Breaking News

اگر (ن) لیگ والوں کو بنچ اور ججز پر اعتراض ہے تو اسکا بہترین حل کیا ہے ؟ بی بی سی کی رپورٹ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نامور قانون دان فیصل صدیقی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کل آنے والی درخواست کو دیکھنا ہو گا کہ اس میں ججز پر اعتراض ہے یا فل کورٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بنا کسی ثبوت کے ججز پر اعتراض ایک غلط طریقہ کار ہے۔ ان کا کہنا تھا۔

کہ یقیناً ماضی میں بھی ججز پر اعتراضات والی مثالیں موجود ہیں مگر ماضی ہو یا اب، بغیر کسی ثبوت کے ججز پر اعتراضات غلط ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں اور بیانات کے برعکس میرے خیال میں ‘حکومتی اتحاد کسی جج پر اعتراض نہیں کر رہے کہ ‘فلاں جج کو بنچ کا حصہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہمیں شک ہے کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلہ نہیں دیں گے‘ بلکہ وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس درخواست کے حوالے سے فل کورٹ بنایا جائے یعنی یہ ججز بھی شامل ہوں اور سپریم کورٹ کے جتنے اور ججز ہیں، انھیں بھی بنچ کا حصہ بنایا جائے۔‘فیصل صدیقی کہتے ہیں کہ ماضی میں بھی جب اس قسم کے مقدمے کورٹ کے پاس آئے تو فل کورٹ، یا زیادہ لارجر بنچ یا سب سے سینئر ججز نے سنے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ابھی حالی میں قاضی فائز عیسیٰ نے بھی فل کورٹ کا مطالبہ کیا تھا اور ان کا کیس سننے کے لیے 10-11 ججز کا بنچ بنا تھا اور ان کا ماننا ہے کہ یہ کوئی غیرمعمولی مطالبہ نہیں ہے۔فیصل صدیقی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی ساکھ پر جو انگلیاں اٹھ رہی ہیں، وہ چاہے ایک پارٹی اٹھائے یا دوسری، اس کا واحد حل یہی ہے کہ اس نوعیت کے کیسز یا تو فل کورٹ یا سب سے زیادہ سینئیر جج سنیں۔

About Admin

Check Also

قبل از وقت انتخابات ہوئے تو کون سی جماعت فائدے میں رہے گی؟ سیاسی ماہرین نے عوام کو صاف صاف بتا دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں جاری سیاسی و معاشی بحران کے تناظر میں بعض ماہرین …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *