Breaking News

’’ خان صاحب! آپ کا دماغ ’ کنکریٹ‘ سے بھرا ہوا ہے۔۔۔‘‘ یہ کہتے ہوئے کونسا مرکزی رہنماء تحریک انصاف کو خیر باد کہہ گیا؟ حامد میر کا تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ’’دسمبر 2011میں جہانگیر ترین نے اویس لغاری، جمال لغاری، غلام سرور خان اور اسحاق خاکوانی وغیرہ کے ساتھ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ عمران خان نے اپنی پارٹی میں الیکشن کرایا تو جہانگیر ترین سیکرٹری جنرل بن گئے۔ پارٹی کے پرانے لوگوں نے اس الیکشن میں دھاندلی کی شکایت کی۔

 تفصیلات کے مطابق اپنے کالم میں حامد میر تحریر کرتے ہیں کہ عمران خان نے جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد کی سربراہی میں انکوائری ٹربیونل بنا دیا۔ ٹربیونل کے سامنے گواہ اور ثبوت آ گئے کہ پارٹی الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور ووٹ خریدے گئے۔ٹربیونل نے اپنے تحریری فیصلے میں جہانگیر ترین، پرویز خٹک، علیم خان اور نادر لغاری کو پارٹی سے خارج کرنے کی سفارش کی لیکن عمران خان نے اپنے ہی بنائے گئے اس ٹربیونل کی رپورٹ مسترد کر دی۔سندھ ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس وجیہ الدین احمد کو اتنا خوار کیا گیا کہ وہ تحریک انصاف چھوڑ گئے۔ 2017میں جہانگیر ترین کو سپریم کورٹ نے نا اہل قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے وجیہ الدین احمد کو سچا ثابت کر دیا لیکن عمران خان نے جہانگیر ترین کو گلے لگائے رکھا۔ 2018میں عمران خان وزیراعظم بن گئے تو جہانگیر ترین نے مرکز اور پنجاب میں حکومتیں بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور ڈپٹی پرائم منسٹر کا کردار ادا کرنے لگے۔عمران خان نے اپنے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے ذریعہ جہانگیر ترین کی سرکاری معاملات میں مداخلت بند کرانے کی کوشش کی تو دونوں کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ سب سے پہلے جہانگیر ترین کو مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم اور بی این پی (مینگل) کے ساتھ مذاکرات کرنے والی کمیٹیوں سے نکالا گیا اور پھر واجد ضیا رپورٹ کی روشنی میں اُن کے خلاف کارروائی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔۔

واجد ضیا رپورٹ وہی کہہ رہی ہے جو وجیہ الدین احمد کہہ رہے تھے۔ آج دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عمران خان نے وہ کچھ کر دکھایا ہے جو ماضی میں کسی حکمران نے نہیں کیا۔سوال یہ ہے کہ جب جہانگیر ترین کے بارے میں یہی کچھ وجیہ الدین احمد نے کہا تو آپ نے کارروائی کیوں نہ کی؟ کیا جہانگیر ترین کو جتنا استعمال کرنا تھا کر لیا، اب وہ کسی کام کا نہیں رہا؟‘‘۔ کچھ دن کے بعد امیر مقام کو تحریک انصاف میں لانے کے معاملے پر عمران خان اور اویس لغاری میں بحث ہو گئی۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ اویس لغاری نے جب الیکشن سے پہلے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تو اس وقت انہوں نے کہا کہ امیر مقام کو کسی نہ کسی طرح پااکستان تحریک انصاف میں شامل کر لینا چاہیئے تو عمران خان نے کہا کہ مجھےاس جیسے بندوں کی اپنی پارٹی میں کوئی ضرورت نہیں ، اس وقت پاس جہانگیر ترین، جمال لغاری، غلام سرور خان اور اسحاق خاکوانی بھی موجود تھے عمران خان نے کہا کہ مجھے امیر مقام جیسے لوگوں کی ضرورت نہیں۔ اویس لغاری نے سمجھانے کی کوشش کی۔ خان صاحب نے کہا تمہیں سیاست کا پتا نہیں۔ اویس لغاری نے کہا اگر آپ بُرا نہ منائیں تو ایک بات کہوں۔ خان صاحب نے کہا، بالکل کہو۔ سردار فاروق احمد خان لغاری کے برخوردار نے کہا کہ آپ ایچی سن کالج میں میرے سینئر تھے۔بڑے احترام سے عرض ہے کہ آپ کا دماغ کنکریٹ سے بھرا ہوا ہے، خدا حافظ۔ اویس لغاری تحریک انصاف چھوڑ گئے، جہانگیر ترین وہیں رہے۔

About Admin

Check Also

اسلام آباد میں مساج سنٹر پر چھاپہ، پکڑے جانیوالے شخص نے اپنا تعلق کس حکومتی شخصیت کیساتھ بتایا؟؟ ویڈیو وائرل

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی پولیس نے مساج سنٹر پر چھا پہ مار کارروائی کرتے ہوئے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *