Breaking News

عمران خان کی جانب سے وفاقی وزیروں کی کارکردگی کس بنیاد پر جانچی گئی؟وہ باتیں جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سوشل میڈیا کے بعد اب وزیراعظم عمران کی طرف سے بہترین کارکردگی کی حامل وزیروں میں تعریفی اسناد کی تقسیم کو اپوزیشن کی طرف سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور حزب اختلاف کی جماعتیں اسے وزیراعظم عمران کی محض اشتہاری مہم سے تعبیر کر رہی ہیں۔یہ تنقید اپنی جگہ مگر پہلے ان سوالات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

جو اس عمل کی شفافیت سے متعلق اٹھائے گئے ہیں۔وزرا کا وزیراعظم عمران خان کے ساتھ معاہدہ: چھ ماہ قبل وزیراعظم کی کابینہ میں شامل تمام وزیروں نے عمران خان کے ساتھ ایک ’پرفارمنس ایگریمنٹ‘ پر دستخط کیے، جس کا مقصد یہ تھا کہ تمام وزیر اس بات پر راضی ہیں کہ ان کی وزارتوں کی کارکردگی کو اہداف کی بنیاد پر جانچا جائے اور اس اعتبار سے ان کی درجہ بندی بھی کی جائے۔جب تمام وزرا نے اس معاہدے پر دستخط کر دیے تو وزیر اعظم نے اپنے معاون خصوصی شہزاد ارباب کو تمام وزارتوں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپ دی۔جعمرات کو دس وزارتوں کی کارکردگی کو بہترین قرار دیتے ہوئے ایک تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں وزیراعظم نے بہترین کارکردگی دکھانے والے وزرا میں تعریفی اسناد تقسیم کیں اور کہا کہ تعریفی اسناد سے کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور وزرا کو کارکردگی مزید بہتر کرنا ہو گی۔شہزاد ارباب کے تحت کام کرنے والے حکام سے تفصیل سے بات کی ہے اور ان اہداف کی تفصیلات حاصل کی ہیں جن کی بنیاد پر وزارتوں کی کارکردگی کو جانچا گیا۔وزیراعظم دفتر میں ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی کہ تمام وزیروں نے وزیراعظم سے معاہدہ کیا تھا۔

جس کے بعد تمام کام شہزاد ارباب اور متعلقہ محکموں نے سرانجام دیا۔خیال رہے کہ شہزاد ارباب خود بیوروکریٹ بھی رہ چکے ہیں اور ان کی سی وی کے مطابق انھیں گورننس کے شعبے میں 40 برس سے زیادہ کا تجربہ ہے۔اگر ان کی تیار کردہ وزارتوں کی کارکردگی رپورٹ پر نظر دوڑائی جائے تو ایسی تصویر سامنے آتی ہے جیسے اس وقت ملک میں بہترین گورننس کا ماڈل قائم ہو چکا ہے اور ایک سال کے دوران تمام ہی وزارتوں کی کارکردگی مثالی رہی ہے۔جب وزیراعظم عمران خان سے شہزاد ارباب کو تمام اختیارات حاصل ہو گئے تو انھوں نے چار مختلف وزارتوں سے گریڈ 21 کے مزید پانچ افسران چنے۔یوں وزیر اعظم کے معاون خصوصی کی سربراہی میں ایک چھ رکنی کمیٹی نے روزانہ کی بنیاد پر تمام وزارتوں کو دیے گئے اہداف کی جانچ پڑتال شروع کر دی۔اس کمیٹی نے گذشتہ دو برس کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے روزانہ پانچ سے چھ وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے تقریباً دو ہفتوں میں تمام وزارتوں کا آڈٹ مکمل کر کے اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی۔دستاویزات کے مطابق شہزاد ارباب کے ساتھ اس کمیٹی میں ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن بھی شامل تھے۔

جن کی سربراہی میں پیئر ریویو کمیٹی نے تمام وزارتوں کو اپنے اہداف صیحح معنوں میں حاصل کرنے کے لیے رہنمائی بھی فراہم کی۔اسٹیبلشمنٹ، فنانس اور پلاننگ ڈویژنوں کے افسران نے بعد میں ان اہداف کا وزیراعظم کے معاون خصوصی کی سربراہی میں مل کر جائزہ لیا اور کارکردگی رپورٹ مرتب کی۔اس وقت وفاقی وزارتوں کی تعداد سمیت ڈویژن بھی اگر اس میں شامل کر لیے جائیں تو کل 41 وزارتوں اور ڈویژن کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا یعنی شہزاد ارباب کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے تمام وزارتوں سمیت تمام ڈویژن کی کارکردگی کو بھی جانچا۔ واضح رہے کہ شہزاد ارباب کمیٹی کی درجہ بندی میں تمام وزارتوں نے 80 فیصد سے زائد نمبر حاصل کیے ہیں۔ مراد سیعد کی وزارت مواصلات سمیت پانچ ایسی وزارتیں ہیں جن کی کارکردگی 90 فیصد سے بھی زائد رہی۔ یوں اس وقت کسی بھی وزیر کو یہ خطرہ نہیں کہ اس کی وزارت کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی۔حکام کے مطابق یہ سب مقابلے کی فضا کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا۔ اس کا مطلب بالکل ایسے صحت مندانہ مقابلے کی دوڑ شروع کرنا ہے، جیسے کسی سکول میں اس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔حکام کے مطابق تمام وزاتوں نے خود لکھ کر دیا تھا۔

کہ انھوں نے اپنے لیے کیا اہداف طے کر رکھے ہیں اور کتنے عرصے میں یہ اہداف حاصل کر لیے جائیں گے۔ ارباب کمیٹی نے 1090 اہداف کا دو طریقوں سے کوانٹیٹیٹو (یعنی کتنا کام کیا) اور کوالیٹیٹو (یعنی اس کا معیار کیا ہے) کی بنیاد پر جائزہ لیا۔کارکردگی رپورٹ کے مطابق ان 1090 منصوبوں میں سے 426 رواں برس جون تک مکمل ہو جائیں گے جبکہ باقی اگلے سال جون تک مکمل کیے جائیں گے۔ کوانٹیٹیٹو پہلو سے جائزہ لیتے ہوئے اہداف کی تکمیل کا جائزہ لیا گیا۔ یہ بہت اہم پہلو ہے کیونکہ کارکردگی رپورٹ میں اس معیار کے جائزے کے لیے کل 70 نمبر بنتے ہیں۔کوالیٹیٹو معیار کے 30 فیصد نمبرز رکھے گئے تھے۔ اس معیار کے تحت چار پہلوؤں سے وزارتوں کی کارکردگی کو جانچا گیا ہے۔پہلا یہ کہ کسی وزارت کا دیگر وزارتوں پر کس حد تک انحصار تھا اور پھر اسے کس انداز میں حل کیا گیا۔ دوسرا یہ کہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کس قسم کی کوششوں کی ضرورت تھی، تیسرا کہ ہدف خود کس حد تک معیاری تھا اور چوتھا یہ کہ وزیر اعظم سے کیے گئے معاہدے سے ہٹ کر کون سے منصوبے شروع کیے گئے اور پھر ان کا نتیجہ کیا نکلا۔کارکردگی کا جائزہ لینے والی ریویو کمیٹی نے سال 2020-21 کے دوران 1711 ایسے مسائل کی نشاندہی کی تھی۔

جس میں کسی وزارت کو ہدف کی تکمیل کے لیے کسی دوسری وزارت پر انحصار کرنا پڑ رہا تھا۔ان میں سے 1110 کو متعلقہ محکموں اور وزارتوں نے مقررہ وقت میں کامیابی سے حل کر لیا جبکہ 140 ایسی ’ڈیپنڈیسیز‘ تھیں جن کے حل کے لیے پلاننگ کمیشن کی پیئر ریویو کمیٹی کو معاونت فراہم کرنا پڑی۔ ریویو کمیٹی نے ان وزارتوں کے ساتھ اس مقصد کے حصول کے لیے خصوصی سیشن رکھے۔پہلا نمبر حاصل کرنے والی مراد سعید کی وزارت کی کارکردگی کی تفصیلات کیا ہیں؟وزیراعظم عمران خان کو پیش کی گئی کارکردگی رپورٹ کے مطابق مراد سعید کی وزارت نے سال 2020-21 کے دوران کل آٹھ اہداف حاصل کیے ہیں جبکہ 23 اہداف سال 2020-23 میں حاصل کیے جائیں گے۔ مراد سعید کی وزارت میں موٹروے اور سی پیک کے تحت پایہ تکمیل تک پہنچنے والے منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں۔وزارت مواصلات نے جو آٹھ اہداف حاصل کیے ہیں ان میں سے چار سڑکوں کی تعمیرات سے متعلق ہیں جبکہ ایک نیشنل ٹرانسپورٹ ریسرچ سینٹر (این ٹی سی آر) کی طرف سے حادثات سے متعلق مرتب کردہ ڈیٹا اور حادثات کی قیمت سے متعلق ہے۔ مراد سعید نے گوادر میں ایس ایس پی آفس تعمیر کر کے بھی ایک ہدف پورا کیا۔

جبکہ باقی دو اہداف میں این ٹی سی آر کا ٹریفک کاؤنٹ پروگرام پر عملدرآمد اور ملک میں فرائیٹ (ٹرکنگ) ٹرانسپورٹ سے متعلق ریسرچ کی تیاری شامل ہے۔وزارت مواصلات اس وقت پانچ نئے اہداف پر بھی کام کر رہی ہے جس میں چالان کے ذریعے ٹریفک کے نظام میں بہتری لانا اور مہلک حادثات کو سنہ 2023 تک ہر سہ ماہی میں مزید 2 فیصد کم کرنا بھی شامل ہے۔اسد عمر کی وزارت نے دوسرا نمبر کس بنیاد پر حاصل کیا؟اسد عمر کی وزارت کے حاصل کردہ دس اہداف میں سے تقریباً آدھے سی پیک منصوبوں سے متعلق ہیں۔شہزاد ارباب ریویو کمیٹی نے لکھا کہ سی پیک کے تحت کئی ترقیاتی اہداف حاصل کیے گئے ہیں اور سی پیک اتھارٹی کو مؤثر بنانے کے لیے انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن مینیجمنٹ سسٹم فار چائینیز انویسٹمنٹ کا نظام بھی متعارف کرایا۔پلاننگ کمیشن کے ممبرز کی خالی پوسٹوں پر تقرریاں بھی اسد عمر کے لیے اچھی کارکردگی کا ذریعہ بنیں۔شیخ رشید کی وزارت داخلہ نے 22 اہداف حاصل کیے ہیں، جن میں ایف آئی اے کی طرف سے بارڈر مینجمنٹ سسٹم کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بہتر بنانا بھی شامل ہے۔ وزارت داخلہ نے ایک ہدف ایف آئی اے کے سائبر کرام ونگ کو از سرنو تشکیل دیا۔

About Admin

Check Also

قبل از وقت انتخابات ہوئے تو کون سی جماعت فائدے میں رہے گی؟ سیاسی ماہرین نے عوام کو صاف صاف بتا دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں جاری سیاسی و معاشی بحران کے تناظر میں بعض ماہرین …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *