Breaking News

ایک بدنام ترین شخص ناصر بٹ ، مریم نواز کے اتنے قریب کیسے ہوا اور وہ کیوں شریف خاندان کا ایک فرد لگتا ہے ؟ ڈاکٹر اجمل نیازی نے (ن) لیگیوں کو شرما کر رکھ دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) مریم نواز کو روایتی سیاست سے ہٹ کر سیاست کرنا چاہئے۔ انہیں جج ارشد ملک کی ’’بات‘‘ کی بنیاد پر پریس کانفرنس نہیں کرنا چاہئے تھی۔ وہ اگر پریس کانفرنس نہ کرتیں تو متنازعہ ویڈیو جج صاحب کی جیب میں رہتی۔ میں مریم نواز کیلئے دل میں نرم گوشہ رکھتا ہوں۔

نامور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ میری ملاقات ان سے نہیں ہوئی تو میری رائے ان کیلئے کچھ اچھی ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کی تو اس کی کوئی وجہ ہوگی۔ کیا اس طرح نوازشریف رہا ہو جائیں گے۔ وہ اس طرح رہا ہو بھی جائیں تو کیا ہو جائے گا۔ کوئی خاص فائدہ ملنے کا امکان ہے کیا؟ شہبازشریف‘ شاہد خاقان عباسی اور مریم نواز کو نوازشریف کی فوری رہائی کا مطالبہ اس طرح نہ کرنا پڑتا۔ ہمارے ہاں قید تو قائد کی عزت افزائی ہوتی ہے۔ قیدی اور قائد ’’لازم و ملزوم‘‘ ہیں۔ ناصر بٹ ایک بدنام آدمی ہے۔ وہ نوازشریف کا دوست ہے مگر وہ تو اب گھر کا آدمی لگتا ہے۔ مریم نواز کو اپنی ماں کلثوم نواز کا انداز سیاست بھی دل میں رکھنا چاہئے۔ مریم نواز کو فوری طورپر پریس کانفرنس نہیں کرنا چاہئے تھی۔ وہ جلد بازی سے گریز کریں۔ قیدی اور قائد کے سانجھے ذوق کو سنبھالنے پر قادر ہونے کا سلیقہ بھی خاص طورپر آنا چاہئے۔ میں نے ایک بار مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اور بینظیربھٹو اور مریم نواز کو کسی ایک جملے میں لکھ دیا تھا تو بڑبولے اور احساس کمتری کے مارے ہوئے کئی لوگ خفا ہوگئے۔ میں نے کہا کہ میں ان تینوں کے کسی طرح کے موازنے کے حق میں نہیں ہوں مگر ترتیب یہی ہے۔

مادر ملت اور دختر پاکستان اور مریم نواز۔ ابھی مریم نواز کوکسی ’’خطاب‘‘ کا انتظار ہے۔ میں مریم نواز کیلئے دعا گو ہوں۔متنازعہ اور معزول جج صاحب اب باقاعدہ سیاست میں آجائیں تو رونق رہے گی۔ میں انہیں ذاتی طورپر خوش آمدید کہتا ہوں۔ لوگ خوش آمدید اور خوشامد میں فرق کم سے کم لیتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ 20 برسوں سے میری جائیداد کا کھوج لگایا جا رہا ہے۔ میری گزارش ہے حضرت مولانا سے کہ 20 برس سے ان لوگوں کی حکومت تھی جو آجکل اپوزیشن میں ہیں اور جب وہ حکومت میں تھے تو حضرت مولانا بھی ان کے ساتھ حکومت میں تھے۔ اس بارے میں وہ کیاکہتے ہیں۔ اگر ان کی خفیہ جائیداد کا کھوج بھی لگا لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ کیا ہو جائے گا۔ وہ اپنے کسی نہ کسی ساتھی کو کہہ دیں گے کہ کوئی دینی مدرسہ بنا لیں۔ اس حوالے کو جتنا چاہئیں بڑھا لیں۔ میرا دل کہتا ہے کہ صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ کے منصب سے ہٹایا نہیں جا سکے گا۔ اب عمران خان بھی میدان میں اتر آئے ہیںاور وہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔ پہلے کبھی اپوزیشن نے اس طرح کا کام نہیں کیا ۔ اصل میں صادق سنجرانی ایک عام آدمی ہے کہ وہ اتنا امیر کبیر ہے اور نہ اتنا کرپٹ ہے۔ ہمارے ہاں سیاست میں یہ دو چیزیں بلکہ یہ دو صفات بڑی ضروری سیاستدان تو بڑے امیر کبیر آدمی ہوتے ہیں۔

یہ بہت ضروری ہے۔ کسی عام آدمی یعنی کم امیر آدمی کو سیاست میں قبول ہی نہیں کیا جاتا۔ صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ بنوانے کے لیے بہت زور شور سے کام کیا گیا تھا۔ اب انہیں ہٹانے کے لیے اتنا ہی زور شور نظر آ رہا ہے۔ پہلی بار بلوچستان یعنی ایک کم اہم صوبے سے چیئرمین سینٹ لیا گیا۔ اصل میں ا یک بحرانی کیفیت نے سیاستدانوں کو مجبور کیا کہ اس صورتحال کو قبول کر لیں۔ اب بھی سیاستدان مجبور ہو رہے ہیں کہ بلوچستان سے ہی چیئرمین سینٹ لائیں۔ اس ضمن میں میر حاصل خان بزنجو کا نام سامنے آ رہا ہے۔ بزنجو صاحب اچھے خیالات اور نظریات کے سیاستدان ہیں۔ وہ بلوچستان میں پاکستان کے دوستوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ میری گزارش تو بزنجو صاحب سے یہ ہے کہ اس منصب کے لیے اب انکار کر دیں اور سنجرانی صاحب کے حق میں اس سارے کھیل تماشے سے دور نکل جائیں۔ کوئی تو ایسا سیاستدان بھی بھرپور ایسا کام جسے یاد رکھا جائے اور لوگ حیران ہو جائیں کہ پاکستانی سیاست میں یہ بھی ہو سکتا ہے۔ آخر بتایا جائے کہ صادق سنجرانی کا قصور کیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے اپوزیشن کی پوزیشن خراب کرنے کی کوئی کوشش کی ہو۔ میرا خیال ہے کہ اُن سے زیادہ غیر جانبدار آدمی نہ ہو گا۔  اب بھی موقعہ ہے کہ اپوزیشن اپنے حالات پر غور کرے اور ایسی صورتحال نہ بنائے جو خود اس کے لیے اچھی نہ ہو۔ ڈاکٹر اجمل نیازی کالم۔

About Admin

Check Also

’’چالیس سال سےجیل میں بیگناہ آدمی ‘‘

اسلام آباد(نیووز ڈیسک) اجامو ایک غریب شخص کا اکلوتا بیٹا تھا 17 سال کی عمر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *