Breaking News

صدیوں سے اگر کوئی بھی تمنا پوری نہیں ہو رہی تو جمعہ کے روز اس سورۃ کی ایک آیت سو بار پڑھ لے انشااللہ پر تمنا ہوری ہوگی

اللہ اکبر ۔۔۔ سورتہ یاسین کو قرآن پاک کا دل کہا جاتا ہے اور قرآن کے دل میں سے ایک مبارک آیت ایسی ہے جس کے بےشمار فوائداور برکتیں ہیں ۔اور اس آیت کا خاص عمل ہے جو آپ کو جمعہ کے دن کرنا ہے یہ عمل بہت ہی طاقتور عمل ہے جو جمعہ کے دن کا ہے جمعہ کا دن بھی بہت مبارک اور قرآن کی سورتہ یاسین بھی مبارک اور اس سے خوبصورت اس سورتہ کی آیت کا یہ وظیفہ ہے۔

تو یہ کتنا طاقتور عمل ہو گیا جان لیجئےیہ کون سی آیت ہے اور اس کی کیا برکتیں ہیں جان لیجئےایک روایت میں آیا ہے کہ جس نے ’’سورۃ یٰس اور (اس کے بعد والی ) سورہ والصٰفٰت‘‘ جمعے کے روز پڑھی اور پھر اﷲ سے دعا مانگی تو اس کی دعائیں پوری کی جاتی ہیں۔ایک روایت میں ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا کہ ’’میرا دل چاہتا ہے کہ سورۃ یٰس میرے ہر امتی کے دل میں ہو۔ایک روایت میں ہے کہ جو شخص سورۃ یٰس کو پڑھتا ہے اس کی مغفرت کی جاتی ہے اور جو بھوک کی حالت میں پڑھتا ہے وہ سیر ہوجاتا ہےاور جو راستہ گم ہوجانے کی وجہ سے پڑھتا ہے وہ راستہ پالیتا ہے اور جو شخص جانور کے گم ہوجانے کی وجہ سے پڑھتا ہے وہ اس کو پالیتا ہے اور جو ایسی حالت میں پڑھے کہ کھانا کم ہوجانے کا خوف ہو تو وہ کھانا کافی ہوجاتا ہے اور جو ایسے شخص کے پاس پڑھے جو نزع کی حالت میں ہو تو اس پر نزع میں آسانی ہوجاتی ہے اور حالت ولادت والی عورت پر پڑھنے سے اس کی ولادت میں سہولت کردی جاتی ہے اسی طرح جب کسی بادشاہ یا دشمن کا خوف ہو اور اس کے لیے یہ سورۃ یٰسٓ پڑھی جائے تو وہ خوف جاتا رہتا ہے۔ س شخص نے جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کی قیامت کے دن اس کے قدموں تلے سے روشنی پھوٹے گی جو آسمان کی بلندی تک چلی جائے گی ،اور اس شخص کو قیامت کے اندھیروں میں روشن کر دیگی۔ اور اس کے دو جمعوں کے درمیان تمام گناہوں کو معاف کر دیا جائیگاایک اور روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے منقول ہے، آپ نے فرمایا: جو شخص سورہٴ کہف کی دس آیات حفظ کرے گا اسے دجّال نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور جو شخص اس سورہ کی آخری آیات حفظ کرے گا روزِ قیامت یہ اس کے لئے روشنی بن جائیں گی۔

About Admin

Check Also

ان سات عورتوں سےکبھی شادی نہ کرنا

اللہ اکبر ۔۔۔۔ایک عرب دانا نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ 7 قسم کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *