Breaking News

گیلانی کو شکست ۔۔۔!!!پاک فوج غیر جانبدار سے اچانک جانبدار اور زرداری راتوں رات سب سے ہلکے کیسے ہو گئے ؟پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر نے سب کچھ بتا دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اب جبکہ یوسف رضا گیلانی ہار چکے ہیں، تو ان سے سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا فوج راتوں رات جانبدار ہو گئی تھی؟…… اور اگر ایسا تھا تو اس کا جواب اب آپ کےپاس کیا ہے؟ میرا خیال ہے کہ گیلانی صاحب نے فوج کے بارے میں اپنے نقطہ ء نظر کی وضاحت کرتے ہوئے۔

’اب تک‘ کے جو الفاظ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمائے تھے وہ انہوں نے اپنے چیئرمین سے پوچھے بغیر فرما دیئے تھے۔ پاک فوج کے سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب زرداری (جو ہر ایک پر بھاری ہیں) اپنے امیدوار سے باز پرس کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اس سینیٹ الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں انہوں نے جو ریمارکس پاس کئے تھے، ان کی کیا ”تُک“ بنتی تھی؟سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پی ٹی آئی حکومت کو سنجیدہ کاموں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن مجھے خبر نہیں کہ یہ ’احساس پروگرام‘ کے پردے میں بہت سے ایسے کام منظر عام پر کیوں آ رہے ہیں جن کو بڑی آسانی سے ”غیر سنجیدہ“ کہا جا سکتا ہے۔ اس فضول خرچی کے پیچھے کون ہے جو وزیراعظم کو مشورے دے رہا ہے کہ وہ لنگر خانے اور پناہ گاہیں وغیرہ کھولیں اور ملک کی غریب آبادی کو برسرِ روزگار بنانے کی بجائے اس کو گداگری کی راہ پر ڈال دے۔ وزیراعظم نے اس نئے احساس پروگرام کا نام ”کوئی بھوکا نہ سوئے“ رکھ دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی گزشتہ 73سالہ تاریخ میں قوم کا کوئی بھی فرد بھوکا نہیں سویا۔ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان کے وہ مخیر حضرات اور رفاہِ عامہ کے وہ ادارے ہیں۔

جن کی خدا خوفی اور فیاضی نے ملک کےغریبوں کا تن اور من ڈھانپا ہوا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ ہم پاکستانیوں پر خدا کا یہ خاص کرم ہےکہ آج تک قوم کا کوئی بھی مرد یا عورت یا بچہ یا بوڑھا بھوک کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہارتا ہوا نہیں دیکھا گیا۔لیکن عمران خان نے جس طرح خود کھانا تقسیم کرکے اس ’نئے پراجیکٹ‘ کا افتتاح کیا ہے وہ ایک قسم کا بازاری سٹنٹ معلوم ہوتا ہے۔ پاکستان کی غریب پبلک میں سب کو روکھی سوکھی کھانے کو مل جاتی ہے۔ لیکن وزیراعظم نے اپنے ہاتھوں سے جس کھانے کو تقسیم کرنے کی طرح ڈالی ہے، وہ مجھے اس لئے ’بازاری‘ (انگریزی زبان کا بازاری) لگی کہ ان کھانوں کو جو لوگ وصول کررہے تھے ان کے چہرے مہرے، لباس اور تن و توش بھوکے ننگوں جیسے نہیں تھے…… اگر غریب آپ کو پاکستان میں کہیں نظر بھی آئیں گے تو وہ چولستان اور تھرپارکر (سندھ) کے وہ خاندان ہوں گے جن کی جھونپڑیاں دیکھ دیکھ کر ہول آنے لگتا ہے۔ ان کٹیاؤں کے مکین مرد و زن اور بچے بوڑھے سراپا مفلسی اور ناداری کا پیکر ہیں۔ وہاں سب سے بڑا مسئلہ پانی کی عدم فراہمی ہے۔ میرا خیال ہے وزیراعظم کو پاکستان کے افلاس زدہ حلقوں کو کھانا تقسیم کرنے کی بجائے ان لوگوں میں آبِ نوشیدنی کی تقسیم کا بندوبست کرنا چاہیے۔ اگر ایسا ہو جائے تو ان علاقوں میں غربت کے باقی مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے…… کھاتے پیتے، تندرست و توانا بلکہ ہٹّے کٹے گداگروں کو کھانا تقسیم کرنا ملک میں بھکاریوں اور مفت خوروں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے مترادف ہوگا۔اپوزیشن کے امیدوار (یوسف رضا گیلانی) کی آج کی شکست، حکومت کو یہ موقع بھی دے رہی ہے

About Admin

Check Also

معاملہ بگڑنے لگا! ویڈیو وائرل ہونے کے بعد محمد زبیر کے خلاف بڑا قدم اُٹھا لیا گیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما اور نواز شریف اور …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *