Breaking News

تمہارے ملک میں کیا ڈرامہ لگا ہوا ہے ؟۔۔۔۔ کچھ عرصہ قبل بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد نے کس پاکستانی کو یہ طعنہ دیا تھا ؟ شرمناک واقعہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نامور پاکستانی بزنس مین میاں منشا اپنے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں ۔۔۔۔۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اکانومی ایڈوائزری کونسل سے زیادہ لوگ گلہ کرتے ہیں کہ یہ ویسٹڈ انٹریسٹ کی بزنس کونسلز ہیں آپ دیکھیں اس کے اندر آپ کے پاس بڑے نام ہیں آپ سمیت لیکن لوگ یہ کہتے ہیں

کہ یہ پالیسی بنانے والوں کا حصہ ہیں سب بزنس مین اور جو سبسڈیز بھی لیتے ہیں اپنی انڈسٹریاں چلاتے ہیں یہ خود بینیفیشریزہیں ان کی رسائی ہو جاتی ہے اعلیٰ ایوانوں کے اندر جو اہم ترین باڈیز ہیں تو نمبر ون اس کی افادیت کیا ہے نمبر ٹو کیا یہ آپ کو یہ نہیں لگتا  ہے کہ جب سارے بڑے بڑے ٹیکسٹائل سیمنٹ آپ کا سیمنٹ سیکٹر پاور سیکٹر بینکرز فرٹیلائزرز یہ سارے اندر بیٹھے ہوئے ہیں بزنس مین  میاں منشا  کہ جی اگر یہ ہمیں کہا جائے کہ کوئی چیزہو گی اب اس کو کہیں شروع تو کرنا ہے ناں یہ تو ساری ہیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ حکومت فیصلے نہیں کر پا رہی ہے میا ں منشا صاحب ۔ میاں منشا :–دیکھیں میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں میں بنگلادیش کی پرائم منسٹر کو جانتا ہوں ان کے والد صاحب بھی ہمارے گھر آتے ہوتے تھے اور ڈھاکہ میں بھی ہمارا گھر ان کے ساتھ تھا میں نے جب ایک دن حسینہ باجی سے پوچھا وہ شام کو اس نے مجھے بولا مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ میں پتہ نہیں کدھر آگیا ہوں بتیاں وتیاں بند   یہ نہیں ہو سکتی پرائم منسٹرتو میرے ساتھ اس نے بات چیت شروع کی تو کہتی ہے تمہارے ملک میں یہ بتاؤ کہ یہ کیا چکر ہے میں نے کہا کیا کہ ایک جو پرائم منسٹر جا تاہے وہ چور ہے اس کا خاندان چور ہے اس کے ڈرائیور سارے چور ہیں اس کے بعد دوسرا آتا ہے وہ اس کو کہتا ہے تم چور ہو ساری چیز سنو تو میں نے کہا آپ کے ہاں بھی تو یہی ہے خالدہ ضیاء کے ساتھ آپ کا جھگڑا ہے اس نے کہا دیکھیں آپ کا اور ہمارا فرق ہے ہم ہڑتالیں کرتے ہیں جلسے کرتے ہیں   ۔اینکر :–اور ادھر بالکل اس کے برعکس ہوتا ہے ۔

About Admin

Check Also

قبل از وقت انتخابات ہوئے تو کون سی جماعت فائدے میں رہے گی؟ سیاسی ماہرین نے عوام کو صاف صاف بتا دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں جاری سیاسی و معاشی بحران کے تناظر میں بعض ماہرین …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *