Breaking News

“پارٹی فیصلے کے خلاف جانے والے ارکان کے ساتھ ہر حال میں یہ کام ہوگا” اعتزاز احسن نے صورت حال واضح کردی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک طرف یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نا اہلی کی مدت تاحیات نہیں ہونی چاہیے۔ نیب آرڈیننس 1999کے مطابق نااہلی کی مدت 20سال رکھی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ 10سال کی ہونی چاہیے۔ پانچ یا 10سال کی نااہلی تو ہو سکتی ہے۔ سینئر قانون دان اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی ) کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے۔

کہ پارٹی فیصلے کے خلاف جانے والا ہر صورت میں ڈی سیٹ ہوگا۔ نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا راجہ ریاض کہہ رہے ہیں کہ ان کے پاس 24 بندے ہیں، آپ پیسے پر بکو یا ٹکٹ پر ، ہے تو سودے بازی، ٹکٹوںکی آفر بھی تو رشوت ہی ہے، یہ تو سودے بازی ہو رہی ہے، ہارس ٹریڈنگ کرنے والا ڈی سیٹ ہوگا البتہ  تاحیات نا اہلی الگ چیز ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی فیصلے کے خلاف جانے والے کے ڈی سیٹ ہونے میں کچھ وقت لگے گا لیکن  اس کا ڈی سیٹ ہونا حتمی چیز ہے۔  ایک سوال کے جواب میں اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سپیکر کا 14 روز میں اجلاس نہ بلانا غیر آئینی ہے لیکن آرٹیکل 6 تو بہت ہی سنجیدہ جرم پر لگتا ہے۔ منحرف ارکان اسمبلی عدم اعتماد کے بعد قانونی لحاظ سے اگلے وزیراعظم کو منتخب کرنے کے بھی اہل ہوں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے تک وہ رکن قومی اسمبلی رہیں گے اور اپنا ووٹ کا اختیار استعمال کرسکیں گے، اپوزیشن عدالت چلی گئی تو ایک دن میں اسمبلی اجلاس بلانے کی تاریخ مقرر ہوجائے گی۔ انہوں نے جی این این نیوز میں خبرہے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کرنے والے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی قانونی لحاظ سے جب تک رکن اسمبلی ہیں تب تک وہ ایم این اے کے ہر اختیار کو استعمال کرسکتے ہیں۔

About Admin

Check Also

قبل از وقت انتخابات ہوئے تو کون سی جماعت فائدے میں رہے گی؟ سیاسی ماہرین نے عوام کو صاف صاف بتا دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں جاری سیاسی و معاشی بحران کے تناظر میں بعض ماہرین …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *