وزیر نے اوپر سے آکر۔۔؟؟؟ بادشاہ نے ہرصورت وزیر کی بیوی کو بستر پر لانے کا سوچ لیا تھا ایک دن ۔۔۔؟؟؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک بادشاہ بہت عیاش اور حسن پرست تھا اس کا حرم خوب صوت لڑکیوں سے بھرا رہتا تھا جس لڑکی پر اس کا دل آجاتا وہ اسی شام اس کے بستر پر پہنچا دی جاتی تھی۔ بادشاہ کا وزیر بہت سمجھدار اور مخلص آدمی تھا۔ ہر کام میں بادشاہ اس کی رائے کو اہمیت دیتا۔

اور ہر مہم میں اس کو ساتھ شریک رکھتا تھا۔ ایک دن محل میں دعوت عام چل رہی تھی ۔ سب وزیر مشیر اپنی بیگمات کے ساتھ تشریف لائے تھے ۔ کہ بادشاہ کی نظر وزیر کی بیوی پر پڑ گئی اتنی حسین عورت تو اس کے حرم میں بھی نہیں تھی جتنی حسین اس کے وزیر کی بیوی تھی۔ حسب معمول بادشاہ کی رال ٹپک پڑی لیکن مسئلہ یہ تھا اس بار سامنے کوئی عام عورت نہیں بلکہ اس کے عزیز وزیر کی بیوی اور عزت تھی ۔ ساری رات وہ سو نہیں سکا اور وزیر کی بیوی کے بارے میں سوچتا رہا اس کو کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ آخرکار اس کے دماغ نے ایک منصوبہ بنا لیا۔ صبح ہوئی تو بادشاہ نے وزیر کو دربار میں طلب کر لیا اور اس کو خط دے کر کہا کہ یہ خط فلا ں ملک کے بادشاہ تک پہنچانا ہے۔ لیکن یہ خط تم خود لے کر جاؤ گے اتنے خفیہ خط کے لیے تمہارے علاوہ کسی اور پر بھروسہ نہیں کرسکتا۔ وزیر نے ہمیشہ کی طرح بادشاہ سے کہا کہ حکم کی تعمیل ہوگی آپ کا خط میں خود حفاظت سے پہنچا کر آؤں گا۔ اگلی صبح وہ سو کر اٹھا اور اپنی بیوی سے مل کر ایک لمبے سفر پر روانہ ہوگیا۔ بادشاہ کو جب اطمینان ہوگیا۔

کہ وزیر سفر پرنکل چکا ہے تو وہ محل سے نکلا اور ٹہلتا ٹہلتا وزیر کے گھر جا پہنچا اور دروازے پر دستک دیے بغیر اند ر داخل ہوگیا وزیر کی بیوی نہا کر دھوپ میں بیٹھی بال خشک کر رہی تھی۔ بادشاہ سلامت کو اچانک دیکھ حیران ہوئی اور اٹھ کر بادشاہ کا استقبال کیا اور کہنے لگی کہ حضور کا اقبال بلند ہو آج ہم غریبوں کے گھر میں کیسے تشریف لے آئے آپ؟ بادشاہ کہنے لگا کہ میں سیر کرتا کرتا ادھر کو آ نکلا تھا سوچا کہ تم اپنے شوہر کے بنا گھر میں اکیلی ہوگی تم سے پوچھ آؤں کسی چیز کی ضرورت ہوتو اور خیال رکھنا میری ذمہ داری ہے۔ بادشاہ کی تواضع کی گئی۔ بادشاہ مطلب کی بات پر آگیا اس کے حسن کی تعریفیں شروع کردیں اور کہنے لگا کہ تم جیسی حسین عورت میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ وزیر کی بیوی سمجھدار تھی اس کو پہلے ہی شک ہوگیا تھا کہ بادشاہ نے جان بوجھ کر میرے شوہر کو دور دراز کے ملک بھیجا ہے تا کہ اس کی غیر موجودگی میں مجھے اپنے جال میں پھنسا سکے۔ اور بولی کہ حضور شیر جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے ۔ اس کو زیب نہیں دیتا کہ وہ مردار کھائے اور گندگی میں منہ مارے ۔

جب حکمران خود لٹیرے بن جائیں تو عوام انصاف لینے کس کے پاس جائیں۔ جھوٹے برتن میں منہ مارنا بادشاہ سلامت کی شان کے خلاف ہے وزیر کی بیوی کے منہ سے ایسی دانشمندانہ باتیں سن کر بادشاہ کو اپنی حرکت پر شدید افسوس ہوا وہ اٹھا اور باہر نکل گیا۔ دوسری طرف وزیر جب تھوڑا آگے گیا تو اس کو یاد آیا کہ بادشاہ کا خط تو وہ گھر میں تکیے کے نیچے ہی بھول آیا ہے اس نے گھوڑا واپس موڑا اور خط لینے گھر روانہ ہوگیا وہ گھر کے قریب آیا تو اس نے عجیب منظر دیکھا۔ بادشاہ اس کے گھر سے نکل رہا تھا وہ فوراً سمجھ گیا کہ بادشاہ نے اس سے کیا کھیل کھیلا ہے اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اپنا سامان اٹھا لے میں تم کو تمہاری ماں کے گھر چھوڑ کر سفر پرنکلوں گا۔ چنانچہ وزیر نے بیوی کو اس کے گھر چھوڑا ۔ اور خط لے کر سفر پرروانہ ہوگیا ایک مہینے بعد وزیر خط کا جواب لے کر واپس آگیا اور معمول کے مطابق دربار میں اپنے فرائض سرانجام دینے لگا۔ مہینے گزر گئے لیکن وہ اپنی بیوی کو لینے سسرال نہیں گیا۔ اس کی نظر میں اس کی بیوی گناہ گار تھی ۔ جس نے بادشاہ کے ساتھ بُرائی کی تھی۔ دوسری طرف بادشاہ کےعلم میں یہ بات آگئی تھی۔

کہ وزیر نے اپنی بیوی سے علیحدگی رکھی ہوئی ہے۔ ایک دن بادشاہ نے وزیر کو طلب کیا اور پوچھا کہ معلوم ہوتا ہے تم نے بہت عرصہ سے اپنی بیوی سے کوئی رابطہ نہیں رکھا ۔ وزیر نے کہا بادشاہ سلامت جب برتن جھوٹا ہوجائے اور کوئی دوسرا آپ کی غیر موجودگی میں اس کو استعمال کرلے تو اس برتن میں کھانا اچھا نہیں لگتا۔ بادشاہ فوراً بات کی تہہ تک پہنچ گیا کہ وزیر کو میری حرکت کا پتا چل گیا ہوگا۔ اسی لیے اس نے اپنی بیوی کو گھر سے نکال دیا ہے۔ تو وہ وزیر سے کہنے لگا کہ کچھ برتن ایسے پاک ہوتے ہیں کہ ان کو کوئی چاہ کر بھی گندہ نہیں کرسکتا وہ لوگ اپنے مالک کی غیر موجودگی میں کسی غیر کے ہاتھوں اپنا دامن کبھی آلودہ نہیں کرتے اس لیے ایسے لوگوں کے لیے دل میں کبھی غلط فہمی نہ رکھو۔ عقلمند وزیر اشارہ سمجھ گیا کہ اس نے کوشش ضرور کی لیکن میری بیوی نے اپنا دامن آلودہ نہیں ہونے دیا ، وہ اسی دن سسرال گیا اوراپنی بیوی کو گھر لے آیا اس طرح تینوں کی سمجھداری سے ایک گھراجڑنے سے بھی بچ گیا اور سب کےآپس کےتعلقات بھی متاثر نہیں ہوئے۔ دوستو! اسی لیے کہتے ہیں۔ فیصلے ہمیشہ سوچ سمجھ کر اور جذبات میں آئے بغیر کرنے چاہئیں تاکہ بعد میں پریشانی نہ اٹھانا پڑے۔

About Admin

Check Also

دوبھائیوں کی شادی ایک ہی دن ہوئی سہاگ رات کو ان کی بیویاں آپس میں بدل گئی،، پھر کیا ہوا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) دوبھائیوں کی شادی ایک ہی دن ہوئی سہاگ رات کو ان کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *