Breaking News

ملتان جلسہ شروع ہونے سے قبل پی ڈی ایم کوبڑی کامیابی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پی ڈی ایم کا سیاسی پارہ ہائی ہو گیا ، ملتان جلسہ ہر صورت میں کرنے کا اعلان ، کارکنان رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے جلسہ گاہ پہنچنا شروع ہو گئے۔ دریں اثنا ملتان میں پی ڈی ایم کے جلسے کے باعث بیشتر سڑکیں بند کردی گئی ہیں جب کہ شہر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی، پی ڈی ایم کے جلسے کو روکنے کے لیے مختلف اضلاع سے پنجاب پولیس کی اضافی نفری کو طلب کر لیا گیا ہے۔

جب کہ کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں منگوالی گئی ہیں۔اسٹیڈیم کو کارکنان سے خالی کرا کے ایک بار پھر سے تالے لگا دیے گئے ہیں، اسٹیڈیم سے سیاسی رہنماؤں کے پینا فلیکس اور بینرز بھی اتار دیےگئے ہیں جب کہ چوک گھنٹہ گھر کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کر کے رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں ہیں۔ پولیس نے گیلانی ہاؤس جانے والے راستے سیل کردیے ہیں جب کہ شہر کی بیشتر سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی ہونے سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ، جبکہ ملتان کے بیشتر علاقوں میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ سروس بھی جزوی طور پر معطل رہی ۔تاہم بگڑتی صورتحال کو دیکھ کر آئی جی پولیس کی جانب سے یہ بیان جاری کیا گیا ہے کہ جلسہ گاہ جانے والے تمام راستوں سے رکاوٹیں ہٹا دی جائیں اور راستے کھول دیے جائیں ، جلسہ گاہ میں شریک ہونے والوں کو نہ روکا جائے ۔ دوسری جانب مسلم لیگ ( ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ سٹیڈیم کے اندر ہو یا سڑک پر ضرور ہوگا، حکومت کورونا نہیں اپوزیشن سے ڈر رہی ہے، ناکوں اور رکاوٹوں سے ان کا خوف عیاں ہے۔ مریم نواز جیل کاٹ چکی، دوبارہ گرفتاری سے ڈر نہیں، کسی کو شک نہیں یہ حکومت جانیوالی ہے۔ ملتان روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز نے کہا۔

جلسہ ہونے سے پہلے ہی کامیاب ہوچکا، حکومتی وزرا کی جانب سے جلسے ہو رہے ہیں، کیا جماعت اسلامی کے جلسے میں کورونا نہیں پھیلا ؟ مریم نواز جیل کاٹ چکی، دوبارہ گرفتاری سے ڈر نہیں، کسی کو شک نہیں یہ حکومت جانیوالی ہے۔مریم نواز کا کہنا تھا رکاوٹیں دیکھ لیں، یہ سب حکومتی خوف کی علامات ہیں، جلسہ سٹیڈیم کے اندر ہو یا باہر ضرور ہوگا، گھروں پر مشکلات آتی ہیں تو بیٹیاں باہر نکلتی ہیں، ملتان میں (ن) لیگ سے پہلے پولیس کا جلسہ ہو رہا ہے، پولیس والے بھی عوام سے تنگ ہیں ، حکومت کورونا سے نہیں، اپوزیشن سے ڈر رہی ہے، عمران خان اپنی نوکری بچانے کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے پیر کو ہر صورت جلسے کااعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی طاقت جلسے کو روکے گی تو عوام کا سیلاب اسے بہاکرلے جائیگا ،کارکن تمام رکاوٹیں توڑ کر آئیں ،جہاں جہاںپولیس یا کوئی بھی قوت راستے میں آتی ہے تواسے توڑیںاور آگے بڑھیں اگر وہ ڈنڈا ستعمال کرتے ہیں تو آپ کو بھی ڈنڈا استعمال کر نے کی اجازت ہے ، بیک ڈور کسی سے کوئی رابطے نہیں ،8دسمبر کو پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی طے ہوگی ۔ اتوار کو یہاں پی ڈی ایم کے رہنمائوں کے اجلا س کے بعد سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ، مسلم لیگ (ن)پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ اور سینیٹر مولانا غفور حیدر ی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔

کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی طرف سے پورے ملک میں عوامی جلسوں کا سلسلہ شروع ہے ، گوجرانوالہ ، کراچی ، کوئٹہ اور پشاور سے ہوتے ہوئے 30نومبر کو ملتان میں ایک عظیم الشان جلسہ ہونے جارہا ہے لیکن یہاں کی حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے اوچھے ہتکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں ، ملتان ، ڈیرہ غازی خان ، بہاولپور اور خانیوال سمیت مختلف شہروں سے کارکنوں کو گرفتار کیا جارہاہے ، یونین کونسل کی سطح کے ذمہ داران کو گرفتار کیا جارہا ہے اور عوام کو دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ اگر آپ جلسے میں گئے تو آپ کو تاوان کیا جائیگا ، تاوان کا لفظ بذات خود ایک غیر قانونی اورمجرمانہ لفظ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت اس وقت ریاستی دہشتگردی پر اتر آئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ واضح طورپر اعلان کرتا ہوں کہ (آج) تیس نومبر پیر کو جلسہ ہوکر رہے گااور اگر کوئی طاقت جلسے کو روکے گی تو انشاء اللہ عوام کا سیلاب انہیں بہا کر لیکر جائیگا ۔ انہوںنے کہاکہ میں تمام کارکنوں کو ہدایت دینا چاہتا ہوں کہ وہ تمام رکاوٹیں توڑ کر آئیں اورجہاں جہاں پر پولیس یا کوئی بھی قوت راستے میں آتی ہے تو ان کی قوت او گھیرے کو کو توڑیںاور آگے بڑھیں اگر وہ ڈنڈا ستعمال کرتے ہیں تو آپ کو بھی ڈنڈا استعمال کر نے کی اجازت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بھرپور مزاحمت کے ساتھ جلسہ ہوکر رہے گا ،ہم نے تمام صورتحال کا مقابلہ کر نے کیلئے حکمت عملی تیار کرلی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ آخر یہ ہتھکنڈے کیوں استعمال کئے جارہے ہیں ۔ انہوںنے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ تم نے دو سالوں میں جوعوا م کاحشر کر رکھا ہے ،غریب کے منہ سے نوالا چھینا ہے ،گھر چھین لئے ہیں ،روز گار چھین لیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ کسان ، مزدور ، محنت کش، تاجر ،غریب دوکاندار ، چھابری والا رورہے ہیں ،ہم ان کے زبان بننا چاہتے ہیں اگر آپ عوام کی زبان کو بند کر نے کی کوشش کر تے ہیں یا ان کو کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر عوام آواز بننا ہمارا حق بنتا ہے ، ہم کسی قسم کی لاقانونیت کو تسلیم کر نے کیلئے تیار نہیں ، پولیس گردی کو تسلیم کر نے کیلئے تیار نہیں ، ہم ہر صورتحال کا مقابلہ کر نے کیلئے تیار ہیں اگر جلسے کا رخ نہیں کر سکیں گے تو یاد رکھیں جیلوں کا رخ کریں گے بہادری کے ساتھ کریں گے تمہاری جیلیں بھر دینگے ۔ انہوںنے کہاکہ انتظامیہ نے جو ملتان میں رویہ رکھا ہے ، یہ پوری حکومت کا پلان ہے میں اس کے خلاف اگلے جمعہ اور پھر اتوار کو پورے ملک کے ضلعی ہیڈکوارٹرز پر مظاہرے اور احتجاج کا اعلان کرتا ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ ہم چاہتے تھے کہ تحریک آرام سے آرام آگے بڑھے شاید ان کی اپنی حماقتوں کی وجہ سے ہماری تحریک تیزی سے آگے بڑھے گی ہم نے کہا تھا کہ جنوری میں لانگ مارچ کرینگے لیکن اب شاید وہ چاہتے بھی یہی ہیں کہ ہم بہت جلدہی لانگ مارچ کا اعلان کریں اور اسلام آباد پہنچ کر ان کو بتائیں کہ تمہاری کیا اوقات ہے ، انشاء اللہ حکمرانوں کو ان کی اوقات بتائیں گے ۔

About Admin

Check Also

صلح کس نے اور کن شرائط پر کروائی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کسی کی صلح کروانا بھی بہت بڑا نیکی کا کام ہے اس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *