Breaking News

میرے دل سے تمہارے دل تک… باپ کے آخری خط کو دوپٹے پر کاڑھ لیا، بیٹی کا شادی کے دن ایسا عمل جس نے سب کو رُلا دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ماضی کے مقابلے میں آج کی دلہن بہت بھاری بھرکم لباس میں نظر آنے کے بجائے شادی کے دن کو یادگار بنانے کی زیادہ خواہشمند نظر آتی ہیں- وہ اپنے اس خاص دن کو مہنگے لباس اور مہنگی ترین جیولری سے سجانے کے بجائے اپنی والدہ کے شادی کے جوڑے کو پہننے کا ترجیح دیتی ہیں۔

عام طور پر اپنی شادی کو یادگار بنانے کے لیے لڑکیاں ماں کی شادی کا جوڑا پہن کر اس دن کو یادگار بنا لیتی ہیں- مگر آج ہم جس دلہن کا ذکر کرنے جا رہے ہیں اس نے اپنی شادی کو یادگار بنانے کے لیے اپنی ماں کا جوڑا نہیں پہنا بلکہ اس نے ایسا کام کر دیا جس کو جان کر سب ہی جذباتی ہو گئے اور اس کی خوشیوں کے لیے دعا گو ہو گئے۔۔۔۔۔والد کے آخری خط کو دوپٹے پر کڑھائی کروانے والی دلہن۔۔۔۔۔اپنی شادی کے موقع پر ہر لڑکی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کی دعاؤں کے سائے میں رخصت ہوں- مگر ہر لڑکی اتنی خوش قسمت نہیں ہوتی ہندوستان کے شہر راجستھان میں شادی کرنے والی سوانیا بھی ایسی ہی ایک لڑکی تھی- جس کے والد کا کینسر کے مرض کے سبب اس کی شادی سے کچھ عرصے قبل انتقال ہو گیا تھا اگرچہ سوانیا کی شادی امان کلارا نامی لڑکے سے اس کی پسند سے ہو رہی تھی اور وہ اس کے لیے بہت خوش بھی تھی- مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کو اپنی زندگی کے اس اہم ترین موقع پر والد کے ساتھ نہ ہونے کا دکھ بھی تھا مگر سوانیا نے اپنے والد کی اس کمی کو ایک انوکھے انداز میں پورا کیا اور اس نے اپنے والد کے آخری خط کے کچھ حصوں کواپنے سرخ عروسی جوڑے کے دوپٹے پر کڑھوا لیا-اس حوالے سے سوانیا کا یہ کہنا تھا کہ اس کو محسوس ہوا کہ شادی کے اس موقع پر اس کے والد اس خط کے ذریعے اس کے ساتھ ساتھ ہیں اور اس کی رخصتی ان کی دعاؤں کے سائے میں ہی ہوئی ہے- سوانیا نے اپنے والد کے اس خط کو فریم کروا کر محفوظ کر کے رکھا ہوا ہے جس کو اس نے سوشل میڈیا پر شئير بھی کیا ہے- سوانیا کے اس محبت بھرے انداز نے بہت ساری ان بیٹیوں کی آنکھیں نم کر دیں جو کہ اپنے باپ کی شفقت سے محروم ہو چکی تھیں۔

About Admin

Check Also

بچے وقت سے پہلے کیوں بالغ ہونے لگے ہیں؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) آج کل بچوں کا وقت سے پہلے بالغ یعنی جوان ہونے کا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *