Breaking News

پروفیسر کی بیگم اور طوطا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک پروفیسر کی بیگم نے پرندوں کی دوکان پر ایک طوطا پسند کیا اور اُس کی قیمت پوچھی۔ دوکاندار نے کہا محترمہ قیمت تو اس کی زیادہ نہیں ہے۔ لیکن یہ اب تک ایک طوائف کے کوٹھے پر رہا ہے۔ لہذٰا میرا خیال ہے اسے رہنے ہی دیں کوئی اور پرندہ دیکھ لیں۔

لیکن پروفیسر کی بیگم کو یہ طوطا کچھ زیادہ ہی پسند آ گیا تھا۔ کہنے لگیں بھئی اب اسے بھی تو پتہ چلے شریفوں کے گھر کیسے ہوتے ہیں۔ انہوں نے طوطے کی قیمت ادا کی اور پنجرہ لے کر گھر آ گئیں۔ طوطے کے پنجرے کو ڈرائنگ روم میں ایک مناسب جگہ لٹکایا تو طوطے نے ادھر اُدھر آنکھیں گھمائیں اور بولا واہ ، نیا کوٹھا یہ کوٹھا تو پسند آیا بھئی۔ بیگم کو اچھا تو نہیں لگا لیکن وہ خاموش رہیں۔ تھوڑی دیر بعد اُن کی بیٹیاں کالج سے لوٹ کر گھر آئیں تو انہیں دیکھ کر طوطا بولا، اوہ نئی لڑکیاں آئی ہیں بیگم کو غصّہ تو آیا لیکن پھر خاموش ہو گئیں یہ سوچ کر کہ ایک دو دن میں طوطے کو سدھا لیں گی۔ شام کو جب پروفیسر صاحب اپنے وقت پر گھر لوٹے۔ جیسے ہی انہوں نے ڈرائنگ روم میں قدم رکھا تو یہ طوطا حیرت سے چیخا ابے واہ جاوید تو یہاں بھی آتا ہے۔ اس کے بعد سے جاوید گھر سے غائب ہے۔ اور بیگم نے طلاق کا مقدمہ عدالت میں دائر کر دیا ہے۔ کیونکہ طوطے نے پروفیسر صاحب ک بے نقاب کر دیا تھا اور سب سچ سامنے لے آیا تھا۔

About Admin

Check Also

’میری شادی اس 60 سالہ بوڑھے سے کرادی گئی، سہاگ رات پر اس کی توقع کے مطابق خون نہ نکلا تو۔۔۔‘

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) رقم کے لالچ میں امیر ہوس پرست بوڑھوں کو کم سن بیٹیاں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *