Breaking News

مہنگائی اور نااہلی تو ایک پردہ ہیں : عمران خان کی کونسی حرکات دیکھ کر اسٹیبشلمنٹ نیوٹرل ہونے پر مجبور ہو گئی ؟ جاوید چوہدری کی انکشافات سے بھرپور تحریر

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔یہ فیصلہ مشکل ہوتا جا رہا ہے عمران خان زیادہ ناکام ہیں یا اتحادی حکومت لیکن یہ بہرحال طے ہے عمران خان سے تحریک نہیں چل رہی اور حکومت سے معیشت لہٰذا اس وقت دونوں ناکام نظر آ رہے ہیں۔

ہم سب سے پہلے عمران خان کے المیے کی طرف آتے ہیں‘ عمران خان ایٹمی پروگرام کے بعد پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا سب سے بڑا پروجیکٹ تھا‘ اسٹیبلشمنٹ نے جس طرح ایٹمی پروگرام کے لیے دن رات ایک کر دیا‘ اپنی ہر چیز‘ اپنا ہر اثاثہ داؤ پر لگا دیا بالکل اسی طرح عمران خان کو بھی اقتدار میں لانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی‘ ریاست کے سارے داؤ‘ ساری طاقتیں اور سارے کلیے استعمال کر دیے گئے یہاں تک کہ وہ تمام سیاست دان بھی قربان کر دیے گئے جو ریاست نے زیور کی طرح مشکل وقت کے لیے بچا کر رکھے ہوئے تھے۔چین‘ سعودی عرب‘ ترکی اور امریکا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات تک قربان کر دیے گئے اور عمران خان کے لیے عدلیہ کو عدلیہ‘ میڈیا کو میڈیا اور صنعت کاروں کو صنعت کار بھی نہیں رہنے دیا گیا اور یوں دانتوں تک پسینے کے بعد عمران خان اقتدار میں پہنچ گئے مگر اس کے بعد کیا ہوا ؟یہ کہانی اب کہانی نہیں رہی‘ عمران خان کے پونے چار سال کے اقتدار نے ملک کی چولیں ہلا کر رکھ دیں‘ پنجاب 12 کروڑ لوگوں کا صوبہ ہے۔یہ صوبہ اس عثمان بزدار کے حوالے کر دیا گیا جس کی اہلیت صوبے دار سے زیادہ نہیں تھی اور اس نے ان پونے چار برسوں میں پنجابی تاریخ کے ’’بھنگی دور‘‘ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

آپ یہ سن اور جان کر حیران رہ جاتے ہیں عثمان بزدار کو غیرقانونی کاموں کی چٹیں اور احکامات جلانے میں تین دن لگ گئے تھے‘وہ تمام افسر اور ہاؤسنگ اسکیموں کے مالکان اپنے بیانات ریکارڈ کرا چکے ہیں جنھوں نے رقم‘ ہار اور انگوٹھیاں دے کر پوسٹنگز اور ٹرانسفرزکرائی تھیں یا این او سی لیے تھے‘ نوا سٹی کا مالک جنید چوہدری اب اپنے معاملات ٹھیک کرنے کے لیے وزیراعظم ہاؤس کے چکر کاٹ رہا ہے۔فرح گوگی کے تحائف اور یہ جس جس نے خریدے وہ فہرست بھی بن چکی ہے اور وزراء کی ٹیلی فون کالز‘ اعترافات اور لین دین کا تمام کچا چٹھا بھی اکٹھا ہو چکا ہے بس وڈیوز اور آڈیوز کی ریلیز باقی ہے اور یہ کام جس دن ہو گیا عوام اس دن حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کو بھول جائیں گے‘ عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کا کام ختم ہو جانا چاہیے تھا لیکن ان پر بوجھ مزید بڑھ گیا‘ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہوں‘ تاجروں اور صنعت کاروں کو مطمئن کرنا ہو‘ چین‘ سعودی عرب اور یو اے ای سے امداد لینی ہو ‘ امریکا کو راضی رکھنا ہو‘ویکسین جمع کرنی ہو‘ عوام کو ویکسین لگوانی ہو‘ چیئرمین نیب کو بچانا ہو‘ بجٹ پاس کرانے ہوں۔علیم خان اور جہانگیر ترین کو خاموش کرانا ہو‘ پارٹی کو ٹوٹنے سے بچانا ہو۔

اتحادیوں کو حکومت کے ساتھ لٹکائے رکھنا ہو‘ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو خاموش کرانا ہو ‘ مولانا فضل الرحمن کو اسلام آباد سے واپس بھجوانا ہو‘ ایران اور افغانستان کے ساتھ بات چیت کرنی ہو‘ کشمیر میں کرفیو کے خلاف آواز اٹھانی ہو یا پھر حکومت کے لیے وزیر خزانہ کا بندوبست کرنا ہو یہ سب اسٹیبلشمنٹ کی ذمے داری تھی جب کہ عمران خان صرف ایک کام کر رہے تھے‘ فلاں کو اٹھا لیں‘ فلاں کو اندر بند کر دیں اور فلاں کی ضمانت نہ ہونے دیں۔وزیراعظم نے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو دفتر میں بلا کر خواجہ آصف کے خلاف غداری کا مقدمہ بنانے کا حکم دے دیا تھا اور رانا ثناء اللہ پر 15 کلو ڈال کر انھیں چھ ماہ کے لیے قید میں بند کر دیا گیا تھااور سید خورشید شاہ دو سال ایک ماہ قید میں بند رہے‘ یہ سلسلہ جیسے تیسے پونے چار سال چلتا رہا لیکن جب عمران خان نے ان نوازشات کو اپنا حق اور ریاست کی مجبوری سمجھنا شروع کر دیا‘یہ برملا کہنے لگے ’’میرے علاوہ ان کے پاس کوئی آپشن نہیں‘‘ اور اس کے ساتھ ہی اگلے دس سال کی پلاننگ کر لی‘ اگلے آرمی چیف کا فیصلہ بھی کر لیا۔سو ریٹائرڈ ججوں کو بھرتی کر کے نیب کورٹس بنانے اور کرپشن کے الزامات میں ملوث تمام لوگوں کو ڈس کوالی فائی کرنے‘ صدارتی نظام لانے اور اپنے دس سال کے اقتدار کے بعد ملک میں آمریت نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

تو ریاست کی بس ہو گئی اور اس نے اپنی غلطی سدھارنے کا فیصلہ کر لیا‘ باقی حالات آپ کے سامنے ہیں۔عدم اعتماد کے بعد عمران خان کے پاس چار باعزت آپشن تھے‘ یہ استعفیٰ دیتے اور ملکی تاریخ کے مضبوط ترین اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کرتے‘ یہ اگر یہ راستہ اختیار کرتے تو آج ان کا سیاسی قد مینار پاکستان سے بھی اونچا ہو چکا ہوتا‘ دوسرا یہ پنجاب اور کے پی کی اسمبلیاں توڑ دیتے اور ملک نئے الیکشنز کی طرف چلا جاتا لیکن عمران خان نے کم از کم ایک صوبے کے وسائل اپنے ہاتھ میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا‘ تیسرا یہ حکومت کے ساتھ بیٹھتے‘ انتخابی اصلاحات کرتے اور اگلے الیکشن کی تیاریاں شروع کر دیتے اور چوتھا یہ اقتدار سے نکلنے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات قائم رکھتے اور یہ آج تین ماہ بعد ایک بار پھر وزیراعظم ہوتے۔عمران خان اگر ان چار میں سے کوئی ایک راستہ بھی اختیار کر لیتے تو یہ آج بنی گالا میں محصورنہ ہوتے اور یہ ہر کھانے کی چیز کو مشکوک نظروں سے نہ دیکھ رہے ہوتے لیکن عمران خان کی افتاد طبع انھیں بند گلی میں لے آئی اور یہ اب تیزی سے اکیلے ہوتے جا رہے ہیں اور دیکھنے والے ان کے ہاتھ سے تسبیح اور انگلی سے انگوٹھی اترنے کا انتظار کر رہے ہیں‘کیوں؟ کیوں کہ عمران خان کو جاننے والے جانتے ہیں اب عثمان بزدار‘ فرح گوگی‘ احسن جمیل اور مانیکا فیملی کی باری ہے‘ خان صاحب اپنی بربادی کا ملبہ کسی بھی وقت ان پر گرا کر ان سے اپنی جان چھڑائیں گے اور نئی تحریک انصاف کی بنیاد رکھ دیں گے‘ یہ آگے چل پڑیں گے۔

About Admin

Check Also

ان عورتوں کے ساتھ یہ کام کرنا جائز ہے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ان عورتوں کے ساتھ بغیر نکاح بھی جسمانی تعلقات قائم کرنا بلکل …

Leave a Reply

Your email address will not be published.