خادمہ کا بار بار باتھ روم جانہ سعودی خاتون کو شک میں مبتلا کر دیا جب عورت نے ملازمہ کا پیچھا کر کے دیکھا تو اسکے ہوش اڑ گے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) حالات اور مجبوری انسان سے کیا کیا کروا دیتی ہےجان کر آپ کے دکھ کی انتہاء نہیں رہے گی جانیے ایک سعودی عرب کی خاتون نے نوٹ کیا کہ اس کی گھریلو خادمہ باتھ روم میں بار بار جاتی ہے اور کافی وقت گزارتی ہے اور اس دوران اندر سے ٓعجیب آوازیں بھی آتی ہیں ۔

جب اس نے خود جا کر دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئےتفصیلات کے مطابق سعودی خاتون نے دیکھا کہ اس کی خادمی بار بار باتھ روم جاتی ہے شروع میں تو اس نے سوچا کہ شاید اسے کوئی تکلیف ہے اس لئے بار بار جاتی ہے لیکن کچھ دنوں بعد یہ معمول برقرار رہا اور اس کے ساتھ آوازیں بھی آنے لگی اس کے ساتھ اس کو شک ہوا کہ شاید کوئی گڑ بڑ ہے۔ اب خاتون نے ایک کام شروع کر دیا کہ جیسے ہی خادمہ اندر جاتی تو یہ کان لگا کر کھڑی ہوجاتی ۔اور جب وہ باہر آتی تویہ فوراً اندر جا کر دیکھتی کہ کیا معاملہ ہے لیکن وہاں کوئی ایسی بات نہیں ہوتی تھی جس کی وجہ سے کوئی شک ہو جائے یا معلوم ہو کہ کچھ گڑ بڑ ہے ۔ صرف اس کو درد کی وجہ سے ہونے والی آواز سنائی دیتی تھی ایک دن اس نے اپنی خادمہ کو بلایا اور اس سے ان آوازوں کے بارے میں پوچھا پہلے تو خادمہ خاموش رہی لیکن اصرار پر اس نے ایک درد بھری کہانی سنا ڈالی ۔ اس خادمہ نے بتایا کہ اس کا ایک دودھ پیتا بچہ ہے جس کے بارے میں آپ کو نہیں بتایا دن کو میں اسے گھر میں چھوڑ آتی ہو جہاں اس کا والد اس کا خیال رکھتا ہے کیونکہ وہ کام کاج نہیں کر سکتا معذور ہے ۔اب جب دن کو دودھ پینت کا ٹائم ہوتا ہے تو میری چھاتیاں دودھ سے بھر جاتی ہے اور مجھے شدید تکلیف شروع ہو جاتی ہے اس لئے میں بار بار جاتی ہو اور دودھ نکالتی ہوں اس دوران مجھے شدید تکلیف ہوتی ہے جس کو برداشت کرتےہوئے کبھی منہ سے آوازیں بھی نکل جاتی ہے۔ سعودی خاتون نے جب یہ بات سنی تو اسے بہت افسوس ہوا اور اس نے خادمہ کو بچہ ساتھ لانے کی اجازت دی اور ا س کے ساتھ اس کی تنخواہ بھی بڑھا دی تا کہ بہتر طریقہ سے اپنے بچے کی صحت کا خیال رکھ سکے۔

About Admin

Check Also

گھر خریدیں بیوی مفت ملے گی ایسی آفر کے گھرکی قیمت جان کر خریدنے والوں کی لائن لگ گئ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) گھر خریدیں بیوی مفت ملے گی ایسی آفر کے گھرکی قیمت جان …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *