Breaking News

وزیر اعظم عمران خان نے اسد عمر کو اپنی کرسی پر بٹھادیا سینئر صحافی نے اسد عمر کو5 منٹ کیلئے وزیراعظم بنانے کی کہانی بتادی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینئر تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جب بھی خواجہ آصف کا نام سنتے ہیں تو انہیں شدید غصہ آ جاتا ہے ۔اسلام آباد کا ماسٹر پلان 1960 میں بنا ، اسلام آباد کا کل رقبہ 906 مربع کلومیٹر ہے، اسلام آباد کو 1992 میں پانچ زونز میں تقسیم کیا گیا۔

زون ون سب سے بڑا ڈویلپڈ رہائشی علاقہ ہے جس میں اسلام آباد کا ریڈ زون ، سیکٹر ڈی ، ای ، ایف ، جی ، ایچ اور آئی شامل ہیں۔زون ٹو میں ترنول کی جانب کے علاقے جبکہ زون فائیو میں روات کی جانب کے علاقے شامل ہیں، زون تھری اسلام آباد نیشنل پارکس کا علاقہ قرار پایا جس میں نجی تعمیرات کی کوئی گنجائش نہیں، یہ زون مارگلہ کی پہاڑیوں سے ہوتا ہوا مری کے قریب جا پہنچتا ہے۔اسلام آباد کا دیہی علاقہ زون فور میں شامل ہے۔ یہ مری روڈ اور لہتراڑ روڈ کا درمیانی علاقہ بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سملی روڈ تک کا علاقہ بھی اس زون میں شامل ہے۔ اس زون میں صرف فارم ہائوسز تعمیر کرنے کی اجازت تھی مگر 2010 میں جاری ہونے والے ریگولیشنز کے تحت زون فور میں فارم ہائوسز کے علاوہ نجی ہاوسنگ سوسائٹیوں کی اجازت مل گئی۔لیکن یاد رہے اسلام آباد کے اس دیہی علاقے میں 2019 تک بلڈنگ ریگولیشنز موجود نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس زون میں ہزاروں بلکہ لاکھوں گھر نجی زمینوں پر تعمیر ہوتے رہے۔ یہاں سرکاری زمین یا ایکوائرڈ لینڈ نہیں تھی۔ اسی وجہ سے یہاں بغیر کسی قانون کی موجودگی کے مکان تعمیر ہوتے رہے۔

وزیر اعظم عمران خان کا گھر بھی اسی زون میں تعمیر ہوا۔اسلام آباد کا زون تھری اور زون فور ایک دوسرے سے متصل ہیں۔ بنی گالہ کا علاقہ بھی انہی دونوں زونز میں آتا ہے۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا گھر کس زون میں شامل ہے۔ سرکاری دستاویزات کےمطابق عمران خان کا گھر موضع موہڑہ نور میں ہے۔ یہ علاقہ بنی گالا کا وہ حصہ ہے جو زون تھری سے باہر ہے۔ سروے آف پاکستان کے مطابق عمران خان کی رہائشگاہ زون فور میں آتی ہے اور یہ جگہ زون تھری ختم ہونے کے چھ سو میٹر کے بعد آتی ہے۔ زون فور میں نجی مکانات بنانا غیرقانونینہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی رہائش گاہ بھی غیر قانونی جگہ پر نہیں تھی۔ مسئلہ صرف یہ تھا کہ اس علاقے میں بلڈنگ کے قوانین ہی موجود نہ تھے۔ یہ قوانین 2019 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی روشنی میں بنائے گئے۔عدالتی حکم کے بعد قوانین اور ریگولیشنز بننےسے پہلے تعمیر ہونے والی رہائش گاہوں کو قانونی دائرے میں لانے کیلئے ایک فیس مقرر کی گئی جو زون فور کے تمام رہائشیوں پر لاگو ہو گی۔عمران خان نے قانون کی پابندی کرتے ہوئے اسی فیس کے تحت 12 لاکھ روپے سی ڈی اے کو جمع کرائے اور قانونی جگہ پر موجود عمارت کوریگولرائز کرایا۔

عمران خان کی رہائش گاہ سمیت ہزاروں رہائش گاہیں ایک ایسے وقت میں بنیں جب دارالحکومت کے دیہی علاقے کے بلڈنگ بائی لاز موجود ہی نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تعمیرات کو غیر قانونی کہنا غلط ہے۔ اب بائی لاز بن چکے ہیں اور اس زون میں موجود عمارتوں کی ریگولرائزیشن کا عمل شروع ہو چکا ہے۔سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ جب سپریم کورٹ بنی گالہ معاملہ پر فیصلہ ہو رہا تھا تو عمران خان نے کہا ایسے تو اچھا نہیں لگتا کہ وہ وزیراعظم کی کرسی پر ہوں اور کابینہ ڈیژن سی ڈی اے کی سمرے لے کر آجائے اور پوچھے کے عدالت پوچھ رہے رہی ہے کہ بنی گالا ریگولائز کرنے کیلئے کابینہ کے کیا تاثرات ہیں ؟اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نےاسد عمر کو بلایا اور انہیں اپنی کرسی پر پانچ منٹ بٹھا دیا ۔ سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ اسد عمر کو ملک کا پانچ منٹ کیلئے وزیراعطم بنایا گیا ، عمران خان اٹھے اور باہر جانے سے قبل کہا کہ میری غیر موجودگی میں اسد عمر آپ فیصلہ کریں کہ اس معاملے کا کیا مستقبل ہونا چاہیے ۔ان کا کہنا تھا کہ اسد عمر سمیت کسی وزیر کی جرات کہ وہ بنی گالہ کے معاملے پر کوئی اعتراض اٹھائیں ۔

About Admin

Check Also

بوٹ پالش بھی مہنگی ہو گئی اس لیے اب پالش سے پہلے ۔۔۔ مہنگائی کے طوفان پر حامد میر بھی بول پڑے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)یاد رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے یوٹیلیٹی سٹورز پر مختلف برانڈز کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *