Breaking News

حریم شاہ مولاناطارق جمیل سے شادی کی خواہش مند نکاح کا پیغام بجھوا دیا مولانا صاحب نے آگے سے کیا جواب دیا جانیں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ مولانا طارق جمیل صاحب سے نکاح کی خواہشمند، نکاح کا پیغام بھی بھجوا دیا۔حال ہی میں دیئے گئے ایک انٹرویو میں ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ نے کہا بہت سے لوگ انہیں شادی کے پیغامات بھجواتے ہیں لیکن وہ شادی اپنے والدین کی مرضی سے کریں گی۔

لیکن انھوں نے مولانا طارق جمیل سے شادی کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ ان کی دلی خواہش ہے کہ وہ دنیا کی اس شان و شوکت سے الگ ہو کر ایک ایسے گھرانے سے وابستہ ہو جائیں جہاں اعلئ اخلاق و اقدار پائے جاتے ہیں۔تاہم طارق جمیل صاحب نے ابھی تک حریم شاہ کے پیغام کا کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔ یہ بھی پڑھیں۔۔۔ ایک دور دراز کے گاؤں میں ایک حکیم چلتا پھرتا کہیں سے آنکلا اور اپنی دکان بنا کر بیٹھ گیا اس گاؤں کےلوگوں کو علاج معالجے کی کوئی سہولت میسر نہ تھی اس لیے اس کا کام خوب چل نکلا ۔ کچھ ہی دنوں بعد حکیم نے یہ بات محسوس کر لی۔ ان سادہ لوح دیہاتیوں کے پاس میرے علاوہ کوئی معالج نہیں ہے لہذا مجھے خوب فائدہ اٹھانا چاہیے اب جیسے ہی کوئی گاہک اس کے پاس آتا۔ حکیم اس سے خوب پیسے بٹورتا اور دوا کے نام پر اس کو میٹھی گولیاں کوٹ کر دے دیتا دیہاتیوں کا چونکہ اس پر یقین بن چکا تھا اس لیے ان میں اکثر کو آرام بھی مل جاتا تھا۔ کرتے کرتے حکیم نے بہت سی دولت جمع کر لی گاؤں میں ایک چالاک عورت رہتی تھی جس کو سارے گاؤں والے ماسی ہی کہتے تھے ماسی چلتی پھرتی ریڈیو تھی ہر خبر پر نظر رکھنا اور پھر آگے پہنچانا اس کا پسند ید ہ کا م تھا۔

ماسی کی شروع سے ہی حکیم پر گہر ی نظر تھی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ کوئی حکیم نہیں بلکہ فراڈیا ہے جو حکیم بن کر لوگوں کو لوٹتا ہے لیکن اس کو حکیم کے خلاف کاروائی کرنے کا کوئی موقع نہیں مل رہا تھا۔ ایک شدید گر م دوپہر جب گاؤں کے سارے لوگ گھروں میں دبکے بیٹھے اونگھ رہے تھے تو ماسی اپنے گھر سے نکلی اور گرم لو سے بچتی بچاتی حکیم کے پاس پہنچ گئی ۔ حکیم نے ماسی کو کچے مٹکے کا ٹھنڈا پانی پلایا۔ اور آنے کا مقصد دریافت کیا۔ ماسی نے چور نظروں سے دائیں بائیں دیکھا اور حکیم کے کان کے پاس منہ لے جا کر بولی کہ مجھے مردانہ کمزوری ہوگئی ہے۔ کوئی اچھی سی دوا دے دو حکیم کوہنسی تو بہت آئی مگر وہ چھپا گیا۔ پہلے تو اس نے سوچا کہ ماسی کوبتا دے کہ یہ بیماری عورتوں کی نہیں مردوں کی ہے لیکن پھر اس پر حسب معمول لالچ غالب آگیا اس نے ماسی سے کہا کہ آپ فکر نہ کریں دوا ہے تو مہنگی لیکن آپ کو ایک ہفتے میں فرق پڑجائے گا۔ حکیم نے دوا کی پڑیا بنا کر ماسی کو دے دیدی اور جب پیسے طلب کیے تو ماسی نے کہا کہ میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں ہاں تم میرا ایک کانٹا رکھ لو یہ خالص سونے کا ہے حکیم کے تو مزے لگ گئے اس کو سوچ سے سو گنا زیادہ مل گیا تھا۔ جیسے ہی ماسی دوا لے کر دکان سے باہر نکلی حکیم اس کی بے وقوفی پر بہت دیر ہنستا رہا۔

جو مردانہ بیماری بتا کر مفت کی دوا سونے کے ایک کانٹے کے بدلے لے گئی تھی مگر ماسی تو اپنے نام ایک تھی اس نے شام ہوتے ہی شور مچا دیا کہ حکیم نے میرے گھر میں گھس کر میری عزت سے کھیلنے کی کوشش کی ہے۔ اور سارا سونا اور پیسے لے کر فرار ہوگیا ہے۔ گاؤں کے لوگ بہت حیران ہوئے اور ماسی کو ساتھ لے کر حکیم کی دکان پر جا پہنچے۔ لوگوں نے حکیم کے سامنے ماسی کے لگائے الزامات دہرائے تو حکیم بیچارہ پریشان ہوگیا اور کہنے لگا کہ نا تو میں اس کے گھر گھسا ہوں اور نا ہی اس کی عزت اور دولت پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ لیکن چالا ک ماسی ضد کر رہی تھی۔ کہ حکیم نے ایسا ہی کیا ہے اس کی دکان کی تلاشی لی جائے ۔ گاؤں والوں نے جب دکان کی تلاشی لی تو ماسی کا ایک کانٹا دکان سے برآمد ہوگیا جبکہ اس جیسا ایک کانٹا ماسی کے پاس موجود تھا اب حکیم مجر م ثابت ہوچکا تھا۔ حکیم نے اپنی صفائی میں کہا کہ یہ کانٹا میں نے ماسی کو دوائی دینے کے بدلے لیا ہے جب لوگوں نے پوچھا کہ کونسی دوائی تو حکیم بولا کہ مردانہ کمزوری کی دوائی۔ بس پھر کیا تھا حکیم کے چراغوں میں روشنی نا رہی ۔ چالاک ماسی نے نا صرف حکیم کی ساری دولت ہتھیا لی بلکہ اس کو گاؤں والوں سے جوتے بھی پڑوائے اب وہ حکیم حکمت چھوڑ کر مزدوری کرتا ہے ۔ لیکن برسوں گزر جانے کے بعد بھی وہ چالاک ماسی کو نہیں بھولا۔

About Admin

Check Also

بوٹ پالش بھی مہنگی ہو گئی اس لیے اب پالش سے پہلے ۔۔۔ مہنگائی کے طوفان پر حامد میر بھی بول پڑے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)یاد رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے یوٹیلیٹی سٹورز پر مختلف برانڈز کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *