Breaking News

اس سعودی لڑکی نے وہ کام کردیا جو پچھلے 70 سالوں میں کوئی نہیں کر سکا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کینیڈا نے اٹھارہ سالہ سعودی لڑکی رہف محمد القنون کو اپنے ہاں پناہ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ سعودی عرب سے فرار ہو کر آسٹریلیا جا رہی تھیں اور کئی دنوں سے بنکاک میں تھیں۔ وہ آج ہفتہ بارہ جنوری کو ٹورانٹو پہنچ رہی ہیں۔ کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوہ سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔

کہ 18 سالہ رہف محمد القنون سعودی عرب میں اپنے اہل خانہ کی طرف سے بدسلوکی اور زبردستی شادی کے منصوبے سے فرار ہو کر بیرون ملک پناہ لے لینے کی خواہش مند تھیں۔ اسی لیے وہ اپنے وطن سے فرار ہوئی تھیں۔ وہ شروع میں آسٹریلیا جانا چاہتی تھیں مگر انہیں تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں حکام نے روک لیا تھا۔ اس کی وجہ ان کے پاس کوئی سفری دستاویزات نہ ہونا تھی، کیونکہ بنکاک میں سعودی اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان کا پاسپورٹ  ان سے لے لیا تھا۔ رہف محمد القنون گزشتہ کئی دنوں سے بنکاک ایئر پورٹ کے ایک ہوٹل میں مقیم تھیں۔ شروع میں تھائی حکام نے انہیں ملک بدر کر کے واپس سعودی عرب بھیجنے کا بھی سوچا تھا لیکن اس امکان کی انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کی طرف سے شدید مخالفت کی جانے لگی تھی۔ سوشل میڈیا پر رہف کی بنکاک سے سعودی عرب ممکنہ ملک بدری کے خلاف شدید احتجاج کے بعد تھائی حکام نے اپنا فیصلہ ملتوی کر دیا تھا اور انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں رہف کی مدد کے لیے سرگرم ہو گئی تھیں۔ مہاجر کی حیثیت مل گئی: اس پیچیدہ صورت حال کے آغاز کے چند ہی روز بعد اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے نے رہف کی پناہ کی متلاشی ایک سعودی خاتون کے طور پر حیثیت کو باقاعدہ تسلیم کر لیا تھا۔

About Admin

Check Also

طالبان کی حکومت کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والا ملک کونساہو گا ؟تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سینئر صحافی کامران خان نے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *