Breaking News

پڑھئے ایک علم میں اضافہ کرنے والی تحریر

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اگر شادی کی پہلی رات دلہن کے ساتھ ملاپ نہ کیا جائے تو کیا اگلی صبح ہونے والا ولیمہ قبول ہو جائیگا یا نہیں؟ ہر مسلمان بھائی یہ پوسٹ لازمی پڑھے۔اہلیہ کیساتھ ملاپ کے بغیر ولیمہ کرناجائز ہے یا نہیں؟ اہم شرعی مسئلہ جس بارے میں جاننا ضروری ہےشادی کی تقریبات میں ولیمےایک ایسا عمل ہےجو مسنون ہے۔

 

یعنی نبیؐ نے اس کا حکم دیا ہے اور آپ نے خود بھی اپنی شادیوں کا ولیمہ کیا ہے.اس کا سب سے بڑا مقصد اللہ کا شکر ادا کرنا ہے کہ اللہ نے زندگی کے ایک نہایت اہم اور نئے موڑ پر مدد فرمائی اور اسے ایک ایسا رفیق حیات اور رفیق سفر عطا فرما دیا ہے جو اس کے لیے تفریح طبع کی خاطر کا باعث بھی ہوگا اور زندگی کے نشیب وفراز میں اس کا ہم دم،ہم درد اور مدد گاربھی ہوگا۔حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ دونوں کےساتھ نکاح کے بعد جب رسول اللہؐ نے خلوت فرمائی تو احادیث میں صراحت ہے کہ اس کے بعد دوسرے دن آپؐ نے ولیمہ کی دعوت کی۔اس سے اسی بات کا اثبات ہوتا ہے کہ ولیمہ نکاح سے پہلے نہیں ہے، بلکہ نکاح کے بعد ہونا چاہیے. البتہ اکٹھے رات گزارنے کے بعد دوسرے روز ہی ضروری نہیں بلکہ دو تین دن کے وقفے کے بعد بھی جائز ہے۔ علاوہ ازیں ولیمے سے قبل خلوت صحیحہ بھی ضروری ہے یا نہیں یا اس کے بغیر ولیمہ جائز ہے؟بعض لوگ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ ازدواجی تعلق سے پہلے ولیمہ جائز نہیں ہے، لیکن ایسا سمھجنا صحیح نہیں ہے ، کیوں کہ بعض دفعہ پہلی رات کو جب خلوت میں میاں بیوی کی ملاقات ہوتی ہے تو عورت مینسز کی حالت میں بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے ایسی حالت میں کسنگ سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا ۔نیز کسی اور وجہ سے بھی بعض دفعہ یہ سب کچھ نہیں ہو پاتا۔ اس لیے ولیمے کی صحت کے لیے ملاپ کولازم خیال کرنا صحیح نہیں ہے مخصوص قسم کے حالات میں اس کے بغیر بھی ولیمہ صحیح ہوگا۔

About Admin

Check Also

حضرت علی ؓ نے فر ما یا : اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو نیک بنانا چاہتا ہے تو اسے تین چیزوں کا عادی بنا دیتا ہے

اللہ اکبر ۔۔۔۔ حضرت علی ؓ نے فر ما یا کہ جو شخص مو ت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *