Breaking News

وہ گاؤں جہاں کوئی عورت بیوہ نہیں، انتہائی شرمناک وجہ سامنے آگئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) دنیا کے مختلف معاشروں میں مختلف قسم کے رسوم و رواج پائے جاتے ہیں لیکن ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں ایسے ایسے عجوبے پائے جاتے ہیں کہ جن کی مثال کہیں اور ملنا مشکل ہے. ایک ایسا ہی عجوبہ ریاست مدھیا پردیش میں بسنے والا گونڈ قبیلہ ہے کہ جہاں کسی بھی خاتون کو بیوہ نہیں رہنے دیا جاتا۔

چاہے اس کی شادی اس کے اپنے ہی پوتے سے کیوں نہ کرنا پڑے.اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس قبیلے کی روایت ہے کہ کوئی بھی خاتون بیوہ نہیں رہ سکتی.اسی روایت کے تحت مرنے والے شخص کی بیوہ کی شادی اس کے خاندان میں دستیاب کسی بھی مرد سے کردی جاتی ہے. اگر مرنے والے کا بھائی یا کزن وغیرہ دستیاب ہو تو اس سے شادی ہوجاتی ہے ورنہ خاندان کے کسی بچے سے شادی کر دی جاتی ہے. اگر خاندان میں کوئی بچہ بھی دستیاب نہ ہو تو اس صورت میں کسی دیگر خاندان کی خاتون بیوہ کو چاندی کی چوڑیوں کا تحفہ دیتی ہے اور اسے اپنے گھر لیجاتی ہے، اور یوں ایک کا خاوند دوسری کا بھی خاوند بن جاتا ہے.گونڈ قبیلے کے گاﺅں بیہانگہ سے تعلق رکھنے والے شخص پتی رام نے بتایا کہ جب اس کے دادا کا انتقال ہوا تو وہ محض چھ برس کا تھا.اس کی بیوہ دادی سے شادی کے لئے کوئی بھی مرد موجود نہ تھا، لہٰذا اس کے دادا کی موت کے 9 دن بعد فیصلہ کیا گیا کہ بیوہ دادی چامری بائی کی شادی اس کے چھ سالہ پوتے سے ہوگی.پتی رام کا کہنا ہے کہ اس رسم کو ”ناتی پاتو“ کا نام دیا جاتا ہے۔

جس کے تحت اس کی شادی دادی کے ساتھ ہوگئی. پتی رام نے بتایا کہ جب وہ جوان ہوا تو اس نے ایک اور عورت سے شادی کرلی۔مگر جب تک اس کی دادی زندہ رہی وہ عورت دوسری بیوی کے طور پر ہی زندگی گزارتی رہی. اس قبیلے کے لوگ پڑھ لکھ جائیں یا بڑے شہروں میں منتقل ہوجائیں تب بھی اپنی روایت پر عمل جاری رکھتے ہیں. قبائلی رہنما گلزار سنگھ مرکم کا کہنا تھا کہ ان کے گاﺅں کے دو نوجوان بھوپال شہر میں انجینئر کے عہدے پر فائز ہیں، لیکن انہوں نے بھی قبائلی روایت کے مطابق ”دیور پاتو“ شادی کررکھی ہے. ان کا کہنا تھا کہ یہ روایت صرف علامتی نہیں ہے بلکہ اس کا معاشرے میں حقیقی مقام ہے. انہوں نے بتایا کہ اگر کسی کمسن بچے کی شادی اس کی دادی کے ساتھ ہوجائے تو بچے کو خاتون کا حقیقی خاوند سمجھا جاتا ہے اور اسے خاندان کے سربراہ کا درجہ بھی مل جاتا ہے۔ دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق پاکپتن سے مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی میاں نوید علی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ پاکپتن سے مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی میاں نوید علی نے نجی ٹی وی سے ٹیلی فونک گفتگو میں بتایا کہ ان کی طبیعت گزشتہ چند روز سے خراب تھی اور انہوں نے بخار سمیت دیگر علامات پر کورونا ٹیسٹ کرایا تو وہ مثبت آگیا۔ میاں نوید علی کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود کو گھر میں آئسولیٹ کرلیا ہے اور ان کی حالت اب بہتر ہے۔ لیگی ایم پی اے نے صحت یابی کے لیے دعا کرنے والوں کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

About Admin

Check Also

’میری شادی اس 60 سالہ بوڑھے سے کرادی گئی، سہاگ رات پر اس کی توقع کے مطابق خون نہ نکلا تو۔۔۔‘

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) رقم کے لالچ میں امیر ہوس پرست بوڑھوں کو کم سن بیٹیاں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *