Breaking News

قومی اسمبلی تحلیل ہوگی یا نہیں؟ نواز شریف اور مولانافضل الرحمان کااہم فیصلہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حکمراں اتحاد کی کوشش ہے کہ عام انتخابات رواں سال نومبر کے بعد ہوں لیکن عمران خان پریشر تکنیک استعمال کررہے ہیں، پرویز الٰہی وزیراعلیٰ بن گئے ہیں تو عمران خان انہیں اسمبلی توڑنے کا کہہ سکتے ہیں، پنجاب اسمبلی کے ساتھ خیبرپختونخوا اسمبلی بھی تحلیل ہو جاتی ہے۔

تو وفاقی حکومت پر الیکشن کیلئے دباؤ بڑھ جائے گا ، ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کیا۔ تفصیلات کے مطابق جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمراں اتحاد کی قیادت نے قومی اسمبلی کی مدت پوری کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے لیکن اس دوران نرم مداخلت کی باتیں سامنے آرہی ہیں، حکمراں اتحاد نے عدلیہ سے متعلق پریس کانفرنس کر کے اداروں پر تنقید کا سلسلہ شروع کردیا ہے، حکمراں اتحاد سمجھتا ہے کہ وہ ملک چلانے کیلئے عدلیہ کے ساتھ چلنے کی کوشش کررہے ہیں مگر عمران خان پریشر تکنیک استعمال کررہے ہیں، پنجاب کے ضمنی الیکشن نے بھی حکمراں اتحاد کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔دوسری طرف پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ، اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان قومی اسمبلی تحلیل نہ کرنے پر اتفاق پایا گیا ، ٹیلیفونک رابطے میں سپریم کورٹ کی جانب سے فل کورٹ بنانے کی درخواستیں مسترد کرنے پر تفصیلی مشاورت کی گئی ، اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس کی سماعت کے بائیکاٹ پر بھی مشاورت کی گئی۔

About Admin

Check Also

قبل از وقت انتخابات ہوئے تو کون سی جماعت فائدے میں رہے گی؟ سیاسی ماہرین نے عوام کو صاف صاف بتا دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں جاری سیاسی و معاشی بحران کے تناظر میں بعض ماہرین …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *