Breaking News

وزیراعظم عمران خان کو بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ اگر وہ ہزارہ برادری کے دھرنے میں گئے تو ۔۔۔۔سینئر صحافی نصراللہ ملک نے تہلکہ خیز دعوی کردیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصراللہ ملک نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے وزیراعظم عمران خان ہزارہ برادری کے دکھ میں شریک ہونے کے لئے تیار تھے اور اُنہوں نے پلان بھی مرتب کر لیا تھا تاہم “سرخ فیتہ ” بیوروکریسی اور سیکیورٹی جیسے مسائل اُن کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔

وزیراعظم کو  چاہئے کہ وہ اُنہیں دی جانے والی تجاویز  سائڈ پر رکھتے ہوئے ہزارہ برادری کے غم میں شریک ہوں کیونکہ کوئٹہ کی سخت سردی میں سڑک پر موجود کم سن بچوں ،بزرگوں اور عورتوں کے ساتھ  کوئی مزید سانحہ رونما نہ ہو جائے۔ تفصیلات کے مطابق نصراللہ ملک نے اپنے یوٹیوب چینل پر  مچھ میں جاں بحق ہونے والے گیارہ کان کنوں کے ورثاءاور ہزارہ برادری  کی جانب سے دیئے جانے والے دھرنے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  کوئٹہ شہر میں شدید سردی کے باوجود ہزارہ برادری کے دھرنے میں  ہزاروں افراد کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اُن کے پاس آئیں ، زخموں پر مرہم رکھیں اور دکھوں کا ازالہ کریں ،وزیراعظم کے آنے تک وہ اپنے پیاروں کی تدفین نہیں کریں گے،اس سے پہلے بھی اس قسم کے واقعات کوئٹہ کے اندر ہوتے رہے ہیں اور ہزارہ برادری اس پر احتجاج کرتی رہی ہے،بائیس ماہ پہلےبھی ایک ایساہی واقعہ پیش آیاتھاجس کےبعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ وہاں پر گئے،ہزارہ برادری اور مجلس وحدت المسلمین کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور اس بات کا اُن سے وعدہ کیا گیا کہ آئندہ ایسا واقعہ نہیں ہو گا ۔اُنہوں نے کہا کہ اب چار روز سے ہزارہ برادری کا حتجاج جاری ہے،وفاقی وزراء بھی جا چکے ہیں جبکہ زلفی بخاری بھی وہاں سے ہو آئے ہیں۔

وزیراعلیٰ  جام کمال بھی ہزارہ برادری اور مجلس وحدت المسلمین کی قیادت سے ملے اور اُنہیں کہا کہ وزیراعظم آنا چاہتے ہیں لیکن وہ کچھ دن بعد آئیں گے، اب سوال پیدا ہوتا ہےکہ وزیراعظم وہاں کیوں نہیں جا رہے؟وزیراعظم کو یہ بریف کیا گیا اور بتایا گیا کہ کوئٹہ جانے کی صورت میں انہیں دو قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،ایک تو یہ کہ وہاں مخالفانہ نعرے سننا پڑ سکتے ہیں ،تلخ باتیں سننا پڑیں گی اور لوگ غم و غصے کا اظہار بھی کریں گے ،لوگ حکومت کے خلاف کڑوی باتیں بھی کریں گےاور جو پہلے وعدے کئے گئے تھے وہ بھی یاد کروائیں گےدوسرا یہ تھا کہ اگر اس قسم کے واقعات ملک کے کسی دوسرے حصے میں  ہوتے ہیں تو پھر کہاں ، کہاں وزیراعظم جائیں گے؟سیکیورٹی کے حوالے سے وزیراعظم کو بریف کیا گیا کہ وہاں نعرے لگ سکتے ہیں ،احتجاج ہو سکتا ہے اور مشکل پیدا ہو سکتی ہے،وزیراعظم وہاں جائیں گے تو لوگ نعرے لگائیں گے ،مطالبات رکھیں گے،غم و غصے کا اظہار کریں گے اور برا بھلا بھی کہہ سکتے ہیں ، ہمارے ہاں شائد حکمران برا بھلا سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ نصراللہ ملک کا کہنا تھا کہ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی کہ جس پر وزیراعظم اپنا دورہ ہی موخر کر دیتے۔

وزیراعظم اور چیف ایگزیکٹو  کا کام ہے متاثرین کے پاس  جانا ،اُن کی بات سننا اور اُن کے دکھوں کا مداوا کرنا ،اِن کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کروانا ،اگر اس دوران  کوئی اپنے پیاروں کی لاشیں رکھ کر بیٹھا ہو اور اگر وہ چند ایسے  جملے غصے میں کہہ بھی دے تو چاہے وہ وزیراعظم ہو یا چیف ایگزیکٹو اسے ان تلخ جملوں سے کیا فرق پڑتا ہے؟عوام کے نمائندوں کو عوام کی باتیں سننا پڑتی ہیں ،عوام کو تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہےلیکن ہمارے ہاں بیورو کریسی، سرخ فیتہ اور سیکیورٹی کے نام پر بننے والا حصار ہوتا  ہے وہ اپنی اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وزیراعظم صاحب آپ کو یہاں جانا چاہئے اور یہاں نہیں ،وہ عمران خان کے راستے میں بھی رکاوٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کوئی چھوٹا واقعہ نہیں ہے،اگروزیراعظم کو وہاں اور کہیں اور بھی جانا پڑ سکتا ہےتو انہیں ضرور جانا چاہئے کیونکہ وزیراعظم کی اور کیا ذمہ داری ہوتی ہے ؟وزیراعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ کسی طریقے سے تدفین کا معاملہ حل ہو جائے تو وہ بعد میں وہاں جائیں ،اظہار تعزیت بھی کریں اور لواحقین سے پھر وعدے وعید کرتے ہوئے اب سخت ایکشن کی یقین دہانی کرائیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایسی کارروائیاں ایک مدت سے ہوتی آ رہی ہیں ۔

About Admin

Check Also

بریکنگ نیوز:13 مئی یا 14 مئی۔۔؟ملک میں عیدالفطر کب ہوگی تاریخ کا اعلان ہوگیا پوری قوم کے شاندار خبر

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جامعہ کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سربراہ پروفیسر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *