Breaking News

جنرل الیکشن میں تاخیر سے کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہو گا؟ پاکستان کے سب سے بڑے تجزیہ کار نے حقیقت قوم کو بتا دی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نئی آنے والی حکومت کی کوشش ہے کہ الیکشن کم از کم ایک سال کے بعد کروائے جائیں جب کہ حلقہ بندیوں میں بھی چھ ماہ کا وقت درکار ہے جب کہ تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ جنرل الیکشن جلد ہونے چاہیں تاکہ عوام فیصلہ کر سکیں کہ وہ کس کے ساتھ ہیں ۔

سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ جیسے ہی پیچھے ہٹی، ایک دن بھی عمران خان کی حکومت نہ بچ سکی۔ عمران خان کو پتہ ہے اگر الیکشن جلدی نہیں ہوتے تو ان کو ابھی جو تھوڑی بہت حمایت حاصل ہے وہ نہیں ملے گی، عمران خان کی ساری جدوجہد کا مقصد جلد انتخابات، اگر ایسا نہ ہوا تو ووٹ بینک نہیں بچے گا۔ایک انٹر ویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ملکی مفاد میں سوچا کہ عمران خان بندہ بڑا خطرناک ہے، ہمیں اب اس سے پیچھے ہٹ جانا ہی بہتر ہے۔ملک کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بیان کے بعد کے ان کا گھیراو کرو شہروں میں ہمیں تشدد ہوتا نظر آرہا ہے۔ لیگی رہنما عطا تارڑ نے بھی کہا ہے کہ اگر دوبارہ ایسی حرکت ہوئی تو ہم اپنے کارکنوں کو کہیں گے کہ بھرپور جواب دیا جائے۔ ادھر فوج نے کہا ہے کہ اگر ادارے کو اٹیک گیا تو ہم ایکشن لیں گے۔ تو حکومت کیا کرے گی چپ کرکے بیٹھے گی اور گالی سنے گی؟نجم سیٹھی نے کہا کہ جس طرح کی ابھی یہ نئی حکومت بنی ہے اس میں سب جماعتوں کو خوش کرنا پڑے گا۔ 8 جماعتیں اس اتحاد میں شامل ہے۔ دو سیٹوں والا بندہ بھی کہتا ہے ہمیں دو وزارتیں دو۔ شہباز شریف ون مین شو ہیں۔ انہوں نے پنجاب چلایا ہے، پاکستان نہیں چلایا۔ شہباز شریف اپنا سارا کام بیوروکریسی سے لیتے، منسٹرز تو صرف نمائشی ہوتے تھے۔

About Admin

Check Also

قبل از وقت انتخابات ہوئے تو کون سی جماعت فائدے میں رہے گی؟ سیاسی ماہرین نے عوام کو صاف صاف بتا دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں جاری سیاسی و معاشی بحران کے تناظر میں بعض ماہرین …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *