Breaking News

نجی ٹی وی پروگرام میں پوچھے گئے سوال کا لیگی خاتون رہنما نے ایسا کیا جواب دیا جس نے سب کو حیران کر دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں نجی ٹی وی پروگرام میں میزبان نے ن لیگی خاتون رہنما بشری بٹ سے سوال پوچھا گیا کہ ’’ڈوبٹی کشتی میں سوار آپ کے پاس دو لائف جیکٹ ہیں ایک آپ اپنی اور دوسری آپ دو میں سے کسی ایک کو دے سکتی ہیں۔

اور آپشنز میں عمران خان اور مودی کے نام دے دیئے۔‘‘جس کے جواب میں بشری بٹ نے پہلے او گاڈ کہا پھر جھٹ سے نریندر مودی کو بچانے کا کہا ۔ جس کے بعد پروگرام میں شریک ایک شخص نے کہا اس پر تو سابق وزیراعظم میاں نواز شریف خوش ہونگے ، یہ کہنے کی دیر تھی کہ پروگرام قہقہے لگ گئے ۔ واضح رہے کہ واسع چوہدری اپنےپروگرام میں کئی سیاستدانوں کو بلا چکے ہیں جن سے طرح طرح سے سوال پوچھتے ہیں ۔ ماضی کے ایک پروگروام میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ کی رکن پنجاب اسمبلی بشری بٹ کوپروگرام میں بلایا اور ان سے چٹ پٹے سوال کیےتھے۔ دوسری جانب گیلپ پاکستان کی جانب سے نومبر 2020 کا پاکستان کے ٹاپ 5 ٹی وی چینلز کے پروگرامز کا موازنہ پیش کیا گیا ہے جس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کو ٹی وی پروگرامز میں سب سے زیادہ نمائندگی ملی جبکہ مسلم لیگ ن نمائندگی کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر رہی۔ ٹی وی ٹاک شوز میں دنیا نیوز پر تحریک انصاف کی نمائندگی سب سے زیادہ رہی۔دنیا نیوز کے پروگرامز میں تحریک انصاف کی شمولیت 79 اعشاریہ 17 فیصد رہی۔ مسلم لیگ ن کو ساڑھے 12 فیصد اور پیپلز پارٹی کو چار اعشاریہ 17 فیصد نمائندگی ملی۔ سماء ٹی وی کے پروگرامز تحریک انصاف کی شمولیت کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ہے۔ سما میں پی ٹی آئی کو 45 اعشاریہ 45 ، مسلم لیگ ن کو 40 اعشاریہ 91 اور پیپلز پارٹی کو 13 اعشاریہ 64 فیصد نمائندگی ملی۔ جیو نیوز کے پروگراموں میں بھی تحریک انصاف نے بھرپور شرکت کی ۔ اس کے پروگرامز میں تحریک انصاف نے 44 اعشاریہ 79 فیصد ، مسلم لیگ ن نے 41 اعشاریہ 94 فیصد اور پیپلز پارٹی نے 11 اعشاریہ 83 فیصد شرکت کی۔ تحریک انصاف کو زیادہ نمائندگی دینے والے چینلز میں اے آر وائی نیوز کا چوتھا نمبر رہا۔

About Admin

Check Also

مون سون بارشیں برسانے والا سسٹم پاکستان میں داخل آغاز کب سے ہوگا اور یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے پکی پیش گوئی کردی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)گرمی کے ستائے ہوئے عوام کے لئے بہت بڑی خوش خبری سامنے آ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *