Breaking News

بختاور بھٹو زرداری کی منگنی پسند کے لڑکے سے ہوئی یا نہیں ؟ معروف صحافی کا تہلکہ خیز دعویٰ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کچھ عرصہ قبل امریکی بلاگر سنتھیا ڈی رچی کے ایک بیان نے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا تھا راؤ انوار کے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کروانے والے نقیب اللہ محسود اور ٓآصف علی زرداری کی بیٹی کے درمیان مبینہ تعلق کا دعویٰ کیا اور اس کے علاوہ انہوں نے پشتون تحفظ موومنٹ( پی ٹی ایم ) کی گلالئی اسماعیل کے حوالے سے بھی انکشاف کیا تھا۔

کہ وہ بھی مردوں کو لڑکیاں سپلائی کرنے کا کام کیا کرتی تھیں اس پر آپ نیوز کے اینکر جمیل فاروقی کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔ جمیل فاروقی نے کہا تھا کہ دو سال قبل میں نے یہ اسٹوری لکھی تھی -میراکالم بڑوں بڑوں کوہلا گیا مگر نہ ہل سکا تو سابق ایس ایس پی ملیرراؤانوار نہ ہل سکا -اب امریکی بلاگر بولی ہے تویہ اس بات کی تصدیق ہے کہ میرے کالم میں چھپنے والی اسٹوری من و عن درست تھی – جمیل فاروقی نے کہا کہ امریکی صحافیو! تحقیقات میں دو سال لگانے پر اکیس توپوں کی سلامی۔ 2018 میں چھپنے والے اس کالم میں اینکر جمیل فاروقی نے چونکا دینے والے انکشافات کئے تھے کہ نقیب اللہ محسود کے سندھ کی معروف سیاسی شخصیت کی بیٹی سے تعلقات تھے جس کی وجہ سے پولیس کو اسے ختم کرنے کا ٹاسک دیاگیا ہے۔ اپنے کالم میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ماڈل جیسا دکھنے والا نقیب اللہ محسود ایک اہم سیاسی رہنما کی بیٹی کے عشق میں گرفتارتھاجبکہ لڑکی بھی اس پر مرمٹی تھی نقیب اللہ محسود اور وہ لڑکی دونوں ماڈلنگ میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اپنے کالم میں جمیل فاروقی نے نقیب اللہ محسود اور اس لڑکی کے درمیان ہونیوالی ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس لڑکی نے نقیب اللہ محسود کو بتایا تھا کہ میں نکاح کے لئے تیار ہوں۔

جس پر نقیب اللہ محسود نے اسے کہا تھا کہ مجھے کچھ ڈر لگ رہا ہے ایک ڈر اپنی بیوی اوربچوں کا ہے۔ جبکہ دوسرا ڈر تمہارے گھر والوں کا ہے ، جس پر لڑکی نے اسے یقین دہانی کرائی تھی کہ کچھ نہیں ہوگا بعد ازاں یہ معاملات دونوں نے باہمی رضامندی سے جنوری کے دوسرے ہفتے تک موخر کردیئے تھے ۔ معروف اینکر پرسن جمیل فاروقی نے مزید انکشاف کیا کہ لڑکی کی ہر کال ٹریس کی جارہی تھی اور لڑکی کا امیر باپ جو کہ سندھ کی معروف سیاسی جماعت کا عہدیداربھی ہے اس نے اس معاملے سے بچنے کے لئے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او سے رابطہ کیا اور نقیب اللہ محسود سے نمٹنے کا کہا جس پر ایس ایچ او نے اس معاملے سے راﺅ انوار کو آگاہ کیا اور پھر ”سائیں“ کے حکم پر نقیب اللہ محسود کو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے ہوٹل کے باہرسے اٹھایا اور نامعلوم مقام پر لے گئے ۔ اس کالم میں جمیل فاروقی کا دعویٰ تھا کہ لڑکی کے والد جو کہ اہم سیاسی شخصیت بھی ہیں نے نقیب اللہ محسود کو راستے سے ہٹانے کا ٹاسک دیا تھا اور آخر کار اسے ہمیشہ کے لئے راستے سے ہٹا دیا گیا جمیل فاروقی نے اس حیرت انگیز داستان کے اختتام پر اپنے کالم میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ کہانی کتنی درست ہے اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا لیکن یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ بعدازاں دو سال بعد اس خبر کی امریکی صحافی نے تصدیق کی جس کے بعد سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا ۔

جبکہ اب معروف نیوز اینکر جو کہ آج کل ایک پروگرام کو ہوسٹ کرنا شروع ہوگئے ہیں اور سید علی حیدر کے نام سے جانے جاتے ہیں انہوں نے بختاور بھٹو اور محمود چوہدری کی منگنی کے حوالے سے حیران کُن دعویٰ کر ڈالا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اپنے وی لاگ میں سید علی حیدر کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو نے پسند کی شادی نہیں کی تھی بلکہ انکی شادی مکمل طور پر ارینج تھی اور انکے والد نے کروائی تھی، لیکن بختاور کا معاملہ ذرا الگ ہے۔ سید علی حیدرکا کہنا تھا کہ بختاور بھٹو کی منگنی کی تقریب نہایت سادہ تھی، اس میں صرف کچھ ہی لوگوں کو بلایا گیا، بختاور بھٹو کا کہنا ہے کہ محمود چوہدری ایک سلجھے ہوئے، احساس کرنے والے اور مذہبی انسان ہیں۔ علی حیدر کا کہنا تھا کہ محمود چوہدری شکل سے بھی ایسے ہی لگتے ہیں جیسے بختاور بھٹو نے کہا ، بختاور بھٹو کی جانب سے جب اظہار پسندیدگی کیا گیا تو پھر معاملہ آصف زرداری پر چھوڑ دیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ اب جو بھی کرنا ہے آپ نے ہی کرنا ہے۔ علی حیدر کا مزید کہنا تھا کہ بیٹی کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد آصف زرداری کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا ، زرداری صاحب چوہدری فیملی کو پہلے سے بھی جانتے تھے، لیکن جب انہوں نے تحقیقات کو مکمل کر لیا تو انہیں اپنی بیٹی کا انتخاب بالکل صحیح لگا، اور انہوں نے اس رشتے کے لیے رضامندی ظاہر کر دی۔

About Admin

Check Also

شادی کی تیسری رات دولہے نے دولہن کے ساتھ ایسا کام کردیا کہ دونوں خاندانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) شادی ہر انسان کی بڑی خواہش ہوتی ہے اور ہر انسان اپنی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *