Breaking News

ہفتے میں کم از کم 2 دفعہ ازدواجی فرائض کی ادائیگی کا سائنسدانوں نے ایسا شاندار فائدہ بتادیا کہ آپ کو یقین نہ آئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ازدواجی فرائض کی ادائیگی ہر شادی شدہ جوڑے کی زندگی کا لازمی حصہ ہوتی ہے لیکن ان فرائض کی ادائیگی کتنی باقاعدگی سے کی جاتی ہے اس کا انحصار ہر جوڑے کے اپنے موڈ اور مزاج پر ہوتا ہے۔ جسمانی صحت اور ازدواجی مسرت کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ازدواجی فرائض کی ادائیگی ہفتے میں کم از کم دو بار ضرور ہونی چاہئیے۔

یہ ماہرین صحت کی رائے ہے، جن کا کہنا ہے کہ ہفتے میں کم از کم دو بار ازدواجی فرائض کی ادائیگی کے فوائد حیرتناک ہیں۔ ویب سائٹ دی پلنگ کی ایک رپورٹ میں ان فوائد کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے ازدواجی فرائض کی ادائیگی کرتے ہیں ان کے جسم میں اینٹی باڈی ”امیونو گلوبن اے“ کی مقدار کافی زیادہ پائی جاتی ہے۔ یہ اینٹی باڈی ہمارے جسم کو وائرس اور بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بے شمار مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ازدواجی فرائض کی باقاعدگی سے ادائیگی بالکل اسی طرح ہے جیسے آپ ایک اچھی ورزش کو اپنی روزمرہ روٹین کا حصہ بنالیں۔ ا س کے دوران جسم کے مختلف مسلز کی بہترین ورزش ہوجاتی ہے، اعضاءکو غیر معمولی توانائی صرف کرنے کا موقع ملتا ہے، اور جسم کا ہر حصہ کسی ناکسی صورت ایک مشقت کی کیفیت سے گزرتا ہے، جس کا جسمانی صحت پر بہت اچھا اثر مرتب ہوتا ہے۔ ازدواجی فرائض کی بکثرت ادائیگی دل کی صحت کیلئے بھی بہترین قرار دی گئی ہے۔ حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے ازدواجی فرائض کی ادائیگی کرنے والوں میں دل کے دورے کا خطرہ تقریباً 50 فیصد کم ہو جاتا ہے۔ یونیورسٹی آف شکاگو کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے ۔

کہ باقاعدگی سے ازدواجی فرائض کی ادائیگی صرف جسمانی صحت کیلئے ہی نہیں بلکہ ذہنی صحت کیلئے بھی بہت اچھی ہے۔ یہ آپ کے موڈ کو خوشگوار کردیتی ہے اور میاں بیوی کی باہمی محبت میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ فرائض کی ادائیگی کے دوران خارج ہونے والا ہارمون آکسیٹوسن ہے جو مسرت، جوش و جذبے اور پیار و محبت کے جذبات پید اکرتا ہے۔ ازدواجی فرائض کی باقاعدگی سے ادائیگی کے نتیجے میں آپ کو ذہنی پریشانی اور دباﺅ سے بھی نجات ملتی ہے جبکہ نیند بھرپور اور انتہائی پرسکون آتی ہے۔ اسی طرح ازدواجی فرائض کی باقاعدگی سے ادائیگی کرنے والے مردوں میں پراسٹیٹ کینسر کا خدشہ بھی نسبتاً کم پایا جاتا ہے۔ بڑھاپے میں بھی ان مردوں کی صحت اچھی رہتی ہے اور یہ چاق و چوبند بھی رہتے ہیں۔ اگر شوہر اپنی بیوی کو روزے کی حالت میں جماع کرنے پر مجبور کرتا ہے، جبکہ اس کی بیوی کو اس عمل کی شرعی سزا کا علم نہیں اور اس کی اسلامی تعلیمات سے بہت کم آگہی ہے اور شوہر بھی جاہل ہو تو کیا اس صورت میں عورت کو گنہگار ہوگی۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں‌ وضاحت کریں؟ کیا روزے کے حالت میں بیوی کے پاس جانے چاہئے؟ یہ جاننے کے لیے اس اردو کے نیچے ویڈیو میں دیکھیں یا ایک اردو کا آرٹیکل ہوگا اس کو پڑھیں اور دوسروں کے ساتھ شیئر بھی کریں دوسروں کے ساتھ علم شیئر کرنا چاہئے اس لیے شیئر لازمی۔ جواب: بنیادی مسائلِ زندگی کو جاننا بطور مسلمان ہمارا پہلا فریضہ ہے۔ کم از کم ہمیں پاکی اور ناپاکی کے مسائل سے لازماً آگاہ ہونا چاہیے۔ یہی وہ فرق ہے جس سے انسان اور جانور میں امتیاز ہوتا ہے۔ بہرحال اگر میاں بیوی فرض روزے کی حالت میں رضا مندی سے جماع کر لیں تو ان پر قضاء اور کفارہ دونوں لازم آئیں گے۔ اگر خاوند زبردستی دخول کردے تو خاوند پر قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے اور بیوی پر صرف قضاء ہوگی۔

About Admin

Check Also

’میری شادی اس 60 سالہ بوڑھے سے کرادی گئی، سہاگ رات پر اس کی توقع کے مطابق خون نہ نکلا تو۔۔۔‘

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) رقم کے لالچ میں امیر ہوس پرست بوڑھوں کو کم سن بیٹیاں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *