Breaking News

جنرل (ر) علی قلی خان اتنے زور وشور سے عمران خان کی حمایت کیوں کر رہے ہیں ؟ بڑی خبر آ گئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پیر کو اسلام آباد پریس کلب کے باہر ریٹائرڈ فوجی افسران کی ایک تنظیم ’ویٹرنز آف پاکستان‘ کی ہونے والی ایک پریس کانفرنس نے ملکی سیاست میں ریٹائرڈ فوجی افسران کے اثر و رسوخ کے حوالے سے ایک بحث چھیڑ دی ہے۔

اس پریس کانفرس میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی قلی خان، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یٰسین اور دیگر نمایاں نام موجود تھے۔پاکستان آرمی کے پہلے لانگ کورس سے تعلق رکھنے والے بریگیڈیر میاں محمود نے اس موقع پر دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی قلی خان کے ہمراہ ریٹائرڈ فوجیوں کے ایک گروپ سے ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وعدہ کیا تھا کہ نوے دن میں ہی نئے انتخابات کرائیں گے۔ انھوں نے پوچھا کہ ’اب وہ وعدہ کہاں گیا؟پریس کانفرنس کے بعد انھوں نے صحافیوں کے سوال نہیں لیے۔ بعد ازاں وہاں موجود صحافیوں اور کئی ریٹائرڈ افسران کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی اور یوں اس پریس کانفرنس کے ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گئے۔ خیال رہے کہ متعلقہ ذرائع نے ان دعوؤں کی تردید ہے۔مگر یہ پہلی بار نہیں کہ افواج کے ریٹائرڈ افسران نے کسی معاملے پر اپنی کسی تنظیم کے پلیٹ فارم سے اپنا بیانیہ پیش کیا ہو۔یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ معاملہ سیاسی نوعیت کا بھی ہو سکتا ہے، مثلاً کسی ایک سیاسی جماعت کے موقف کی پُر زور تائید یا مخالفت، اور فوجی نوعیت کا بھی۔

جو کہ عام طور پر فوج اور فوجی قیادت کی حمایت میں ہوتا ہے۔ مثلاً کسی مشہور سیاستدان نے فوج مخالف بیان دیا۔جو سوشل اور مین سٹریم میڈیا میں بحث کا موضوع بن گیا تو اچانک ریٹائرڈ افسران کے یہ گروپ سامنے آتے ہیں، احتجاج بھی کرتے ہیں اور پریس کانفرنسیں بھی۔اگرچہ اس بار توپوں کا رُخ خود فوج کی جانب ہے مگر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔ صارفین کہیں پریس کانفرنس کرنے والوں پر اپنی سیاست چمکانے کا الزام لگا رہے ہیں اور کہیں ان کے بیانیے کی حمایت کی جا رہی ہے۔بعض لوگوں نے جنرل علی قلی خان کا ذکر بھی کر رہے ہیں جنھوں نے چند برس قبل سابقہ حکمراں جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اور اس کے ساتھ ان کے صاحبزادے خالد قلی خان کا بھی نام لیا جا رہا ہے جنھیں 2018 میں تو عمران خان نے پارٹی کا ٹکٹ نہیں دیا تھا تاہم اب کئی صارفین نے وہ تصاویر اور ٹویٹس شیئر کیں جن میں انھیں حال ہی میں عمران خان سے ملاقات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔خیال رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خان اس وقت فوج سے سبکدوش ہوئے تھے جب نواز شریف نے 1998 میں انھیں سپرسیڈ کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف مقرر کیا تھا۔

اس سے کئی دہائیاں قبل 1958 میں ان کے والد جنرل حبیب اللہ خان خٹک کی جگہ جنرل ایوب خان نے جنرل محمد موسیٰ کو پاکستان آرمی کا پہلا کمانڈر ان چیف بنایا تھا۔جنرل علی قلی خان نے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور ان کے بیٹے 2018 میں کرک سے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ امیدوار تھے۔ تاہم اس وقت انھیں پارٹی ٹکٹ نہیں دیا گیا تھا۔دوسری جانب کئی سوشل میڈیا صارفین نے پریس کانفرنس کے شرکا کے موقف کی حمایت بھی کی ہے۔لیکن ریٹائرڈ فوجی افسران کی یہ ایسوسی ایشنز یا سوسائٹیز آخر کیا ہیں اور کیا یہ ملکی امور میں فیصلہ سازی کی سطح پر کسی قسم کا اثر و رسوخ رکھتی ہیں؟ اسی سوال کا جواب جاننے کے لیے ہم نے متعدد حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران سے بات کی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کے مطابق اس سوسائٹی کے ساتھ تقریباً سات لاکھ ریٹائرڈ فوجی منسلک ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی فنڈنگ کا کوئی ذریعہ نہیں اور ممبران میں سے جو اپنی حیثیت کے مطابق فنڈنگ کرنا چاہے وہ کرتا ہے۔ریٹائرڈ فوجیوں کے لیے قائم تمام چھوٹی بڑی تنظیموں میں سے صرف یہ ایک تنظیم ہی رجسٹرڈ ہے۔ تاہم یہ بھی جی ایچ کیو یا وزارت دفاع کے ساتھ منسلک نہیں۔

نہ ان کی جانب سے ان کے پاس کسی بھی قسم کا اجازت نامہ ہے۔ایک اہلکار کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ان تنظیموں کا خود کو تمام ریٹائرڈ فوجیوں کی نمائندہ کہنا غلط اور غیرقانونی ہے۔مگر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کہتے ہیں کہ ان کی تنظیم سمیت دیگر ایکس سروس مین تنظیموں کے قیام کا بنیادی مقصد آپس میں رابطہ کاری اور مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ اہم قومی معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امجد شعیب نے کہا کہ ’بنیادی طور پر کام فلاح و بہبود کا ہے۔ ان کی بہتری کی کوشش کرنا، ان کے لیے جاب (نوکریوں) کا انتظام کرنا اور ان کے مسائل کو حکومت یا متعلقہ فورم کے سامنے رکھنا۔ لیکن اس کے ساتھ ہم پاکستان کی افواج کو سپورٹ مہیا کرتے ہیں جب ہم سمجھتے ہیں کہ ان اداروں کو بغیر کسی وجہ کے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ’ہم قومی معاملات پر ایک پریشر گروپ کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سوسائٹی کے ایک بڑے حصے کے نمائندہ ہیں اور ہماری رائے کی اہمیت ہے۔ ہمارے ہر تحصیل میں دفاتر ہیں اور ہم وہاں سے کسی بھی قومی معاملے پر فیڈ بیک (رائے) لیتے رہتے ہیں۔

‘وہ کہتے ہیں کہ یہ الزام غلط ہے کہ ’ہم کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کرتے ہیں۔ ہمارا کسی سے کوئی تعلق نہیں، اگر کسی خاص ماحول میں ہمارا بیانیہ یا رائے کسی ایک جماعت کے حق میں ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اس جماعت کے حامی ہیں اور دوسرا یہ ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک تنظیم کی رائے ہوتی ہے۔‘تاہم انھوں نے یہ ضرور کہا کہ پریس کلب میں ویٹرنز آف پاکستان نامی تنظیم کے کئی ممبران سیاسی حیثیت رکھتے ہیں جو سب کے علم میں ہے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں ان کی تنظیم بھی وہی رائے رکھتی ہے مگر ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ایسے بیانات سے گریز کریں گے جو پاکستان اور ملک کی افواج کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بنیں۔‘اسی بارے میں بی بی سی نے ویٹرنز آف پاکستان سے رابطے کی کوشش کی تاہم ان کے ممبران نے تادم تحریر جواب نہیں دیا۔لیکن کیا سابق فوجی اہلکاروں یا ان کی غیر سرکاری تنظیموں کی رائے یا بیانیہ فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوسکتی ہے؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ فوجی قیادت کے لیے وہی اہم ہیں جو فوج میں ملازمت کر رہے ہیں۔

’آرمی چیف کے لیے ان کے زیر کمان کام کرنے والے فوجیوں کی رائے اور سوچ اہمیت رکھتی ہے۔اس لیے ریٹائرڈ فوجی اہلکار کسی معاملے پر کیا موقف اپناتے ہیں، اس کا فوج سے کوئی تعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔‘متعلقہ ذرائع نے ویٹرنز آف پاکستان کی حالیہ پریس کانفرنس کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان تنظیموں کا فوج سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ ہی یہ جی ایچ کیو یا وزارت دفاع کے ماتحت یا ان کی اجازت سے کام کر رہی ہیں۔ ’فوجی اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے باقاعدہ نظام موجود ہے جو مکمل طور پر فعال ہے۔ سابق فوجیوں کو مکمل آزادی ہے کہ وہ سیاست میں حصہ لیں، تاہم ملکی قوانین انھیں اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دیتے کہ افواج کے ساتھ اپنا تعلق استعمال کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔‘اس سوال پر کہ کیا پریس کانفرنس کے دوران فوج یا فوجی قیادت پر الزام لگانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، انھوں نے کہا کہ ایسا ممکن ہے کیونکہ یہ ویسے ہی الزامات ہیں جیسے حال ہی میں ایمان حاضر مزاری نے لگائے تھے جو ’ملکی قوانین کے خلاف ہے۔ بشکریہ  نامور صحافی فرحت جاوید برائے بی بی سی رپورٹ ۔

About Admin

Check Also

نو اپریل کو عمران خان کے ساتھ وہی ہوا جو 13 سال کی عمر میں انکے ساتھ ہوا تھا ۔۔۔۔ بی بی سی پر شائع ہونے والی معنی خیز تحریر

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عمران خان کے خلاف سازش چھ مہنے یا ایک سال پہلے شروع …

Leave a Reply

Your email address will not be published.