Breaking News

بیوی قربت کیلئے تیار نہیں تھی، آخر ساس نے بھی سمجھایا لیکن وہ مجبور تھی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) تمھیں کتنی بار بتا چکی ہوں۔ میں بچہ پیدا نہیں کروں گی۔ عزت نے فخر کے برابر کھڑے ہوتے ہوئے بتایا۔ میں نے کبھی بچوں کی بات کی تمھارے ساتھ فخر نے دھیمے لہجے میں پوچھا تھا۔ تمھاری امی تو کرتی ہیں ناں آج اُن کا فون آیا تھا کہنے لگیں فخر ہمارا اکلوتا بیٹا ہے۔

ہم چاہتے ہیں اُس کے ڈھیر سارے بچے ہوں۔ میں نے گائوں میں ایک لڑکی دیکھی ہے۔ وہ ہمارے ہی پاس رہے گی۔ فخر کو دوسری شادی کی اجازت دے دو بیٹی تو دے دو نا اجازت فخر نے مذاق کے انداز میں کہا۔ وہی شادی پہ شادی ایک شادی سے تم مردوں کا پیٹ ہی نہیں بھرتا۔ جس مرد کے پاس چار پیسے ہوتے ہیں وہ عیاشی کے لیے تین چار شادیاں کر لیتا ہے۔ عزت نے کھنکتی آواز میں کہا۔فخر نے بڑی اپنائیت سے عزت کے شانے پر ہاتھ رکھا پھر ہولے سے کہنے لگا جاگیر دار تو تمھارے پاپا ہیں میں تو کاشت کار کا بیٹا ہوں میری سات پشتوں میں کسی مرد نے دوسری شادی نہیں کی ہم عیاشی کے لیے نہیں گھر بسانے کے لیے شادی کرتے ہیں۔ فخر کی بات سنتے ہی عزت کا چہرہ مزید لال ہو گیا، وہ جلالی انداز میں بولی تم مجھے طعنے دو گے اب تم سے شادی کرنا میری زندگی کی سب سے بڑی بھول تھی۔ عزت دروازے کو زور سے م ہوئے بیڈروم سے چلی گئی۔گاڑی کی آواز پر فخر نے بیڈروم کی کھڑکی کا پردہ پیچھے کرتے ہوئے دیکھا۔ عزت کی گاڑی بیرونی گیٹ سے باہر نکل رہی تھی۔ فخر نے موبائل اُٹھایا اور ایک نمبر ملا دیا۔تہذیب کے موبائل پر گھنٹی بجنے لگی۔ تہذیب نے کتاب سے نظریں ہٹا کر موبائل اُٹھایا۔

جی فخر بیٹا تہذیب نے محبت سے کہا تھا۔ آنٹی وہ آپ کی طرف آ رہی ہے۔ فخر نے بتایا آج کس بات پر جھگڑا ہوا ہے تہذیب نے پوچھا۔ اکثر تو وہ بغیر بات کے ہی جھگڑ لیتی ہے۔ آج گاؤں سے امی کا فون آیا تھافخر کے بتانے سے پہلے ہی تہذیب نے بول دیاامی نے کہا ہو گا تم دوسری شادی کر لو۔ فخر لمبی سانس بھرتے ہوئے بولاجی کوئی پریشانی نہیں میں سمجھائوں گی اُسےوہ سمجھتی ہی تو نہیں اُلٹا سمجھانے لگتی ہے اب مجھے بھی لگنے لگا ہے۔ عزت سے شادی کر کے شاید میں نے غلطی کی ہے۔ اُس وقت میں نے صرف اپنے بارے میں سوچا تھا۔ اپنے والدین کے بارے میں نہیں۔ پریشان لگ رہے ہو تہذیب نے بات کا رُخ بدلا۔ جی آنٹی آج کل بہت پریشان ہوں۔تہذیب نے فخر کی بات کاٹتے ہوئے یک لخت پوچھا کیا ہوا بیٹا خیریت تو ہے۔ ہونا کیا ہے آنٹی گائوں کے چوہدریوں کی غلامی سے جان چھڑانے کے لیے سی ایس ایس کیا فورس جوائن کرتے ہوئے سوچا تھا کسی غریب کو انصاف دلوائوں گا مگر یہ سسٹم تو میرے ساتھ ہی نا انصافی کر رہا ہے۔ اب کس سے پنگا لے لیا تم نے تہذیب نے فخر کے ذہنی دبائو کوبھانپتے ہوئے ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا۔ ایس ایچ او کی غلطی پر بھی جج صاحب سرزنش میری کر دیتے ہیں۔

مجھے سب سے زیادہ دکھ اُس وقت ہوتا ہے جب ایک اَن پڑھ، جاہل، سیاست دان، میری یا میرے ساتھیوں کی بے عزتی کر دیتا ہے ہم اس ملک کے قابل ترین لوگ ہیں، ہم ایسا سلوک تومستحق نہیں کرتے۔فخر کے خاموش ہوتے ہی تہذیب بولی تم مجھے اُس جج کا نام بتائو میں مزاری صاحب سے ابھی بات کرتی ہوں۔ نہیں آنٹی جی آپ کو پتہ ہے مجھے یہ سب پسند نہیں ہے۔ میں اپنی محنت سے یہاں تک پہنچا ہوں۔ تم میری طرف آ جائو ڈنر اکٹھے کرتے ہیں۔ میں آئوں گا تو عزت کہے گی آگئے ہو میری شکایتیں لگانے۔ معافی آنٹی میں نہیں آ سکتا۔ ٹھیک ہے تو پھر میں ہی تمھاری طرف آ جاتی ہوں۔ تہذیب کے یہ کہنے پر فخر تھکے لہجے میں بولاآپ بھی نا آنٹی فریش ہو کر آتا ہوں۔ فخر نے فون بند کر دیا۔تہذیب نے اپنے خانسامہ کو اسٹڈی میں بلا کر چند ہدایات دیں۔ اُس کے بعد کچھ سوچتے ہوئے سگ۔ریٹ لگا لیا۔ سگ۔ریٹ کے ختم ہونے سے پہلے ہی عزت بھی آ ٹپکی اور آتے ہی اپنا فیصلہ سنا دیا میں فخر سے ڈیورس لینے لگی ہوں۔ تم بانجھ ہو اس لیے یا پھر کوئی تیسرا مل گیا ہے تہذیب نے سگ۔ریٹ کو ایش ٹرے میں مسلتے ہوئے کہا۔عزت نے تہذیب پر شکوے سے بھر پور نگاہ ڈالی۔تہذیب معزز لہجے میں بولی بیٹھ جاؤ عزت بیٹھ گئی۔

چاہتی کیا ہو زندگی سےتہذیب کے سوال پر عزت آنکھیں مٹکاتے ہوئے سوچنے لگی۔ عقل سے جواب ملنے کے بعد عزت فٹ سے بولی آزادی کس سے تہذیب نے یکایک پوچھا۔ عزت ایک بار پھر سوچنے پر مجبور ہو گئی۔ جو سوچ میں ڈال دے نا تو وہ ضرورت ہوتی ہے اور نا ہی خواہش تہذیب کی بات کا جواب دینے کی بجائے، عزت نے بات کا رُخ ہی بدل دیا فخر کی ماں اُسے کہتی ہے دوسری شادی کر لی اُس نے کر لی کیا تہذیب نے پوچھا۔فخر کی ماں کو ڈھیر سارے بچے چاہییں۔ عزت نے تلخی سے بتایا۔ اُسے بتا دو کہ تم بانجھ ہو تہذیب نے مشورہ دیا۔ وہ مجھے چھوڑ دے گا۔ نہیں چھوڑے گا چاہے تم اُسے دوسری شادی کی اجازت دو یا نہ دووہ مجھے خوش نہیں رکھتا۔ تم خوش رہنا ہی نہیں چاہتی۔ آپ میری ماما ہیں یا اُس کی اِس وقت میں ماں کے ساتھ ساتھ ایک منصف بھی ہوں عزت فخر اب بھی سمجھ جائو۔ کیا سمجھانا چاہتی ہیں مجھے اُسے اپنی زندگی کے دونوں راز بتا دو راز بتا دوں تاکہ وہ بات بات پر مجھے ذلیل کرتا رہے عزت نے چڑتے ہوئے کہا۔ ذلیل تو تم اُسے کر رہی ہو تہذیب اپنی ایزی چیئر سے اُٹھ کر عزت کے روبرو لیدر کے کالے صوفے پر آ بیٹھی۔ تم نے مجھ سے کئی بار پوچھا۔

کہ میں نے تمھارے پاپا شاہ عالم مزاری سے شادی کیوں کی کیوں کی عزت نے بات کاٹتے ہوئے پوچھا۔ وہی تو بتانے لگی ہوں میں الحمرا میں تھیٹر کر رہی تھی مزاری صاحب نے مجھے دیکھا اور دیکھتے ہی رہ گئے۔ پلے کے اختتام پر ہماری ملاقات ہوئی۔ مزاری صاحب نے کہا میں شادی شدہ ہوں، اس کے باوجود آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے اُن کا اِس طرح پرپوز کرنا ایک مذاق لگا میں نے بھی مذاق میں بول دیا حق مہر میں کیا دیں گے میں یہ بول کر وہاں سے آ گئی اگلے دن شام کے وقت ہمارے گھر مزاری صاحب کا منشی ایک خط اور تین فائلیں چھوڑ گیا یہ گھر اور گلبرگ کے دو پلازے مزاری صاحب نے میرے نام کر دیے تھےخط میں لکھا تھایہ حق مہر نہیں ہے۔ پہلی ہی ملاقات میں مجھے بھی مزاری صاحب بہت اچھے لگے تھے اماں کو ساری بات بتائی تو وہ مجھے سمجھانے لگیں وہ تم سے دس بارہ سال بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ شادی شدہ بھی ہے۔میں نے ایک شرط کے ساتھ مزاری صاحب سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیاوہ شرط کیا تھی عزت نے جلدی سے پوچھا۔ہماری شادی میں مزاری صاحب کے سارے خاندان کے ساتھ ساتھ اُن کی پہلی بیوی اور بچے بھی شرکت کریں۔

پھر ایسے ہی ہوا۔ میںنے مزاری صاحب کی پہلی بیوی اور بچوں کو دل سے قبول کیا اور انھوں نے مجھے۔ مرد کی ہوس ایک شادی سے کیوں نہیں پوری ہوتی عزت نے حقارت سے پوچھا۔ جبلت کو ہوس کا نام مت دو مرد کا دل ایک پر آ بھی جائے تو دوسری کو دیکھ کر مچل ضرور جاتا ہے۔ ایسے سمجھ لو کہ عورت مورتی ہے اور مرد پجاری اب آرتی تو پجاری ہی اُتارے گا، نا موتی تو نہیں سیدھی سی بات ہے مرد کی جبلت میں رنگین مزاجی ہے۔عورت کی جبلت میں کیا ہے عزت نے سوال کیا۔ حیا اور ممتا عورت رنڈی ہی کیوں نہ ہو اُس کے اندر سے حیا اور ممتا کبھی نہیں مرتیں۔ عورت کو رنڈی بنانے والا بھی تو مرد ہی ہوتا ہے عزت نے تیز دھاری لہجے میں کہا۔ تہذیب ہلکا سا مسکرائی پھر ارد گرد دیکھا اُس کے سگ۔ریٹ، ایش ٹرے اور موبائل ایزی چیئر کے ساتھ سائیڈ ٹیبل پر پڑے ہوئے تھے۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھی اور سب کچھ اُٹھا لائی۔ صوفے پر بیٹھتے ہوئے اُس نے ایک نمبر ملایا۔ اسٹڈی میں ڈرنک دے جائو۔ چند منٹ بعد ملازمہ ایک ٹرولی پر وسکی، سوڈا، برف اور ڈرائی فروٹ سجا کر لے آئی۔ ملازمہ نے وہ ٹرولی صوفے پر بیٹھی ہوئی تہذیب کے برابر میں لا روکی اور خود مہذب کھڑی ہو گی۔

تم جائو میں بنا لوں گی۔ ملازمہ وہاں سے چلی گئی۔ تہذیب نے ایک گلاس میں سوڈا ڈالتے ہوئے پوچھاڈرنک بنائوں تمھارے لیے موڈ نہیں ہے عزت نے بتایا۔تہذیب نے اپنا پیگ بنایا پھر ڈرائی فروٹ والی ٹرے، عزت کو پیش کی۔ عزت نے اُس میں سے کاجو کے چند دانے اُٹھا لیے۔مزاری صاحب ش۔راب نہیں پیتے اور میں نے شادی سے پہلے ہی پینا شروع کر دی تھی شادی سے اگلے دن میں نے اُن سے ش۔راب، پینے کی فرمائش کی تو انھیں حیرت ہوئی وہ کہنے لگے دوسری شادی حلال ہے اور ش۔راب حرام۔ سگ۔ریٹ تو حرام نہیں ہے۔ میں نے جلدی سے بتایا۔ مزاری صاحب مسکرا دیے۔ پھر کہنے لگےمرجانا مگر میرا رقیب نا پیدا ہونے دینا رقیب مطلب عزت نے اُلجھتے ہوئے پوچھا۔ تہذیب نے عزت کو جواب دینے کی بجائے گلاس میں سے ایک گھونٹ پیا پھر دوسرا۔ آخری گھونٹ میں اُس نے اپنا سارا پیگ ختم کر کے خالی گلاس ٹرولی پر رکھ دیا پھر اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ وہ آنکھیں بند کیے ہوئے مسکرا رہی تھی۔آپ مسکرا کیوں رہی ہیں عزت نے حیرت سے پوچھا۔ سوچ رہی ہوں ش۔راب پی کے زبان پر اُس کا نام لانا چاہیے یا نہیں۔ اگلے ہی لمحے تہذیب نے انکھیں کھولتے ہوئے کہا کسی کتاب میں پڑھا تھا۔

جسم ناپاک بھی ہو پھر بھی دل اور زبان پاک ہی رہتے ہیں اس لیے لے لیتی ہوں اُس کا نام میرے مولا نے عورت میں برداشت کی طاقت مرد سے زیادہ رکھی ہے۔ وہ محبت میں ش۔راکت بھی برداشت کر لیتی ہے جبکہ مرد نہیںآپ کے مولا نے ساری آسانی تو مرد کو دے دی ہمارے حصے میں آئی تو صرف برداشت عزت نے شکایتی انداز میں کہا۔ تہذیب نے چند لمحے سوچا پھر سگ۔ریٹ لگا لیا۔ سگ۔ریٹ کے چند کش لگانے کے بعد وہ بولی اعلیٰ کام کے لیے اہل لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے میرے مولا نے عورت کو تربیت کا موقع فراہم کیا اور مرد پر کفالت کی ذمہ داری ڈالی۔ میرے نزدیک تربیت اعلیٰ کام ہے کفالت کی نسبت مگر آج کی عورت تربیت کو چھوڑ کر کفالت کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔ کفالت سے صرف گھربنتا ہے۔ تربیت اُسے سنوارتی، سجاتی اور قائم بھی رکھتی ہے۔ مجھ جیسی سمجھانے لگے تو تمھارے جیسی کہتی ہیں آپ پرانے عہد کی ہیں۔ آپ نے عورت کی آزادی کے لیے آخر کِیا ہی کیا ہے گھر کی چار دیواری اُنھیں پنجرہ لگتی ہے۔ کوئی بتائے اُنھیں یہ پنجرہ نہیں پناہ گاہ ہے۔ پناہ گاہوں میں کمزور رہتے ہیں۔ عزت نے خفگی سے بتایا۔ تہذیب نے اپنی انگلیوں میں آدھے سگ۔ریٹ کو ایش ٹرے میں مسلنے کے بعد کہا۔

پناہ گاہ امن کی جگہ کو بھی کہتے ہیں عورت کو امن کی جگہ پر ٹھہرا کے۔ مرد سارا دن باہر کفالت کی جنگ لڑتا ہے۔ہم بھی یہ جنگ لڑ سکتی ہیں ہم نے تعلیم گھر بیٹھنے کے لیے تھوڑی حاصل کی ہے۔ عزت جذباتی ہوتے ہوئے بولی۔ تہذیب نے ہلکا سا قہقہہ لگایا پھر کہنے لگی نادان لڑکی جیون ساتھی سے مقابلہ کون کرتا ہے مرد چار قدم اُٹھائے تو عورت کو پانچ اُٹھانے پڑتے ہیں۔ وہ چار کے مقابلے میں چار اُٹھانے کی کوشش میں اپنا حسن کھو بیٹھے گا اپنا حسن کھو بیٹھے گی مطلب عزت نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔ احساس، محبت، شائستگی، حیا، ممتا، نزاکت، یہی تو زن کا حسن ہے۔ مرد و زن تو سائیکل کے دو پہیوں جیسے ہیں۔ آگے پیچھے ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اب پچھلا پہیہ آگے والے سے ہی مقابلہ شروع کر دے تو سائیکل تو ٹوٹ گئی ناہم ہی پیچھے کیوں آگے کیوں نہیں عزت نے بڑے اعتماد سے کہا۔ محافظ ہی آگے چلتے ہیں، محبوب نہیں عورت محبوب اور مرد اُس کا محافظ ہے۔ تہذیب نے بڑے مزے سے بتایا۔ عزت نے کڑوے کسیلے لہجے میں پوچھا اُردو کا کون سا ناول پڑھ رہی ہیں آج کل عزت کے کڑوے کسیلے لہجے کے باوجود تہذیب میٹھے لہجے میں کندھے اُچکاتے ہوئے بولیاس نا چیز کے جملے ہیں۔ تھیٹر میں میرے لکھے ہوئے پر تالیاں بجتی ہیں یہاں زندگی بھرعورتوں کو گالیاں پڑتی ہیں میں چاہتی ہوں عورتیں برابری کے ساتھ زندگی کا سفر طے کریں۔ عزت نے جوش سے کہا۔ قدم برابر ہوں تو سفر رُک جاتا ہے۔ تہذیب کے کہتے ہی عزت نے پوچھ لیا آسان لفظوں میں بتائیں سائیکل والی مثال تمھیں پسند نہیں آئی تھی ایسے سمجھ لو مرد اور عورت ایک جسم کے دو پیر ہیں سفر شروع کرنے کے لیے ایک قدم تو پہلے اُٹھانا ہی پڑے گا۔

About Admin

Check Also

میں اپنے شوہر کی خود دوسری شادی کراوں گی صنم بلوچ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) صنم بلوچ کے میاں دوسری شادی کا سوچ رہے ہیں جس پر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *