Breaking News

جنرل فیض حمید کور کمانڈر پشاور چارج سنبھالتے ہی اِن ایکشن!پہلی بڑی خبر آگئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) واضح رہے کہ جنرل فیض حمید جو کہ اس سے قبل ڈی جی آئی ایس آئی کے فرائض انجام دے رہے تھے تاہم اُنہیں تبدیل کر کے کور کمانڈر پشاور تعینات کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے کافی تنازعہ بھی پیدا ہوا تھا اور حکومت اور فوج کے مابین خلیج پیدا ہو گئی تھی۔

جبکہ اب نئے کور کمانڈر پشاور جنرل فیض حمید نے چارج سنبھالنے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخواہ محمود خان سے تعارفی ملاقات کی،ملاقات کے دوران صوبے اور خصوصا انضمام شدہ اضلاع میں سکیورٹی کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سے نئے کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی تعارفی ملاقات چیف منسٹر ہاوس پشاور میں ہوئی۔ملاقات کے دوران صوبے میں امن و امان کی عمومی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وزیر اعلیٰ خیبر پختنخواہ محمود خان نے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔اور پاک فوج کی پیشہ وارانہ قابلیتوں کوسراہا اور پاک فوج کی قبائلی علاقوں میں امن و امان،شہدا کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ دوسری جانب پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے مشہور ٹیلی کام کمپنی”ٹیلی نار” کے پاکستان چھوڑنے سے متعلق خبروں کی وضاحت دیدی ہے۔تفصیلات کے مطابق کچھ دنوں سے اخبارات اور سوشل میڈیا پر ٹیلی نار کے پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کرنے سے متعلق خبریں گردش کررہی تھیں جس کی بنیاد ٹیلی نار کے سی ای او کا وہ بیان تھا۔

جس میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت ایشائی ممالک میں انضمام کے مواقع دیکھ رہے ہیں۔ان کے اس بیان کے بعد پاکستان میں یہ خبر پھیل گئی کہ وارد کی طرح ٹیلی نار بھی پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کرکے کسی اور کمپنی میں ضم ہونے جارہی ہے۔تاہم ان خبروں کے حوالے سے پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی پاکستان میں اپنی سروسز بند نہیں کررہی اور نہ ہی کسی دوسری کمپنی میں ضم ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت ہے۔پی ٹی اے نے اپنی وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ٹیلی نار کی پاکستان میں بندش کی غلط خبریں سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہیں، پی ٹی اے نے کبھی ٹیلی نار سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا، ٹیلی نار کی جانب سے ملک میں اپنی خدمات کی فراہمی معطل کرنے کے حوالے سے کوئی درخواست بھی موصول نہیں ہوئی ہے۔پی ٹی اے کے مطابق کسی بھی کمپنی کی جانب سے دوسری کمپنی میں انضمام کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی کی منظوری درکار ہوتی ہے، ٹیلی نار کی جانب سے اس حوالے سے بھی کوئی درخواست نہیں دی گئی ہے، پی ٹی اے کے این او سی کے بغیر کوئی آپریٹر اپنے آپریشنز کو دوسری کمپنی میں ضم نہیں کرسکتے۔

About Admin

Check Also

انا للہ واناالیہ راجعون۔۔۔اچانک انتقال سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے گھر صف ماتم بچھ گئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر انسان نے موت کا ذائقہ چکھنا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *