میں نوازشریف نے یہ تو کہا تھا کہ ایک فوجی افسر جسٹس شوکت صدیقی کے پاس گئے تھے لیکن نام نہیں بتایا تھا۔ آج کے جلسے میں انہوں نے آئی ایس آئی چیف کا نام لے کر کہا کہ انہوں نے جسٹس شوکت صدیقی کو کہا تھا کہ مریم نواز اور نواز شریف کو جیل سے باہر نہ آنے دیں۔ رؤف کلاسرا کے مطابق نواز شریف اپنی کشتیاں جلا چکے ہیں۔

وہ دیکھ رہے ہیں کہ جب تک آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور عمران خان کی ٹرائیکا موجود ہے، ان کے لیے یا مریم نواز کے لیے کوئی سیاست میں گنجائش نہیں نکل سکتی۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف اور عمران خان معاملات کو مزید بھڑکا رہے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی مختلف فورسز کا کیا ردعمل آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان ایک خطرناک فیز میں ہے، میں نے اپنی رپورٹنگ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا۔ رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے اب کیا آپشن ہیں، کیا وہ شیخ رشید کی زبان میں جھاڑو پھیرتے ہیں اور عمران خان کا کیا بنے گا، یہ سب دیکھنا ہے۔ رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ بلاول اور مریم نے اپنی تقریروں میں لاپتا افراد کو ذکر کیا ہے جس سے اسٹیبلشنٹ میں اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ دونوں نے نام لے کر شیم شیم کے نعرے لگوائے، بلوچستان میں یہ بڑا حساس معاملہ ہے اور انہوں نے اس پہلو پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق خود چینلز کو محسوس ہوا کہ جلسے میں ایسی تقاریر ہو رہی ہیں جس کے بعد انہیں خود پر سنسر شپ عائد کرنی چاہیئے، اسی وجہ سے بعض چینلز نے مریم نواز اور بلاول بھٹو کی تقاریر پر بار بار آواز بند کی جبکہ دیگر نے جلسہ دکھانا ہی بند کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ چینلز کو بھی اندازہ ہو رہا ہے کہ معاملہ حدود سے باہر جا رہا ہے اور خود ریاست کی سالمیت کے لیے یہ باتیں نقصان دہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تین تقریریں بہت اہم تھیں جن سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، ان میں اویس نورانی، محمود اچکزئی اور نواز شریف نے بہت سخت گفتگو کی اور ہو سکتا ہے کہ ٹی وی چینلز کو مزید جلسوں کو براہ راست دکھانے کی اجازت ہی نہ ملے۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ اویس نورانی نے آج تقریر میں ایک جگہ بلوچستان کی آزاد ریاست کی بات کر دی جس کی وجہ سے پی ڈی ایم کے لیے اور خود اویس نورانی کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ رؤف کلاسرا نے بتایا کہ محمود اچکزئی نے کہا کہ افغانستان میں ہماری زمینیں ہیں، ہم اپنی ہی زمینوں پر پاسپورٹ لے کر نہیں جائیں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک پاکستانی کی زمینیں افغانستان میں کیسے ہو سکتی ہیں؟ کیا وہ افغان باشندوں کی بات کر رہے تھے جو پاکستان میں ہجرت کر کے آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی نے سرحد پر لگائی گئی باڑ اکھاڑ دینے کی بات کی اور اپنے حامیوں کو بھی اس کے لیے اکسایا، اگر آپ باڑ کو نہیں مانتے تو ڈیورنڈ لائن کو بھی نہیں مانتے۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ افغان حکومت بھی ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتی اور پاکستان کے بڑے علاقے پر اپنا حق جتاتی ہے، محمود اچکزئی بھی بنیادی طور پر افغان حکومت کے قریب قریب بات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چونکہ عمران خان مریم نواز پر بات کرتے ہیں، اس لیے نوازشریف نے علیمہ خان کے متعلق گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے عمران خان اور ان کی ہمشیرہ کو جیل بھجوانے کی بات بھی کی ہے۔

About Admin

Check Also

ٹھیک ایک سال بعد کیا ہونیوالا ہے ؟ نصرت جاوید نے موجودہ مہنگائی کی لہر کے پیچھے چھپی کہانی بے نقاب کردی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔بارہا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *