Breaking News

آصف زرداری کی 2 روز قبل کی پریس کانفرنس میں کھلکھلاہٹ اور شرارتی لہجے کے پیچھے کیا سازش چھپی ہوئی ہے ؟ اوریا مقبول جان نے بڑے راز سے پردہ ہٹا دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جیسے 1988ء میں ضیاء الحق کے طیارہ حادثے کے بعد جو ایک بے یقینی پیدا ہوئی اور سیاسی اُبال اُٹھا، اس وقت اسلم بیگ نے طالع آزمائی نہیں کی اور تمام سیاسی رہنمائوں اور اسٹیبلشمنٹ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ بے نظیر کو فوراً حکومت بنانے دی جائے۔

اور اس کے راستے میں روڑے نہ اٹکائے جائیں۔ ایوانِ صدر میں حلف برداری کے وقت جئے بھٹو کے چند نعرے برداشت کر لئے گئے، مگر اس برداشت کے نتیجے میں ملک اگلے بیس سالوں تک پُر امن ہو گیا۔ آج نہ ویسے دُوربین سیاست دان باقی ہیں اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کا دامن صاف ہے۔ آصف زرداری کی پریس کانفرنس میں ان کی کھلکھلاہٹ کے پیچھے جو پوشیدہ سازش نظر آئی ہے وہ اس ملک کو ایک خوفناک صورتِ حال کا شکار کرنے کا پلان ہے۔ وہ الیکشن اور نیب قوانین میں ترمیم کا ارادہ رکھتے ہیں، یہ مکمل تباہی کا ایجنڈا ہے۔ آصف زرداری آئندہ الیکشنوں میں جیت کے لئے جس ’’انجینئرنگ‘‘ کا منصوبہ بنا رہے ہیں، حالات ایسے ہیں کہ شاید کسی کو بھی اس کی ’’الف بے‘‘ تک تحریر کرنے کی بھی مہلت نہ مل سکے۔ زرداری صاحب کا خیال ہے کہ سندھ ان کے لئے ایک محفوظ قلعہ ہے،یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے۔ جب ہجوم کا غصہ ملکی سطح پر طوفان بنتا ہے تو پھر کسی کا گھر سلامت نہیں رہتا۔ انہیں اندازہ ہونا چاہئے کہ اس ملک کا سب سے کُچلا ہوا، مجبور اور مقہور طبقہ تو سندھ میں رہتا ہے اور عوام کے اجتماعی غصے کے لئے انہیں کہیں دُور نہیں جانا پڑے گا۔

وڈیرے کا گھر اور اس کے ڈیرے کی منڈھیریں سامنے نظر آ رہی ہوں گی۔ مریم نواز کو جس طرح اپنی بساط اُلٹتی محسوس ہوئی اور عوام کے ردّعمل نے ان کے ہوش و حواس معطل کر دیئے اور وہ صوابی کے جلسے میں بِلبلا پڑیں کہ ’’ہمیں عمران خان کی حکومت کی نااہلی کا بوجھ نہیں اُٹھانا‘‘۔ جوں جوں وقت گزرے گا، شہباز شریف حکومت کی نااہلی واضح ہوتی جائے گی تو مریم نواز اور نون لیگ کے اضطراب میں اضافہ ہو گا۔ بلوچستان کا علیحدگی پسند طبقہ اور خیبر پختونخواہ کا اسٹیبلشمنٹ سے لڑتا ہوا قبائلی علاقہ، خاموشی سے وقت کے انتظار میں ہے۔ کراچی میں مضطرب، بے چین اور احتجاجی ہجوم، اور دس اپریل کو پاکستان کے طول و عرض میں ایک دَم نکلنے والے لوگ جن کے غصے میں اب دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، اس ہجوم کو اگر مزید چند ہفتے اسی طرح بے یقینی کا شکار رکھا گیا اور ایسے قوانین منظور کرنے کی کوشش کی گئی جن سے انہیں اندازہ ہونے لگا کہ الیکشن چرائے جانے والے ہیں یا نیب قوانین کے تحت ان لوگوں پر گرفت ڈھیلی ہونے والی ہے، جن لیڈروں سے متعلق ’’سرے محل، مسٹر ٹین پرسنٹ، ایوان فیلڈ‘‘ وغیرہ جیسے الزامات مشہور ہیں۔

تو پھر جو اضطراب اس قوم کو گھیرے گا، وہ ایسا دُھواں بن جائے گا جس میں غصے کی چنگاریاں رقص کر رہی ہوں گی۔ ان کی زد میں جو آئے گا بھسم ہو جائے گا۔ جن ملکوں اور معاشروں پر ایسا وقت آیا، انہیں نہ کوئی میڈیا بچا سکا اور نہ میڈیا پر بولنے کی پابندی، کسی قسم کی نفرت میں کمی کر سکی۔ مجھے خوف اس بات سے آ رہا ہے کہ وہ تمام سیاسی پارٹیاں جنہوں نے مخصوص اشاروں پر یہ کھیل کھیلنے کے لئے عصر کے وقت روزہ کھولا ہے اور عمران حکومت برطرف کی، ان میں سے تین بڑی پارٹیوں کے رہنمائوں کو ابھی بھی یقین ہے اور وہ عوام میں یہ گفتگو عام کرتے نظر آتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ تھوڑی دیر میں مختلف طریقوں سے عمران خان کا سیاسی باب بند کر دے گی اور پھر اگلے الیکشنوں میں ان کے لئے میدان صاف ہو گا۔ اداروں کو اپنے خلاف پراپیگنڈے سے روکنے سے زیادہ اس تاثر کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ آئندہ الیکشنوں سے پہلے عمران خان کا قلع قمع کرنے والی ہیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ڈر اس بات کا ہے کہ کل بگڑے ہوئے حالات سنبھالنے کے لئے کوئی شخص ان اداروں پر بھی اعتماد نہیں کرے گا اور پھر ایسی صورت میں صرف انارکی پھیلتی ہے جس کی کوکھ سے یا تو کوئی نپولین جنم لیتا ہے یا خمینی۔ ان دونوں کے اقتدار میں آنے کے بعد جو لوگ نشانہ بنے ان کی صرف فہرستیں اُٹھا کر دیکھ لیں۔ کیا ہم ایسی صورتِ حال کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ بشکریہ نامور کالم نگار اوریا مقبول جان ۔

About Admin

Check Also

ڈائیوو بس میں کام کرنے والی غریب خوبصورت ہوسٹس لڑکی کی درد بھری کہانی

ڈائیوو بس میں کام کرنے والی غریب خوبصورت ہوسٹس لڑکی کی درد بھری کہانی کچھ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *