Breaking News

پہلے دن سے درد دل رکھنے والا انسان: 1984 میں میو ہسپتال لاہور میں عمران خان کے ساتھ پیش آنے والا وہ واقعہ جس نے انکی زندگی بدل کر رکھ دی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان کے موجودہ وزیراعظم اور شوکت خانم اسپتال کی بنیاد رکھنے والے عمران خان نے والدہ کی سرطان سے مقابلے اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کا تذکرہ اپنی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں کیا ہے۔انہوں نے اپنے انسٹاگرام پر ایک طویل پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے 1984 میں پیش آنے والے ایک واقعے کو بیان کیا۔

عمران خان نے ایک معمر مریض کے ہمراہ تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ 1984 کا واقعہ ہے کہ جب میری والدہ شوکت خانم اس مرض کی تشخیص کے بعد شدید تکلیف میں مبتلا تھیں۔انہوں نے لکھا کہ والدہ کے علاج معالجے کے سلسلے میں لاہور کے میو اسپتال میں ایک ڈاکٹر سے ملنے گیا، اسپتال پہنچ کر ڈاکٹر سے ملاقات کا انتظار کرنے لگا۔عمران خان نے کہا کہ میں وہیں انتظار میں بیٹھا تھا کہ ایک بوڑھے شخص کو چہرے پر مایوسی اور ہاتھ میں ایک پرچی تھامے اپنے سامنے سے گزرتے دیکھا۔عمران خان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اُس بوڑھے شخص نے ایک ہاتھ میں دوائیں اور ایک ہاتھ میں کوئی پرچی تھام رکھی تھی، چہرے پر تذبذب کی کیفیت لیے پڑھنے سے قاصر اس معمر شخص نے وہاں موجود ڈاکٹر کے معاونین سے پوچھا کہ کیا انہیں جو دوائیں درکار ہیں وہ تمام مل گئیں ہیں، کیا اندر موجود مریض کو کچھ اور تو نہیں چاہیئے؟‘ڈاکٹر کے اسسٹنٹ نے اسے بتایا کہ پرچی میں لکھی گئی دواؤں میں سے ایک کم ہے ، بوڑھا آگے سے سوال کرتا ہے کہ یہ دوائیں خریدنے میں کتنا خرچ آئے گا؟جب اسسٹنٹ نے اسے دوائی کی قیمت بتائی تو ایک مایوسی اور نا امیدی اس بوڑھے شخص کے چہرے پر پھیل گئی اور وہ بغیر کچھ کہے مُڑ کر چلا گیا۔عمران خان لکھتے ہیں کہ ’اس شخص کے جانے کے بعد میں نے اسسٹنٹ سے پوچھا کہ اس شخص کو کیا پریشانی لاحق ہے۔

جس پر مجھے معلوم ہوا کہ نوشہرہ سے تعلق رکھنے والا یہ پشتون شخص سرطان میں مبتلا اپنے بھائی کے علاج کی غرض سے یہاں موجود ہے۔‘اسسٹنٹ نے عمران خان کو بتایا کہ ’معمر شخص کا بھائی اس بیماری سے نبردآزما تھا تاہم اسپتال میں جگہ اور بستر نہ ہونے کے باعث راہداری میں ہی علاج کروایا جارہا ہے۔‘اسسٹنٹ نے یہ بھی بتایا کہ ’یہ شخص سارا دن قریبی تعمیراتی سائٹ پر مزدوری کرتا ہے اور باقی وقت اپنے بھائی کی دیکھ بھال کرتا ہے۔‘عمران خان نے اپنی زندگی میں پیش آنے والے اس واقعہ کا خلاصہ لکھتے ہوئے بتایا کہ یہ وہ وقت تھا کہ جب میں اور میری فیملی تمام تر وسائل ہونے کے باوجود بھی عجیب طرح کے خوف کا شکار تھے تو اس معمر شخص پر کیا گزر رہی ہوگی۔ واضح رہے کہ عمران خان نے اپنی والدہ کے نام پر ہی سرطان کے علاج کے لیے مشہور شوکت خانم اسپتال بنایا، عمران خان اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے ہیں جبکہ ان کی 4 بہنیں ہیں۔خیال رہے کہ عمران خان سوشل میڈیا پر متحرک رہتے ہیں، عمران خان اپنے سوشل میڈیا پیغامات میں اپنے دورِ جوانی کو یاد کرتے دکھائی دیتے ہیں یا زندگی کے بیتے ایام کو اپنے مداحوں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔اس سے قبل عمران خان نے والدہ شوکت خانم اور بہن کے ہمراہ لی گئی ایک یادگار تصویر شیئر کی تھی، عمران خان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی تصویر میں بتایا گیا تھا کہ یہ تصویر 1979 میں لی گئی ہے۔وزیر اعظم عمران خان تصویر میں والدہ اور بہن کے ہمراہ خوشگوار موڈ میں کسی پارک میں کھڑے دکھائی دیے۔

About Admin

Check Also

ن لیگ میں دراڑ پڑگئی۔!! سابق وزیر کی وزیر اعظم سے خفیہ ملاقات، خبر نے اپوزیشن میں ہلچل مچا دی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) مسلم لیگ ن ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آتی ہے، اہم ترین …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *